It was narrated that 'Ali said: I had certain times when I used to come to the Messenger of Allah (ﷺ). When I came to him I would ask for permission to enter. If I found him praying he would clear his throat and I would enter, and if I found him free he would give me permission (to enter).
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہو جاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔
It was narrated that 'Ali said: I had two times when I would enter upon the Messenger of Allah (ﷺ), one at night and one during the day. When I entered at night he would clear his throat (to tell me to come in).
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا ( اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے ) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ۱؎۔
Abdullah bin Nujayy narrated that his father said: Ali said to me: 'I was so close to the Messenger of Allah (ﷺ), closer than anyone else. I used to come to him at the end of every night, before dawn, and say: As-salamu 'alayka ya Nabiyy Allah (Peace be upon you, O Prophet of Allah). If he cleared his throat I would go back to my family, otherwise I would enter upon him.'
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔