سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت کرتے ہوئے) دیکھا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن سیدہ حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کر رہے تھے۔
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرم گاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں ہوا، لیکن عراک بن مالک نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لیٹرین کو قبلہ رخ کرکے بنا دیا جائے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔