مسنداحمد

Musnad Ahmad

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب

دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان

۔ (۵۵۹۴)۔ عَنِ ابْن جُرَیْجٍ، أَخْبَرَنِی عُبَیْدُاللّٰہِ بْنُ أَبِی یَزِیدَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَۃَ أَخْبَرَہُ عَنْ عَمِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا جَائَ مَکَانًا مِنْ دَارِ یَعْلٰی نَسِیَہُ عُبَیْدُ اللّٰہِ اسْتَقْبَلَ الْبَیْتَ فَدَعَا، قَالَ رَوْحٌ: عَنْ أَبِیہِ، وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ: عَنْ أُمِّہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۵۶۳)

۔ عبد الرحمن بن علقمہ اپنے چچے سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سیدنا یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس فلاں جگہ پر آتے تو قبلہ رخ ہو کر دعا کرتے۔ عبید اللہ راوی وہ جگہ بھول گئے تھے، ابن بکر راوی نے عبد الرحمن کے چچا کی بجائے اس کی ماں کا ذکر کیا ہے۔

۔ (۵۵۹۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُدُّ یَدَیْہِ حَتّٰی إِنِّی لَأَرٰی بَیَاضَ إِبْطَیْہِ، وَقَالَ سُلَیْمَانُ: یَعْنِی فِی الِاسْتِسْقَائِ۔ (مسند أحمد: ۷۲۱۲)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ اس قدر دراز کیے کہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، سلیمان راوی نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بارش کے لیے دعا مانگ رہے تھے۔

۔ (۵۵۹۷)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاقِفًا بِعَرَفَۃَ یَدْعُو ہٰکَذَا وَرَفَعَ یَدَیْہِ حِیَالَ ثَنْدُوَتَیْہِ، وَجَعَلَ بُطُونَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِی الْأَرْضَ۔ (مسند أحمد: ۱۱۱۰۹)

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ مقام پر کھڑے اس طرح دعا کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھوں کو سینے کے برابر اٹھا رکھا تھا اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ زمین کی طرف کیا ہوا تھا۔

۔ (۵۵۹۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا دَعَا جَعَلَ ظَاھِرَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِی وَجْھَہُ، وباطنَھما مما یلی الارض۔ (مسند أحمد: ۱۲۲۶۴)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب دعا کرتے توہتھیلیوں کی پشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کی طرف ہوتی اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے۔

۔ (۵۵۹۹)۔ عَنْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَہُمْ قَالَ: لَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی شَیْئٍ مِنْ دُعَائِہِ، وَقَالَ یَحْیٰی مَرَّۃً: مِنَ الدُّعَائِ إِلَّا فِی الِاسْتِسْقَائِ، فَإِنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُرٰی بَیَاضُ إِبِطَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۸۹۸)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، ما سوائے بارش مانگنے کے، اس موقع پر تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر ہاتھوں کو بلند کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔

۔ (۵۶۰۰)۔ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا سَأَلَ جَعَلَ بَاطِنَ کَفَّیْہِ إِلَیْہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: اِلٰی وَجْہِہِ) وَإِذَا اسْتَعَاذَ جَعَلَ ظَاہِرَہُمَا إِلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۸۰)

۔ سیدنا خلاد بن سائب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب سوال کرتے تھے تو اپنی ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرے کی طرف کرتے اور جب پناہ مانگتے تھے تو ہتھیلیوں کی پشت چہرے کی طرف کرتے تھے۔

۔ (۵۶۰۱)۔ عن عَطَاء قَالَ: قَالَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کُنْتُ رَدِیفَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَاتٍ، فَرَفَعَ یَدَیْہِ یَدْعُو فَمَالَتْ بِہِ نَاقَتُہُ فَسَقَطَ خِطَامُہَا، قَالَ: فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدٰی یَدَیْہِ وَہُوَ رَافِعٌ یَدَہُ الْأُخْرَیََٰ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۶۵)

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفات کے مقام پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ردیف تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کرنے کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اونٹنی کے ایک طرف جھکنے کی وجہ سے اس کی لگام گر گئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہاتھ سے لگام کو پکڑا، جبکہ دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رکھا۔

۔ (۵۶۰۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَاہِرًا یَدَیْہِ قَطُّ یَدْعُو عَلٰی مِنْبَرٍ وَلَا غَیْرِہِ، مَا کَانَ یَدْعُو إِلَّا یَضَعُ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ وَیُشِیرُ بِأُصْبُعِہِ إِشَارَۃً۔ (مسند أحمد: ۲۳۲۴۳)

۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مبالغہ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہو، نہ منبر پر دیکھا اور نہ کسی اور موقع پر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح دعا کرتے تھے کہ اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھ دیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔

۔ (۵۶۰۳)۔ عن سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ الْأَسْلَمِیّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَسْتَفْتِحُ دُعَائً إِلَّا اسْتَفْتَحَہُ بِسُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۶۳)

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی دعا کرنا شروع کرتے، اس کا آغاز ان الفاظ سے کرتے: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ (پاک ہے میرا ربّ، جو بلند و بالاہے، بلند رتبہ ہے اور عطا کرنے والا ہے)۔

۔ (۵۶۰۴)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا دَعَا فَرَفَعَ یَدَیْہِ مَسَحَ وَجْھَہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۰۷)

۔ سیدنا یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب دعا کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور پھر (آخر میں) ان کو اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔