TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمارتوںمیں اس چیز کے جواز کا بیان - عمارتوںمیں اس چیز کے جواز کا بیان - قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 9 · 6 Hadith
۔ (۵۱۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃَ أَوْ أَنْ نَسْتَقْبِلَہَا بِفُرُوْجِنَا اِذَا أَہْرَقْنَا الْمَائَ، قَالَ: ثُمَّ رَأَیْتُہُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِعَامٍ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۴۹۳۳)
سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ یا منہ کرنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی وفات سے ایک سال قبل قبلہ کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت کرتے ہوئے) دیکھا۔
Takhreej
(۵۱۲) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۳، وابن ماجہ: ۳۲۵، والترمذی: ۹(انظر: ۱۴۸۷۲)
512
Sahih
۔ (۵۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَقِیْتُ یَوْمًا فَوْقَ بَیْتِ حَفْصَۃَ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی حَاجَتِہِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَالْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۴۶۰۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن سیدہ حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ شام کی طرف منہ کر کے اور قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Takhreej
(۵۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۸، ۳۱۰۲، ومسلم: ۲۶۶(انظر: ۴۶۰۶)
513
Sahih
۔ (۵۱۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِلَفْظِ)۔ لقَدْ ظَہَرْتُ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی ظَہْرِ بَیْتِنَا فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَاعِدًا عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلًا بَیْتَ الْمَقْدِسِ۔ (مسند أحمد: ۴۹۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Takhreej
(۵۱۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
514
Sahih
۔ (۵۱۵)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلّٰی عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۵۷۴۷)
سیدنا ابن عمرؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ دو اینٹوں پر بیٹھ کر اور قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کر رہے تھے۔
Takhreej
(۵۱۵) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۳ (انظر: ۵۷۴۷)
515
Sahih
۔ (۵۱۶)۔ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَؓ، أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبُوْلُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ، قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِیْ: ثَنَا اِسْحٰقُ یَعْنِی الطَّبَّاعَ مِثْلَہُ، قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَبُوْ قَتَادَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۲۸)
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۵۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل ابن لھیعۃ، وصح من غیر ھذا الطریق عن جابر بن عبد اللّٰہؓ من حدیثہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۰(انظر: ۲۲۵۶۰)
516
Zaeef
۔ (۵۱۷)۔ عَنْ عُمَرَبْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ أَنَّہُ قَالَ: مَااسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَۃَ بِفَرْجِیْ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ عَائِشَۃَؓ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِخَلاَئِہِ أَنْ یُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ یَکْرَہُوْنَ ذٰلِکَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((قَدْفَعَلُوْہَا؟ اِسْتَقْبِلُوْا بِمَقْعَدَتِی الْقِبْلَۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۰۱۵)
عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرم گاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں ہوا، لیکن عراک بن مالک نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کویہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی لیٹرین کو قبلہ رخ کرکے بنا دیا جائے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔
Takhreej
(۵۱۷) تخریج: اسنادہ ضعیف علی نکارۃ فیہ، خالد بن ابی الصلت ضعیف، وفی ھذا الحدیث اضطراب ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۴(انظر: ۲۵۵۰۰)
Explanation
فوائد:…اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قضائے حاجت کے دوران قبلہ کی طرف منہ بھی کیا ہے اور پیٹھ بھی، جبکہ پچھلے باب کی احادیث میں ایسا کرنے سے منع کیا ہے، اس ظاہری تناقض کودور کرنے کے لیے کافی ساری آراء جمع ہو گئی ہیں، راجح مسلک یہ ہے کہ اس حالت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرنا مستحب ہے، اگر کوئی مجبوری بن جائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی فعلی رخصت پر عمل کر لینا چاہیے۔ دو احادیث میں عمارتوں کی قید نہیں ہے، اس لیے تمام روایات کو عمارتوں پر محمول کر لینا درست نہیں۔
517
Zaeef