مسنداحمد

Musnad Ahmad

قسم اور نذر کے مسائل

قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان

۔ (۵۳۵۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نَذْرَ إِلَّا فِیمَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا یَمِینَ فِی قَطِیعَۃِ رَحِمٍ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۳۲)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر صرف اس چیز میں ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو تلاش کیا جائے اور قطع رحمی میں کوئی قسم نہیں ہے۔

۔ (۵۳۵۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا عِتْقَ لِابْنِ آدَمَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا طَلَاقَ لَہُ فِیمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا یَمِینَ فِیمَا لَا یَمْلِکُ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۸۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم جس چیز کا مالک نہ ہو، اس کے لیے اس میں کوئی نذر نہیں، ابن آدم کے لیے اس کی کوئی آزادی نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس میں اس کی کوئی طلاق نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی قسم نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو۔