۔ ابو شماسہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : معاویہ بن حُدَیج، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے تھے انھوں نے ان سے سوال کیا کہ وہ تو بس اپنے گھوڑے کے ساتھ ہی لگے رہتے ہیں، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ اس گھوڑے کی دعا قبول ہوتی ہے، انھوں نے کہا: چوپائیوں میں سے ایک چوپائے کی دعا کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہیں ہے کوئی گھوڑا، مگر وہ سحری کے وقت یہ دعا کرتا ہے: اے اللہ! تو نے مجھے اپنے بندوں میں ایک بندے کے سپرد کر دیا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے، اب مجھے اس کے اہل، مال اور اولاد سے بڑھ کراس کا محبوب بنا دے۔امام احمد نے کہا: عمرو بن حارث نے ابن شماسہ سے روایت لینے میں اس کی موافقت کی ہے۔
۔ معاویہ بن حُدَیج سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عربی گھوڑے کو ہر فجر کے وقت دو دعائیں کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، پس وہ کہتا ہے: اے اللہ! تو مجھے بنو آدم میں سے جس کے سپرد کرے، مجھے اس کے اہل اور مال سے بڑھ کر اس کا محبوب بنا دے۔ امام احمد نے کہا: عمر و بن حارث نے اس کی مخالفت کی اور کہا: یزید عن عبد الرحمن بن شماسۃ ، لیث نے بھی عن ابی شماسۃ کہا ہے۔