مسنداحمد

Musnad Ahmad

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

قضائے حاجت کے وقت دور جانے، کھلی جگہ میں پردہ کرنے اور اِس وقت کلام اور سلام کے جواب سے رکے رہنے کا بیان


۔ (۴۹۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ قُرَادٍؓ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجًّا فَرَأَیْتُہُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ فَاتَّبَعْتُہُ بِالْاِدَاوَۃِ أَوِ الْقَدَحِ، فَجَلَسْتُ لَہُ بِالطَّرِیْقِ وَکَانَ اِذَا أَتٰی حَاجَتَہُ أَبْعَدَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۱۳۴)

سیدنا عبدالرحمن بن ابو قرادؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نکلا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ حج کے لیے جا رہے تھے، پس جب میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیت الخلاء سے نکلے تو میں پانی کے برتن کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے چل پڑا اور راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے بیٹھ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جایا کرتے تھے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۷، وابن ماجہ: ۳۳۴ (انظر: ۱۷۹۷۱)