۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دعا کرے تو وہ اس طرح نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو ایسا کر دے، بلکہ وہ اپنی رغبت پر زور دے (اور اصرار کے ساتھ دعا کرے)، کیونکہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے دشوار اور بڑی نہیں ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ہر گز اس طرح دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہو تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ وہ اصرار کے ساتھ اپنا سوال پیش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ خیر و بھلائی کے ساتھ رہتا ہے، جبکہ تک جلدی نہ کرے۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ جلدی کیسے کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ جلدی نہ کرے، جلدی کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے اپنے ربّ سے دعا کی، لیکن اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
۔ امام شعبی سے مروی ہے، سیدہ عائشہ نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابی سائب سے کہا: تین چیزوںکو یاد رکھ، تو ان پر ضرور ضرور میری بیعت کرے گا، یا میں تجھ سے جھگڑوں گی، اس نے کہا: اے ام المؤمنین! وہ کون سی چیزیں ہیں، میں بالکل آپ کی بیعت کروں گا، سیدہ نے کہا: (۱) دعا میں قافیہ بندی سے اجتناب کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ اسماعیل راوی کے الفاظ یہ ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں پایا، (۲) ہفتہ میں ایک بار لوگوں کو وعظ کرو، اگر تم انکار کرو تو دو بار کر دو، اگر تم یہ بات بھی نہ مانو تو تین بار کر دو، لیکن لوگوں کو اس کتاب سے اکتا نہ دینا، اور (۳) میں تجھے اس طرح کرتے ہوئے نہ پاؤں کہ تو کچھ لوگوں کے پاس جائے، جبکہ وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تو ان کی بات کو کاٹ دے، بلکہ تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دے، ہاں اگر وہ تجھ سے مطالبہ کریں اور تجھے حکم دیں تو تب ان سے گفتگو کر۔