مسنداحمد

Musnad Ahmad

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے

۔ (۴۸۱)۔ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَمْشِیْ فَمَالَ اِلٰی دَمْثٍ فِیْ جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ: ((کَانَ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ اِذَا بَالَ أَحَدُہُمْ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ مِنْ بَوْلِہِ تَتَبَّعَہُ فَقَرَضَہُ بِالْمَقَارِیْضِ۔)) وقَالَ: ((اِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ أَنْ یَبُوْلَ فَلْیَرْتَدْ لِبَوْلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۶۶)

سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چل رہے تھے، پس ایک دیوار کے پہلو میں نرم جگہ کی طرف مائل ہوئے اور وہاں پیشاب کیا اور پھر فرمایا: جب بنو اسرائیل کا کوئی آدمی پیشاب کرتا اوراگر پیشاب اس کو لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچیوں سے کاٹتا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس لیے جب تم میں سے کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ نرم جگہ تلاش کر لیا کرے۔

۔ (۴۸۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِتَّقُوْا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ۔)) قِیْلَ: مَا الْمَلَاعِنُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَنْ یَقْعُدَ أَحَدُکُمْ فِیْ ظِلٍّ یُسْتَظَلُّ فِیْہِ أَوْ فِیْ طَرِیْقٍ أَوْ فِیْ نَقْعِ الْمَائِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۵)

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لعنت والے تین مقامات سے بچو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت والے مقامات کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس سائے کو استعمال کیا جاتا ہو، اس میں یا راستے میں یا پانی کے گھاٹ میں پیشاب کرنا۔

۔ (۴۸۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِتَّقُوْا اللَّعَّانَیْنِ۔)) قَالُوْا: وَمَا اللَّعَّانَانِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلَّذِیْ یَتَخَّلَّی فِیْ طَرِیْقِ النَّاسِ أَوْ فِیْ ظِلِّہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۰)

سیدناابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو لعنت کرنے والی چیزوں سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ لعنت کرنے والی چیزیں کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی لوگوں کے راستے میں یا سائے میں قضائے حاجت کرتا ہے۔