TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں

Chapter 28 of ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 28 of 29 · 6 Hadith
۔ (۴۷۷۱)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُ عَلَیْنَا (وَفِيْ رِوَایَۃٍ یُخَالِطُنَا)، وَکَانَ لِيْ أَخٌ صَغِیْرٌ (وَفِيْ لَفْظٍ کَانَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضَاحِکُہُ) وَکَانَ لَہُ نُغَیْرٌ یَلْعَبُ بِہِ، فَمَاتَ نُغَرُہُ الَّذِيْ کَانَ یَلْعَبُ بِہِ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ، فَرَاَہُ حَزِیْنًا فَقَالَ: ((مَا شَأْنُ أَبِيْ عُمَیْرٍ حَزِیْنًا؟)) فَقَالُوْا: مَاتَ نُغَرُہُ الَّذِيْ کَانَ یَلْعَبُ بِہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُغَیْرُ؟ أَبَا عُمَیْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ؟۔)) (مسند أحمد: ۱۴۱۱۷)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے، میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ ہنستے تھے، اس کا ایک منّا سا چڑیا کا بچہ تھا، وہ اس کے ساتھ کھیلتا تھا، ایک دن اس کا وہ بچہ مر گیا، جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن تشریف لائے اور میرے بھائی کو غمزدہ دیکھ کر فرمایا: ابو عمیر کو کیا ہوا، غمزدہ نظر آ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا وہ چڑیا کا بچہ مر گیا ہے، جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟ اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟
Takhreej
(۴۷۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۶۴، ۵۷۳۵، ومسلم: ۴۰۰۳(انظر: ۱۴۰۷۱)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے کو کنیت کے ساتھ پکارا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بچے کا دل بہلانے کے لیے نُغَر کو نُغَیْر کہہ رہے ہیں، یہ حسن اخلاق کا خوبصورت انداز ہے۔
4771
Sahih
۔ (۴۷۷۲)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَ عَلِيٌّ رَفِیْقَیْنِ فِيْ غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعُشَیْرَۃِ، قَالَ: فَاضْطَجَعْنَا فِيْ صَوْرٍ مِنَ النَّحْلِ فِيْ دَقْعَائَ مِنَ التُّرَابِ، فَنِمْنَا، فَوَ اللّٰہ مَا أَھَبَّنَا إِلا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَرِّکُنَا بِرِجْلِہِ وَ قَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْکَ الدَّقْعَائِ، فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِيٍّ: ((یَا أَبَا تُرَابٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۱۱)
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ ذات العشیرہ میں ایک دوسرے کے رفیق تھے، پس ہم چند کھجور کے درختوں کے سائے میں مٹی پر لیٹے اور سو گئے، اللہ کی قسم! ہمیں نہیں جگایا، مگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ٹانگ سے ہمیں حرکت دی، جبکہ ہم مٹی میں لت پت ہو چکے تھے، اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ابو تراب! (مٹی والے)۔
Takhreej
(۴۷۷۲) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۱۴۰(انظر: ۱۸۳۲۱)
Explanation
فوائد:… صحیحین کی حدیث میں ابوتراب کی کنیت کا واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے:
4772
Sahih
۔ (۴۷۷۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَنَّانِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا غُلامٌ بِبَقْلَۃٍ کُنْتُ أَجْتَنِیْھَا۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ایسی سبزی کے نام کے ساتھ میری کنیت رکھی، جس کو میں چنا کرتا تھا، جبکہ میں ابھی تک ایک لڑکا تھا۔
Takhreej
(۴۷۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر الجعفی، أخرجہ الترمذی: ۳۸۳۰(انظر: ۱۲۶۳۷)
Explanation
فوائد:… اس سبزی کا نام حمزہ تھا، اس کو فارسی میں ترہ تیزک کہتے ہیں، کنیت ابو حمزہ رکھی گئی۔
4773
Zaeef
۔ (۴۷۷۴)۔ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ (صُھَیْبٍ): أَنَّ صُھَیْبًا کَانَ یُکَنَّی أَبَا یَحْیٰی وَ یَقُوْلُ: إِنَّہُ مِنَ الْعَرَبِ وَ یُطْعِمُ الطَّعَامَ الْکَثِیْرَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَا صُھَیْبُ! مَا لَکَ تُکَنَّی أَبَا یَحْیٰی، وَ لَیْسَ لَکَ وَلَدٌ، وَ تَقُوْلُ: إِنَّکَ مِنَ الْعَرَبِ، وَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ الْکَثِیْرَ، وَ ذٰلِکَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ فَقَالَ صُھَیْبٌ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَنَّانِيْ أَبَا یَحْیٰی۔ (مسند أحمد: ۲۴۴۲۲)
۔ حمزہ بن صہیب سے مروی ہے کہ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی تھی اور وہ کہتے تھے کہ وہ عربوں میں سے ہیں اور وہ بڑی مقدار میں کھانا کھلاتے ہیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے صہیب! تجھے کیا ہو گیا ہے، تو نے ابو یحیی کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ تیری اولاد نہیں ہے اور تو کہتا ہے کہ تو عربوں میں سے ہے اور تو بڑی مقدار میں کھانا کھلاتا ہے، یہ تو مال میں اسراف ہے؟ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری کنیت رکھی تھی۔
Takhreej
(۴۷۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ مختصرا بقصۃ التکنی ابن ماجہ: ۳۷۳۸ (انظر: ۲۳۹۲۶)
Explanation
فوائد:… مفصل حدیث مناقب ِ صحابہ میں آئے گی۔
4774
Zaeef
۔ (۴۷۷۵)۔ عَنْ ھِشَامٍ، عَنْ أَبِیْہِ، أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! کُلُّ نِسَائِکَ لَھَا کُنْیَۃٌ غَیْرِيْ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِکْتَنِيْ أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللّٰہ (وَفِيْ لَفْظٍ، قَالَ: فَتَکَنِّي بابنِکِ عَبْدِ اللّٰہِ)۔)) فَکَانَ یُقَالُ لَھَا أُمُّ عَبْدِ اللّٰہِ حَتّٰی مَاتَتْ، وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۹۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی تمام بیویوں کی کنیتیں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ام عبد اللہ کی کنیت رکھ لو، ایک روایت میں ہے: تم اپنے بیٹے عبد اللہ کے نام پر کنیت رکھ لو۔ پس سیدہ کو وفات تک ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، جبکہ ان کی اولاد نہیں ہوئی تھی۔
Takhreej
(۴۷۷۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ أبوداود: ۴۹۷۰(انظر: ۲۵۱۸۱)
4775
Sahih
۔ (۴۷۷۶)۔ عَنْ أَبِيْ جَبِیْرَۃَ ابْنِ الضَّحَّاکِ الأَ نْصَارِيْ، عَنْ عُمُوْمَۃٍ لَہُ: قَدِمَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلاَّ لَہُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ، قَالَ: فَکَانَ إِذَا دَعَا رَجُلاً بِلَقَبِہِ قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ ھٰذَا یَکْرَہُ ھٰذَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ {وَلا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ} [الحجرات: ۱۱] (مسند أحمد: ۲۳۶۱۵)
۔ ابو جبیرہ بن ضحاک انصاری اپنے چچوں سے بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے ایک دو دو لقب تھے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی آدمی کو اس کے لقب کے ساتھ پکارتے تو ہم کہتے: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی اس لقب کو ناپسند کرتا ہے، پھر اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَلا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ} … اور کسی کو برے لقب نہ دو (سورۂ حجرات: ۱۱)
Takhreej
(۴۷۷۶) اسنادہ صحیح ان شاء اللہ، أخرجہ أبوداود: ۴۹۶۲، والترمذی: ۳۲۶۸ (انظر: ۲۳۲۲۷)
Explanation
فوائد:… استہزا اور تحقیر کے لیے لوگوں کے ایسے نام رکھ لینا جو انہیں ناپسند ہوں یا اچھے بھلے ناموں کو بگاڑ کر بولنا، یہ برے القاب کی صورتیں ہیں، اس آیت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، ادنی واعلی کی تمیز کیے بغیر وقار اور عزت و احترام ہر آدمی کا حق ہے اور وہ اس کو ملنا چاہیے، اگرچہ اشراف طبقے کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
4776
Sahih

Chapters

29
01
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
4 Hadith
02
ہدی بھیجنے والے پر وہ چیزیں حرام نہیںہوں گی ، جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں
6 Hadith
03
مذکورہ بالا مسئلے کے متعارض روایات
1 Hadith
04
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
2 Hadith
05
ہدی میں اشتراک اور ہدی میں اونٹ اور گائے کا سات سات افراد سے کفایت کرنا
11 Hadith
06
ہدی والے اونٹ پر سوار ہونے کا بیان
5 Hadith
07
ہدی کا اپنے محل تک پہنچنے سے پہلے تھک جانا
16 Hadith
08
قربانی، اس پر ابھارنااور اس کی فضیلت اور حکم
4 Hadith
09
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
10 Hadith
10
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
4 Hadith
11
جانور کی اس عمر کا بیان جو قربانی میں کفایت کرتی ہے
8 Hadith
12
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
7 Hadith
13
خصی جانور کی قربانی کرنا
3 Hadith
14
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
5 Hadith
15
ذبح کے وقت کا بیان
10 Hadith
16
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
3 Hadith
17
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
13 Hadith
18
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
19
عقیقہ، فرع اور عتیرہ کی حقیقت کا بیان
3 Hadith
20
فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
7 Hadith
21
بچے اور بچی کی طرف سے عقیقہ کرنے کا حکم
6 Hadith
22
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
5 Hadith
23
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
4 Hadith
24
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
5 Hadith
25
حسین نام رکھنے کی رغبت دلانا اور بعض فرشتوں کے ناموں کا بیان
2 Hadith
26
محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
10 Hadith
27
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
11 Hadith
28
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
6 Hadith
29
حرام اور مکروہ نام
5 Hadith
No chapter matched that.