مسنداحمد

Musnad Ahmad

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا بیان

۔ (۴۸۸)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِؓ قَالَ: بَلَغَہُ أَنَّ أَبَا مُوْسٰی کَانَ یَبُوْلُ فِیْ قَارُوْرَۃٍ وَیَقُوْلُ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ کَانُوْا اِذَا أَصَابَ أَحَدَ ہُمُ الْبَوْلُ قَرَضَ مَکَانَہُ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: وَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَکُمْ لَا یُشَدِّدُ ھٰذَا التَّشْدِیْدَ، لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ نَتَمَاشٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْتَہَیْنَا اِلَی سُبَاطَۃٍ فَقَامَ یَبُوْلُ کَمَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ، فَذَہَبْتُ أَتَنَحّٰی عَنْہُ، فَقَالَ: ((أُدْنُہُ۔)) فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی کُنْتُ عِنْدَ عَقِبِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۷)

سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابو موسی ؓ(پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے) ایک شیشی میں پیشاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب بنو اسرائیل کے کسی فرد کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کوکاٹتا تھا، توا نھوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تمہارا یہ ساتھی اس قدر سختی نہ کرے، میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل رہا تھا، پس جب ہم کوڑا کرکٹ والی ایک جگہ کے پاس پہنچے تو تمہاری طرح ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں یہ دیکھ کر دور ہٹنا شروع ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہو گیا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔

۔ (۴۸۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ أُخْرٰی)۔ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِیْ شَقِیْقٌ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ: کُنْتَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ طَرِیْقٍ فَتَنَحّٰی فَأَتٰی سُبَاطَۃَ قَوْمٍ فَتَبَاعَدْتُّ مِنْہُ، فَأَدْنَانِیْ حَتَّی صِرْتُ مِنْ عَقِبَیْہِ فَبَالَ قَائِمًا وَدَعَا بِمَائٍ فتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۳۰)

۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک راستے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ذرا ہٹ کر ایک قوم کے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس آگئے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے دور ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے اپنے قریب کر لیا، یہاں تک کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا اور پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔

۔ (۴۹۰)۔عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی سُبَاطَۃِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، قَالَ حَمّادُ بْنُ أَبِیْ سُلَیْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۱)

سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک قوم کے گندگی والے ڈھیر پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ حماد بن ابی سلیمان نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی ٹانگوں کو کھلا کیا۔

۔ (۴۹۱)۔عَنِ الْمِقْدَامِ عن أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْہُ، مَا بَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَائِمًا مُنْذُ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۵۵۹)

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جو آدمی تجھے یہ بات بیان کرے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو پیشاب کیا ہے تو تو اس کی تصدیق نہ کر، کیونکہ جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قرآن کا نزول شروع ہوا، اس وقت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔