مسنداحمد

Musnad Ahmad

دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب

ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً

۔ (۵۶۵۱۔) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ قَالَ: سَأَلَ قَتَادَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَسًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَیُّ دَعْوَۃٍ کَانَ أَکْثَرَ یَدْعُو بِہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کَانَ أَکْثَرُ دَعْوَۃٍ یَدْعُو بِہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔)) وَکَانَ أَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْعُوَ بِدَعْوَۃٍ دَعَا بِہَا وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَدْعُوَ بِدُعَائٍ دَعَا بِہَا فِیہِ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۰۴)

۔ عبد العزیز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: امام قتادہ نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دعا کو سب سے زیادہ پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا کر دے اور آخرت میں بھی اچھائی عطا کر دینا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا)۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود جب کوئی مختصر دعا کرتے یا طویل دعا کرتے، وہ یہ دعا ضرور کرتے تھے۔

۔ (۵۶۵۲۔) عَنْ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَادَ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِینَ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَلْ کُنْتَ تَدْعُو بِشَیْئٍ أَوْ تَسْأَلُہُ إِیَّاہُ)) قَالَ: نَعَمْ، کُنْتُ أَقُولُ: اَللّٰھُمَّ مَا کُنْتَ مُعَاقِبِی بِہِ فِی الْآخِرَۃِ فَعَجِّلْہُ لِی فِی الدُّنْیَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سُبْحَانَ اللّٰہِ لَا تُطِیقُہُ وَلَا تَسْتَطِیعُہُ، فَہَلَّا قُلْتَ: اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)) قَالَ: فَدَعَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَشَفَاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۷۲)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مسلمان کی تیماری داری کی، وہ پرندے کے اس بچے کی طرح ہو چکا تھا، جو ابھی انڈے سے نکلا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو کوئی دعا یا سوال بھی کرتا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں یہ دعا کرتا تھا: اے اللہ! تو نے مجھے آخرت میںجو سزا دینی ہے، وہ دنیا میں ہی دے دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِ (بڑا تعجب ہے تجھ پر)، تجھے اس چیز کی طاقت و قدرت حاصل نہیں ہے، تو نے یہ دعا کیوں نہ کی: اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی۔