۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس لونڈی نے اپنے مالک سے بچہ جنم دیا تو وہ اس مالک کی وفات کے بعد آزاد ہو جائے گی۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنے قیدیوں کو اور امہات الاولاد کو بیچ دیا کرتے تھے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں بقید ِ حیات تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا کرتے تھے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں امہات الاولاد کو بیچ دیا کرتے تھے۔
۔ سیدہ سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدنا حباب بن عمرو رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی، مجھ سے ان کا بچہ بھی پیدا ہوا تھا، (لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو) ان کی بیوی نے مجھے کہا: اب تجھے اس کے قرضے میں بیچا جائے گا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حباب بن عمرو کے ترکہ کا سرپرست کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ان کا بھائی سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور فرمایا: تم نے اس کو بیچنا نہیں ہے، بلکہ اس کو آزاد کر دینا ہے، جب تم سنو کہ میرے پاس غلام آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تم کو اس کا عوض دوں گا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اس مسئلے میں اختلاف ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ ام الولد اپنے مالک کی وفات کے بعد لونڈی ہی رہے گی، اگر اس کا حکم لونڈی کا نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے عوض ان لوگوں کو غلام نہ دیتے، جبکہ بعض نے کہا کہ ایسی خاتون آزاد ہو جائے گی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آزاد کیا تھا۔ سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے بارے میں صحابہ کا اختلاف تھا۔