It was narrated that Abu Sa'eed said: When you hire a worker, tell him what his wages will be.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی مزدور سے مزدوری کراؤ تو اسے اس کی اجرت بتا دو۔
It was narrated from Al-Hasan that he disliked to hire a man without telling him what his wages would be.
حسن بصری سے روایت ہے کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی کسی آدمی سے اس کی اجرت بتائے بغیر مزدوری کرائے۔
It was narrated from Hammad -Ibn Abi Sulaiman- that he was asked about a man who hired a worker in return for food and he said: No, not until he tells him (what his wages will be).
حماد بن ابی سلیمان سے روایت ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی مزدور سے اس کے کھانے کے بدلے کام لے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ( درست نہیں ) یہاں تک کہ وہ اسے بتا دے۔
It was narrated from Hammad and Qatadah, concerning a man who said to another man: I will lease (something) from you until I reach Makkah for such and such a payment, and if I travel for a month or such and such -something that he named- I will give you such and such in addition. They did not see anything wrong with that, but they did not like it if he said: If I travel for more than a month I will deduct such and such from your lease.
حماد اور قتادہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے سلسلے میں پوچھا گیا، جس نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھ سے مکے تک کے لیے اتنے اور اتنے میں کرائے پر ( سواری ) لیتا ہوں۔ اگر میں ایک مہینہ یا اس سے کچھ زیادہ - اور اس نے فاضل مسافت کی تعیین کر دی - چلا تو تیرے لیے اتنا اور اتنا زیادہ کرایہ ہو گا۔ تو اس ( صورت ) میں انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ لیکن اس ( صورت ) کو انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ کہے کہ میں تم سے اتنے اور اتنے میں کرائے پر ( سواری ) لیتا ہوں، اب اگر مجھے ایک مہینہ سے زائد چلنا پڑا ۱؎، تو میں تمہارے کرائے میں سے اسی قدر اتنا اور اتنا کاٹ لوں گا ۲؎۔
It was narrated that Ibn Juraij said: I said to 'Ata': 'What if I hire a slave for a year in return for his food, and for another year, in return for such and such?' He said: 'There is nothing wrong with that, and you may stipulate your conditions of hiring even for a few days.' 'How about if I make a deal to hire him when part of the year has passed?' He said: 'Do not hold me to account for what has passed.'
ابن جریج کہتے ہںي کہ میں نے عطا سے کہا: اگر میں ایک غلام کو ایک سال کھانے کے بدلے اور ایک سال تک اتنے اور اتنے مال کے بدلے نوکر رکھوں ( تو کیا حکم ہے ) ؟ انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں، اور جب تم اسے اجرت ( مزدوری ) پر رکھو تو اس کے لیے تمہارا اس وقت اتنا کہنا کافی ہے کہ اتنے دنوں تک اجرت ( مزدوری ) پر رکھوں گا۔ ( ابن جریج نے کہا ) یا اگر میں نے اجرت ( مزدوری ) پر رکھا اور سال کے کچھ دن گزر گئے ہوں؟ عطاء نے کہا: تم گزرے ہوئے دن کو شمار نہیں کرو گے۔