TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4446 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 7 in this chapter
باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا .
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah cursed those who take anything that has a soul as a target. (Sahih )
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت بھیجی جس نے ایسی چیز کو نشانہ بنایا جو جاندار ہو ۱؎۔
4446
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4441 In-book reference : Book 43, Hadith 81 English translation : Vol. 5, Book 43, Hadith 4446
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4441
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصید ۲۵ (۵۵۱۵)، صحیح مسلم/الصید ۱۱(۱۹۵۸)، (تحفة الأشراف: ۷۰۵۴)، مسند احمد ۱/۳۳۸ و۲/۱۳، ۴۳، ۶۰، ۸۶، ۱۰۳، ۱۴۱)، سنن الدارمی/الأضاحی ۱۳ (۲۰۱۶)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : یعنی نشانہ بازی کے مقصد سے نشانہ بنایا۔

Related Chapters

290
1
جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے اور مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
2
(25) CHAPTER. What is dislike of Al-Muthla, Al-Masbura, and Mujaththama.
زندہ جانور کے پاؤں وغیرہ کاٹنا یا اسے بند کر کے تیر مارنا یا باندھ کر اسے تیروں کا نشانہ بنا نا جائز نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
3
Chapter: The prohibition of cornering animals in order to kill them (for sport)
جانوروں کو باندھ کرمارنے کی ممانعت
Sahih Muslim
4
Chapter: The Prohibition Of Striking Or Branding Animals On The Face
جانوروں کے منہ پر مارنے اور داغ کر منہ پر نشانی لگا نے کی ممانعت
Sahih Muslim
5
Chapter: What Has Been Related About The Stipulation For Riding An Animal At The Time Of The Sale
باب: جانور بیچتے وقت اس پر سواری کی شرط لگا کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Dislike Of Encouraging Beasts To Fight On Another [And Striking Them Or Branding Them On The Face]
باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Consuming The Flesh Of The Jallalah And Milking It
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ کا بیان
Jam e Tirmazi
8
(136) CHAPTER. To tie the clothes and wrap them properly [in Salat (prayer)]; and whoever gathered his clothes for fear that his private parts may become exposed.
( نماز میں ) کپڑوں میں گرہ لگانا اور باندھنا کیسا ہے اور جو شخص شرمگاہ کے کھل جانے کے خوف سے کپڑے کو جسم سے لپیٹ لے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
9
(18) CHAPTER. The use of perfume while assuming Ihram. What to wear when one intends to assume Ihram. May one comb and put oil one's hair?
احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانا
Sahih Bukhari
10
(27) CHAPTER. The praising and the glorification of Allah and the saying of Takbir before reciting Talbiya, while mounting one's travelling animal.
احرام باندھتے وقت جب جانور پر سوار ہونے لگے تو لبیک سے پہلے الحمداللہ ، سبحان اللہ اللہ اکبر کہنا
Sahih Bukhari
11
(53) CHAPTER. The saddle and the stirrup of an animal.
جانور پر رکاب یا غرز لگانا
Sahih Bukhari
12
(37) CHAPTER. If a camel of some people runs away and one of them shoots it with an arrow and kills it for their own good, then it is permissibl. Rafi narrates this on the authority of the Prophet .
جب کسی قوم کا کوئی اونٹ بدک جائے اور ان میں سے کوئی شخص خیرخواہی کی نیت سے اسے تیر سے نشانہ لگا کر مار ڈالے تو جائز ہے ؟
Sahih Bukhari
13
Chapter: It is recommended to apply perfume just before entering Ihram, and it is recommended to use Musk, and it does not matter if its glistening traces remain
احرام باندھنے سے زرا پہلے جسم پر خوشبو لگانا اور کستوری استعمال کرنا مستحب ہے اور اس کی چمک ‘یعنی جگمگاہٹ باقی رہ جانے میں کوئی حرج نہیں
Sahih Muslim
14
Chapter: The prohibition of hunting game for the one who has entered Ihram for Hajj or for Umrah or for both
جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرام باندھا ہوا ہو اس کے لیے کسی کھائے جانے والے جانور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہوۃ ‘حرام ہے
Sahih Muslim
15
Chapter: What animals it is recommended for the Muhrim and others to kill inside and outside the Sanctuary
احرام باندھنے والے اور دوسرے لوگوں کےے لیے حرم کی حدود سے باہر اور اندر کن جانوروں کا قتل پسندیدہ ہے
Sahih Muslim
16
مسلمان )بھائی کی بیع پر بیع کرنا ‘اس کے سودے پر سودا بازی کرنا ‘بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانا اور جانور کے تھنوں میں دودھ روکنا حرام ہے
Sahih Muslim
17
Chapter: Permissibility of dead animals from the sea
سمندر کے مرے ہوئے جانور(کھانے) کا جواز
Sahih Muslim
18
Chapter: It is recommended to cover vessels, tie up waterskins, close doors and mention the name of Allah over them, extinguish lamps and fires when going to sleep, and keep children and animals in after maghrib
مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
19
Chapter: The Permissibility Of Branding Animals Anywhere But On The Face, And This Is Recommended In The Case Of Animals Given As Zakat Ot Jizyah
انسان کے علاوہ حیوانوں کو منہ کے علاوہ جس کے کسی اور حصے پر نشانی ثبت کرنے کا جواز زکاۃ اور جزیے میں ملنے والے جانوروں کو نشانی لگا نا (تا کہ وہ گم نہ ہو جائیں)مستحب ہے
Sahih Muslim
20
Chapter: The Prohibition Of Tormenting Cats And Other Animals That Are Not Harmful
بلی اور اس جیسے غیر موذی جانوروں کو ایذا دینے کی حرمت
Sahih Muslim
21
CHAPTER: Regarding Riding Al-Jallalah (Animals That Eat Dung And Filth).
باب: گندگی کھانے والے جانور پر سواری منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: Regarding Branding Animals.
باب: جانوروں پر نشان لگانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered.
باب: جانوروں کو بغیر کھانا پانی دئیے باندھ رکھنے کی ممانعت اور قربانی کے جانور کے ساتھ نرمی اور شفقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: What Has Been Reported About Eating The Mu’aqarah Of The Bedouins.
باب: جن جانوروں کو اعرابی بطور فخر و مباہات ذبح کریں ان کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: The prohibition of eating al Jallalah and its milk.
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Eating predators.
باب: درندہ ( پھاڑ کھانے والے جانور ) کھانے کی ممانعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Regarding animals of the sea.
باب: سمندری جانوروں کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کا گوشت کھانا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
29
زندہ جانور سے کاٹ لیے جانے والے حصے کی حرمت کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
30
باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانے کی اباحت کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: کیا جب جانور کے گلے میں ہار ڈالے تو احرام باندھے؟
Sunnan Nisai
32
باب: «جلّالہ» (گندگی اور نجاست کھانے والے جانور) کا گوشت کھانے کی ممانعت۔
Sunnan Nisai
33
باب: «جلّالہ» (گندگی کھانے والے جانور) کا دودھ پینے کی ممانعت۔
Sunnan Nisai
34
باب: «مصراۃ» (تھن باندھے جانور) کی بیع منع ہے «مصراۃ»: اس اونٹنی یا بکری کو کہتے ہیں: جس کے تھن کو باندھ دیا جاتا ہے اور دو تین دن اسے دوہنا ترک کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دودھ اکٹھا ہوتا رہتا ہے، خریدنے والا اس کا دودھ زیادہ دیکھ کر اس کی قیمت بڑھا
Sunnan Nisai
35
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Gather The Hair During Salat
باب: جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related That The Injuries Caused By The Animal Are Without Liability And The Khumus Is Due On Rikaz
باب: جانوروں کا زخم رائیگاں ہے یعنی اس میں تاوان نہیں اور مدفون مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا​
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Which Location The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کس جگہ سے احرام باندھا؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About When The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے احرام کب باندھا؟
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Mawaqit For Ihram For Each Region's People
باب: آفاقی لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی میقاتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About What Creatures The Muhrim May Kill
باب: محرم کون کون سے جانور مار سکتا ہے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Garlanding The Hadi Fr The Resident
باب: مقیم ہدی کے جانور کو قلادہ (پٹہ) پہنائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About What Is Done With The Hadi When It Is Afflicted
باب: ہدی کا جانور جب راستے میں مرنے لگے تو کیا کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Barter Animals For Animals On Credit
باب: جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Animal That Has Not Been Milked
باب: جس جانور کا دودھ تھن میں روک دیا گیا ہو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Selling Al-Muhaffalat (Animals That Have Not Been Milked)
باب: تھن میں دودھ روکے ہوئے جانور کی بیع کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Milking Livestock Without Permission Of The Owners
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Taking A Camel Or Other Animals On Loan
باب: اونٹ یا کوئی اور جانور قرض لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

4,183
Sahih Muslim
4232
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الْخَمِيسِ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ، فَقَالَ: «ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدِي»، فَتَنَازَعُوا [ص:1258] وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، وَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ، قَالَ: دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ، أُوصِيكُمْ بِثَلَاثٍ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ، قَالَ: وَسَكَتَ، عَنِ الثَّالِثَةِ، أَوْ قَالَهَا فَأُنْسِيتُهَا، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ
Sa'id b. Jubair reported that Ibn 'Abbas said: Thursday, (and then said): What is this Thursday? He then wept so much that his tears moistened the pebbles. I said: Ibn 'Abbas, what is (significant) about Thursday? He (Ibn 'Abbas) said: The illness of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took a serious turn (on this day), and he said: Come to me, so that I should write for you a document that you may not go astray after me. They (the Companions around him) disputed, and it is not meet to dispute in the presence of the Apostle. They said: How is lie (Allah's Apostle)? Has he lost his consciousness? Try to learn from him (this point). He (the Holy Prophet) said: Leave me. I am better in the state (than the one in which you are engaged). I make a will about three things: Turn out the polytheists from the territory of Arabia; show hospitality to the (foreign) delegations as I used to show them hospitality. He (the narrator) said: He (Ibn Abbas) kept silent on the third point, or he (the narrator) said: But I forgot that. This hadith was mentioned through another chain.
ہمیں سعید بن منصور ، قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔ ۔ سب نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیمان احول سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : جمعرات کا دن ، اور جمعرات کا دن کیسا تھا! پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں نے سنگریزوں کو تر کر دیا ۔ میں نے کہا : ابوعباس! جمعرات کا دن کیا تھا؟ انہون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض شدت اختیار کر گیا تو آپ نے فرمایا : "" میرے پاس ( لکھنے کا سامان ) لاؤ ، میں تمہیں ایک کتاب ( تحریر ) لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو ۔ "" تو لوگ جھگڑ پڑے ، اور کسی بھی نبی کے پاس جھگڑنا مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا : آپ کا کیا حال ہے؟ کیا آپ نے بیماری کے زیر اثر گفتگو کی ہے؟ آپ ہی سے اس کا مفہوم پوچھو! آپ نے فرمایا : "" مجھے چھوڑ دو ، میں جس حالت میں ہوں وہ بہتر ہے ۔ میں تمہیں تین چیزوں کی وصیت کرتا ہوں؛ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا اور آنے والے وفود کو اسی طرح عطیے دینا جس طرح میں انہیں دیا کرتا تھا ۔ "" ( سلیمان احول نے ) کہا : وہ ( سعید بن جبیر ) تیسری بات کہنے سے خاموش ہو گئے یا انہوں نے کہی اور میں اسے بھول گیا ۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے یہی حدیث بیان کي
Jam e Tirmazi
1044
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدٍ وَهُوَ:‏‏‏‏ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ فِي الْجَنَائِزِ حَتَّى تُوضَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ . وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ رِوَايَةُ أَرْبَعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الْحَدِيثُ نَاسِخٌ لِلْأَوَّلِ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ إِنْ شَاءَ قَامَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَقُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَامَ ثُمَّ قَعَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ:‏‏‏‏ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ مَعْنَى قَوْلِ عَلِيٍّ:‏‏‏‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ قَامَ ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ لَا يَقُومُ إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ .
Mas'ud bin Al-Hakim narrated that standing for the funeral (procession) until it is put down was mentioned, and 'Ali bin Abi Talib mentioned and 'Ali bin Abi Talib said: The Messenger of Allah (ﷺ) stood, then (later) he sat . (Sahih) There are narrations on this topic from Al-Hasan bin 'Ali, and Ibn 'Abbas. Abu Eisa said: The Hadith of 'Ali is a Hasan Sahih Hadith, regarding which there are narrations from four of the Tabi'in narrating it from each other. This is acted upon according to some of the people of knowledge. Ash-Shafi'i said: This is the most correct thing on this topic This Hadith abrogates first Hadith: Whenever you see a funeral (procession), stand up [for it]. Ahmad said: If he wants, he stands, and if he wants, he does not stand. His proof is that it has been reported that the Prophet (ﷺ) stood, then sat, and this is what Ishaq bin Ibrahim said. (Abu Eisa said:) As for the saying of 'Ali: The Prophet (ﷺ) stood for the funeral and then sat, he means that the Prophet (ﷺ) would stand when he saw a funeral (procession), then he did not do so later, so he would not stand when he saw the funeral (procession).
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک کہ وہ رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو علی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہتے تھے پھر آپ بیٹھنے لگے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس میں چار تابعین کی روایت ہے جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں، ۳- شافعی کہتے ہیں: اس باب میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ یہ حدیث پہلی حدیث ”جب تم جنازہ دیکھو، تو کھڑے ہو جاؤ“ کی ناسخ ہے، ۴- اس باب میں حسن بن علی اور ابن عباس سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۶- احمد کہتے ہیں کہ چاہے تو کھڑا ہو جائے اور چاہے تو کھڑا نہ ہو۔ انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے۔ اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۷- علی رضی الله عنہ کے قول ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر آپ بیٹھے رہنے لگے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے پھر بعد میں آپ اس سے رک گئے۔ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے ) ۔
Jam e Tirmazi
1232
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَأْتِينِي الرَّجُلُ، ‏‏‏‏‏‏يَسْأَلُنِي مِنَ الْبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي أَبْتَاعُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَبِيعُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ . قال:‏‏‏‏ وفَي البْابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللهَ بْنِ عُمَرَ.
Narrated Hakim b. Hizam: I asked Messenger of Allah (ﷺ), I said: 'A man came to me asking to buy something that I did not have. Can I buy it from the market for him and then give it to him?' He said: 'Do not sell what is not with you.' He said: There are narrations on this topic from 'Abdullah bin 'Umar.
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میرے پاس کچھ لوگ آتے ہیں اور اس چیز کو بیچنے کے لیے کہتے ہیں جو میرے پاس نہیں ہوتی، تو کیا میں اس چیز کو ان کے لیے بازار سے خرید کر لاؤں پھر فروخت کروں؟ آپ نے فرمایا: ”جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کی بیع نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے- حکم ۱۲۳۴ میں آ رہا ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Sahih Muslim
626
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنُ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: عَنْ «رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ - مَكَانَ حِينَ حَتَّى -
The son of Mughira b. Shu'ba reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went out for relieving himself. Mughira went with him carrying a jug full of water. When he (the Holy Prophet) came back after relieving himself, he poured water over him and he performed ablution and wiped over his socks; and in the narration of Ibn Rumh there is till instead of when .
مغیرہ ‌بن ‌شعبہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌اپنے ‌كام ‌كو ‌نكلے ‌ان ‌كی ‌پیچھے ‌مغیرہ ‌پانی ‌كا ‌ڈول ‌لے ‌كر ‌گۓ ‌اور ‌آپ ‌جب ‌حاجت ‌سے ‌فارغ ‌ہوۓ ‌تو ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ( ‌یعنی ‌وضو ‌كے ‌وقت ‌ ) پھر ‌وضو ‌كیا ‌اور ‌مسح ‌كیا ‌موزوں ‌پر ‌. ‌ابن ‌رمح ‌كی ‌روایت ‌میں ‌یوں ‌ہے ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ‌یہاں ‌تك ‌كہ ‌آپ ‌فارغ ‌ہوےء ‌حاجت ‌سے ( ‌یعنی ‌وضو ‌سے ‌ )
Sahih Muslim
670
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، ح، وَحَدَّثَنِي ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَمُغِيرَةَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي حَتِّ الْمَنِيِّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ
Qutaiba b. Sa'id, Ishaq b. Ibrahim, Ibn Abi 'Aruba, Abu Ma'shar, Abu Bakr b. Abu Shaiba, Mansur and Mughira have all transmitted from Ibrahim, who transmitted it on the authority of A'isha's narration pertaining to the scraping off of the (drop) of semen from the garment of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) like the hadith of Khalid on the authority of Abu Ma'shar.
( خالد کی بجائے ) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی ۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کےمتعدد دیگر شاگردوں مغیرہ ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے ابو اسود کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ ؓ سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابو معشر سے روایت ( : 668 ) ہے ۔
Sahih Muslim
902
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ فَكَانَ يَقُولُ: «التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ
Ibn `Abbas reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to teach us tashahhud just as he used to teach us a Surah of the Qur'an, and he would say: All services rendered by words, acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. In the narration of Ibn Rumh (the words are): As he would teach us the Qur'an.
امام مسلم نے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے ، انہوں نے ابو زبیر سے ، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، چنانچہ آپ فرماتے تھے : ’’بقا وبادشاہت ، عظمت و اختیار اور کثرت خیر ، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
904
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ -، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ صَلَاةً فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ؟ قَالَ فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا؟ قَالَ: مَا قُلْتُهَا، وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا، وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا. فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذْ قَالَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7]، فَقُولُوا: آمِينَ، يُجِبْكُمُ اللهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ، وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللهُ لَكُمْ، فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ «
Hattan b. `Abdullah al-Raqashi reported: I observed prayer with Abu Musa al-Ash`ari and when he was in the qa`dah, one among the people said: The prayer has been made obligatory along with piety and Zakat. He (the narrator) said: When Abu Musa had finished the prayer after salutation he turned (towards the people) and said: Who amongst you said such and such a thing? A hush fell on the people. He again said: Who amongst you has said such and such a thing? A hush fell on the people. He (Abu Musa) said: Hattan, it is perhaps you that have uttered it. He (Hattan) said No. I have not uttered it. I was afraid that you might be annoyed with me on account of this. A person amongst the people said: It was I who said it, and in this I intended nothing but good. Abu Musa said: Don't you know what you have to recite in your prayers? Verily the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) addressed us and explained to us all its aspects and taught us how to observe prayer (properly). He (the Holy Prophet) said: When you pray make your rows straight and let anyone amongst you act as your Imam. Recite the takbir when he recites it and when he recites: Not of those with whom Thou art angry, nor of those who go astray, say: Amin. Allah would respond you. And when he (the Imam) recites the takbir, you may also recite the takbir, for the Imam bows before you and raises himself before you. Then the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The one is equivalent to the other. And when he says: Allah listens to him who praises Him, you should say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise, for Allah, the Exalted and Glorious, has vouchsafed (us) through the tongue of His Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that Allah listens to him who praises Him. And when he (the Imam) recites the takbir and prostrates, you should also recite the takbir and prostrate, for the Imam prostrates before you and raises himself before you. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The one is equivalent to the other. And when he (the Imam) sits for Qa`da (for tashahhud) the first words of every one amongst you should be: All services rendered by words, acts of worship and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Apostle, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon the upright servants of Allah. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and His Messenger.
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے اور انہوں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ایک نماز پڑھی ، جب وہ قعدہ ( نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنے ) کے قریب تھے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : نماز کو نیکی اور زکاۃ کے ساتھ رکھا گیا ہے؟ جب ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے نماز پوری کر لی تو مڑے اور کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو سب لوگ مارے ہیبت کے چپ رہے ، انہوں نے پھر کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو لوگ ہیبت کے مارے پھر چپ رہے تو انہوں نے کہا : اے حطان! لگتا ہے تو نے یہ بات کہی؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں کہا ، البتہ مجھے ڈر تھا کہ آپ اس کے سبب میری سرزنش کریں گے ۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اس سے بھلائی کے سوا اور کچھ نہ چاہا تھا ۔ تو ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز میں کیسے کہنا چاہیے؟ رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ نے ہمارے لیے ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو ، پھر تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو ( مقتدی کی طرف سے رکوع میں جانےکی ) یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کا بدل ہو کی ( جو رکوع سے سر اٹھانے میں ہو گی ) اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لك الحمد کہو ، اللہ تمہاری ( بات ) سنے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اور جب امام تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کابدل ہو گی اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تمہارا پہلا بول ( یہ ) ہو : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت ، سب پاک چیزیں اور ساری دعائیں اللہ کےلیے ہیں ۔ اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
1004
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} [القيامة: 16] قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ»، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: 16] أَخْذَهُ {إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] وَقُرْآنَهُ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: 18] قَالَ: أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ {إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} [القيامة: 19] أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللهُ
Ibn 'Abbas reported with regard to the words of Allah, Great and Glorious: Move not thy tongue therewith (Ixxv. 16) that when Gabriel brought revelation to him (the Holy Prophet) he moved his tongue and lips (with a view to committing it to memory instantly). This was something hard for him and it was visible (from his face). Then Allah, the Exalted. revealed this a Move not thy tongue therewith to make haste (in memorising it). Surely on us rests the collecting of it and the reciting of it (ixxv. 16), i. e. Verily it rests with Us that We would preserve it in your heart and (enable you) to recite it You would recite it when We would recite it and so follow its recitation, and He (Allah) said: We revealed it, so listen to it attentively. Verily its exposition rests with Us. i. e. We would make it deliver by your tongue. So when Gabriel came to him (to the Holy Prophet), he kept silence, and when he went away he recited as Allah had promised him.
جریر بن عبد الحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تحرك به لسانك لتعجل به﴾ ’’آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں ۔ ‘ ‘ کے بارے میں روایت بیان کی کہا : جب جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نبیﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ ( اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے ، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ ( کے چہرے ) سے معلوم ہو جاتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ آپ اس ( وحی کے پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بے شک اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے ۔ ‘ ‘ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کو سینۂ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت ( بھی ہمارے ذمے ہے ) تاکہ آپ قراءت کریں ۔ ’’پھر جب ہم اسے پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ فرمایا : یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں ۔ ’’ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے ‘ ‘ کہ آ پ کی زبان س ( لوگوں کے سامنے ) بیان کر دیں ، پھر جب جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے پاس ( وحی لے کر ) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے ۔
Sahih Muslim
1005
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلهِ: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: 16]، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ»، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا» فَقَالَ سَعِيدٌ: «أَنَا أُحَرِّكُهُمَا كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ» فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] وَقُرْآنَهُ قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: 18] قَالَ: فَاسْتَمِعْ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ قَالَ: «فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَقْرَأَهُ»
Ibn Abbas reported with regard to the words: Do not move thy tongue there with to make haste, that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt it hard and he moved his lips. Ibn 'Abbas said to me (Sa'id b. Jubair): I move them just as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) moved them. Then said Sa'id: I move them just as Ibn 'Abbas moved them, and he moved his lips. Allah, the Exalted, revealed this: Do not move your tongue therewith to make haste. It is with US that its collection rests and its recital (al-Qur'an, ixxv. 16). He said: Its preservation in your heart and then your recital. So when We recite it, follow its recital. He said: Listen to it, and be silent and then it rests with Us that you recite it. So when Gabriel came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), he listened to him attentively, and when Gabriel went away, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited as he (Gabriel) had recited it.
۔ ( جریر بن عبد الحمید کے بجائے ) ابو عوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اللہ کے فرمان : ’’آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ نبی اکرمﷺ وحی کے نزول کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرتے ، آپ ( ساتھ ساتھ ) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں ، تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور سعید بن جبیر نے ( اپنے شاگرد سے ) کہا : میں اپنے ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ انہیں ہلاتے تھے ، پھر اپنے ہونٹ ہلائے ) اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری : ’’ آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بےشک ہمارا ذمہ ہے اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ کر رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ۔ ‘ ‘ کہا : آپ کے سینے میں اسے جمع کرنا ، پھر یہ کہ آپ اسے پڑھیں ۔ ’’ پھر جب ہم پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : یعنی اس کو غور سےسنیں اور خاموش رہیں ، پھر ہمارے ذمے ہے کہ آپ اس کی قراءت کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( وحی لے کر ) آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ چلے جاتے تواسے آپ اسی طرح پڑھتے جس طرح انہوں نے آپ کو پڑھایا ہوتا ۔