۔ سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مچھلی والے کی دعا، جبکہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے، یہ ہے:{لَا اِلٰہَ … مِنَ الظَّالِمِینَ} (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر تو ہی، تو پاک ہے، بیشک میںظالموں میں سے ہوں)۔ جو مسلمان بھی جس چیز میں اس دعا کے ذریعے اپنے ربّ کو پکارے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پکار قبول کرے گا۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ یہ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے قبول کیا جا چکا ہے، پس سوال کر۔
۔ سیدنا ربیعہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِکے ساتھ چمٹ جاؤ۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو عیاش زید بن صامت زرقی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ نماز ادا کر رہے تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ! (اے اللہ! میں تجھ سے اس وجہ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے لیے تعریف ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، اے احسان کرنے والے! اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے!) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا کہ جب اس کے واسطے سے اس کو پکارا جائے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا تھا، ساتھ ہی ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا اور بیٹھ کر تشہد پڑھا تو پھر یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ… إِنِّی أَسْأَلُکَ(اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس بنا پر سوال کرتا ہوں کہ ساری تعریف تیرے لیے ہے، تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، تو بے حد مہربان ہے، اے آسمانوں اور زمین کے مُوجِد! اے جلال و اکرام والے! اے زندہ! اے قائم رکھنے والے! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہے کہ اس آدمی نے کیا دعا کی ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ تعالیٰ سے اس کے ایسے اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے کہ جب اس کو اس کے واسطے سے پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے اور جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کلمات ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی …… وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (اے اللہ! میں تجھ کو یہ واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک تو وہ اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو یکتا و یگانہ اور بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنم دیا گیا اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے اسم اعظم کے واسطے سے پکارا ہے کہ جب اس سے اس کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے اور جب اس کو پکارا جاتا ہے تو وہ قبول کرتا ہے۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} اور {الٓمٓ۔ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} ان دوآیتوں میں اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم کا ذکر ہے۔