مسنداحمد

Musnad Ahmad

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان

۔ (۵۰۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّبَیْدِیِّؓ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمیَقُوْلُ: ((لَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔)) وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۵۲)

سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں پہلا آدمی ہوں، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی آدمی قبلہ رخ ہو کر پیشاب نہ کرے۔ اور میں پہلا آدمی ہوں، جس نے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی۔

۔ (۵۰۷)۔عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِیْ مَعْقِلِ الْأَسْدِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہَی أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَیْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۹۲)

سیدنا معقل بن ابو معقل اسدیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب یا پائخانہ کرتے وقت دو قبلوں کی طرف منہ کریں۔

۔ (۵۰۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ أَبِیْ أَیُوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا أَتٰی أَحَدُکُمُ الْغَائِطَ فَلَا یَسْتَقْبِلَنَّ الْقِبْلَۃَ وَلَکِنْ لِیُشَرِّقْ أَوْ لِیُغَرِّبْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِیْضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُاللّٰہَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۲۱)

سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہم شام میں آئے تو دیکھا کہ طہارت خانے قبلہ رخ بنائے گئے تھے،پس ہم پھر جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے تھے۔

۔ (۵۱۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، اِذَا أَتَیْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْہَا)) وَنَہٰی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ ((وَلَا یَسْتَطِیْبُ الرَّجُلُ بِیَمِیْنِہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۲)

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کیا کرو اور نہ پیٹھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے (استنجا میں) لید اور بوسیدہ ہڈی استعمال کرنے سے منع کیا اور نیز فرمایا: آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔

۔ (۵۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ سَلْمَانِ الْفَارِسِیِّؓ قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِکِیْنَ وَہُمْ یَسْتَہْزِئُوْنَ بِہِ: اِنَّی لَأَرٰی صَاحِبَکُمْ یُعَلِّمُکُمْ حَتَّی الْخِرَائَۃَ، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، أَمَرَ نَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا نَسْتَدْبِرَہَا) وَلَا نَسْتَنْجِیَ بِأَیْمَانِنَا وَلَا نَکْتَفِیَ بِدُوْنِ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ لَیْسَ فِیْھَا رَجِیْعٌ وَلَا عَظْمٌ۔ (مسند أحمد:۲۴۱۰۳)

سیدنا سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ کسی مشرک نے مذاق کرتے ہوئے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا نبی تو تم لوگوں کو قضائے حاجت کے آداب تک کی تعلیم دیتا ہے۔ سیدنا سلمان ؓ نے کہا: جی بالکل، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف منہ نہ کریں اور نہ پیٹھ اور دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں اور ان میں کوئی لید، گوبر اور ہڈی نہیں ہونی چاہیے۔