مسنداحمد

Musnad Ahmad

ودیعت اور عاریہ کے مسائل

عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان

۔ (۶۱۵۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِیْنَۃِ فَاسْتَعَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَسًا لَنَا یُقَالُ لَہُ: مَنْدُوْبٌ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا وَجَدْنَا مِنْ فَزَعٍ۔)) وَاِنْ وَجَدْنَاہُ لَبَحْرًا۔ قَالَ حَجَّاجٌ: یَعْنِی الْفَرَسَ۔ (مسند احمد: ۱۳۹۴۴)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف سا پیدا ہوگیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے عاریۃً ایک گھوڑا لیا، اس کو مندوب کہا جاتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپس آ کر فرمایا: کوئی خوف والی بات نہیں ہے۔ ہم نے اس گھوڑے کو (تیز رفتاری میں)سمندر پایا تھا۔

۔ (۶۱۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ((حَلْبُہَا عَلٰی الْمَائِ وَإِعَارَۃُ دَلْوِھَا وَإِعَارَۃُ فَحْلِہَا وَمَنِیْحَتُہَا وَحَمْلٌ عَلَیْہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۶)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انکا حق یہ ہے کہ ان کو پانی کے گھاٹوں پر دوہ کران کا دودھ(محتاجوں کو پلایا جائے)، ان کا برتن عاریۃً دیا جائے، جفتی کے لیے سانڈ دیا جائے، دودھ پینے کے لیے اونٹنی بطور عطیہ دی جائے اور اللہ تعالی کی راہ میں سواری کے لیے اونٹ دیئے جائیں۔