مسنداحمد

Musnad Ahmad

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب

اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان

۔ (۵۶۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ فَلَا یَقُولَنَّ: اَللّٰھُمَّ إِنْ شِئْتَ، وَلٰکِنْ لِیُعْظِمْ رَغْبَتَہُ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَتَعَاظَمُ عَلَیْہِ شَیْئٌ أَعْطَاہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۰۲)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دعا کرے تو وہ اس طرح نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو ایسا کر دے، بلکہ وہ اپنی رغبت پر زور دے (اور اصرار کے ساتھ دعا کرے)، کیونکہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے دشوار اور بڑی نہیں ہے۔

۔ (۵۶۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی إِنْ شِئْتَ، اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِی إِنْ شِئْتَ، وَلٰکِنْ لِیَعْزِمِ الْمَسْأَلَۃَ فَإِنَّہُ لَا مُکْرِہَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۶۹)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ہر گز اس طرح دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہو تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ وہ اصرار کے ساتھ اپنا سوال پیش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

۔ (۵۶۱۳)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُ الْعَبْدُ بِخَیْرٍ مَا لَمْ یَسْتَعْجِلْ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ یَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ: ((یَقُوْلُ: دَعَوْتُ رَبِّیْ فَلَمْ یَسْتَجِبْ لِیْ)) (مسند أحمد: ۱۳۰۳۹)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ تک جلدی نہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ جلدی کیسے کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔

۔ (۵۶۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہٗ یُسْتَجَابُ لِاَحَدِکُمْ مَالَمْ یُعَجِّلْ فَیَقُوْلُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّیْ فَلَمْ یَسْتَجِبْ لِیْ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۳۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ کرے، جلدی کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔

۔ (۵۶۱۵)۔ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ لِابْنِ أَبِی السَّائِبِ قَاصِّ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ثَلَاثًا لَتُبَایِعَنِّی عَلَیْہِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّکَ، فَقَالَ: مَا ہُنَّ بَلْ أَنَا أُبَایِعُکِ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَائِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ کَانُوا لَا یَفْعَلُونَ ذٰلِکَ، وَقَالَ إِسْمَاعِیلُ مَرَّۃً: فَقَالَتْ: إِنِّی عَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ وَہُمْ لَا یَفْعَلُونَ ذَاکَ، وَقُصَّ عَلَی النَّاسِ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، فَإِنْ أَبَیْتَ فَثِنْتَیْنِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَثَلَاثًا، فَلَا تُمِلَّ النَّاسَ ہٰذَا الْکِتَابَ، وَلَا أُلْفِیَنَّکَ تَأْتِی الْقَوْمَ وَہُمْ فِی حَدِیثٍ مِنْ حَدِیثِہِمْ فَتَقْطَعُ عَلَیْہِمْ حَدِیثَہُمْ، وَلٰکِنْ اتْرُکْہُمْ فَإِذَا جَرَّئُ وْکَ عَلَیْہِ، وَأَمَرُوکَ بِہِ فَحَدِّثْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۶۳۴۰)

۔ امام شعبی سے مروی ہے، سیدہ عائشہ نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابی سائب سے کہا: تین چیزوںکو یاد رکھ، تو ان پر ضرور ضرور میری بیعت کرے گا، یا میں تجھ سے جھگڑوں گی، اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ کون سی چیزیں ہیں، میں بالکل آپ کی بیعت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱) دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کر، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں پایا، (۲) ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کرو، اگر تم انکار کرو تو دو بار کر دو، اگر تم یہ بات بھی نہ مانو تو تین بار کر دو، لیکن لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس طرح کرتے ہوئے نہ پاؤں کہ تو کچھ لوگوں کے پاس جائے، جبکہ وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تو ان کی بات کو کاٹ دے، بلکہ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے، ہاں اگر وہ تجھ سے مطالبہ کریں اور تجھے حکم دیں تو تب ان سے گفتگو کر۔