It was narrated from Ibn 'Abbas that: a woman helf up a child of hers to the Messenger of Allah and said: O Messenger of Allah, is there Hajj for this one? He said: Yes, and you will be rewarded. (Sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“ ۱؎۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: A woman lifted up a child of hers from a howdah (litter) and said: 'O Messenger of Allah, is there Hajj for this one?' He said: 'Yes, and you will be rewarded.'''(sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
It was narrated that Ibn 'Abbas said: A woman lifted a child up to the Messenger of Allah and said: 'Is there Hajj for this one?' He said: 'Yes, and you will be rewarded.'''(sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah set out and when he was in Ar-Rawha he met some people and said: 'Who are you?' They said: 'Muslins.' They said: 'Who are you?' They said: 'The Messenger of Allah.' A woman brought a child out of the litter and said: 'Is there Hajj for this one?' He said Yes, and you will be rewarded.'''(Shih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: ”تم کون لوگ ہو؟“ ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: ”آپ اللہ کے رسول ہیں“، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that: the Messenger of Allah passed by a woman when she was in her seclusion and had a child with her. She said: Is there Hajj for this one?'' He said: Yes, and you will be rewarded.''(sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا“۔
Aishah said: We went out with the Messenger of Allah when there were five days left of Dhul-Qa'dah, with no intention other than to perform Hajj. When we were close to Makkah, the Messenger of Allah commanded those who did not have a Hadi (sacrificial animal) with them to exit Ihram after circumambulating the House.''
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی ( قربانی کا جانور ) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah said: The people of Al-Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-sham from Al-Juhfah, the people of Najd from Qarn. 'Abdullah said: And it was conveyed to me, that the Messenger of Allah said: 'And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.'''
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینے والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں، اور اہل شام حجفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں“۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that a man stood up in the Masjid and said: O Messenger of Allah, from where do you command us to enter Ihram?'' The Messenger of Allah Said: The people of Al-Madinah should enter Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-sham should enter Ihram from Al-Juhfah, the people of Najd should enter Ihram from Qarn.'' Ibn 'Umar said: And they say that the Messenger of Allah said: 'the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.''' And 'Ibn 'Umar used to say: I did not hear this from the Messenger of Allah.'''
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد ( نبوی ) میں کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کہاں سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، اور اہل شام حجفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ بھی ) فرمایا: ”اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں گے“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے نہیں سنا ہے۔
It was narrated from 'Aishah: That the Messenger of Allah designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al-Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-sham and Eguypt, Dhat 'Irq fro the people of al-Iraq, and Yalamlam for the people of Yemen.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو۔ اہل شام و مصر کے لیے حجفہ کو، اہل عراق کے لیے ذات عرق کو، اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی ہے۔