سنن نسائ

Sunnan Nisai

مساجد کے فضائل و مسائل

The book of the masjids

مسجد نبوی اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔


أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ .

It was narrated that 'Abdullah bin Zaid said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The area between my house and my Minbar is one of the gardens of Paradise.'

عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو حصہ میرے گھر ۱؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے  ۱؎۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 695 In-book reference : Book 8, Hadith 8 English translation : Vol. 1, Book 8, Hadith 696
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 696
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ۵ (۱۱۹۵)، صحیح مسلم/الحج ۹۲ (۱۳۹۰)، موطا امام مالک/القبلة ۵ (۱۱)، (تحفة الأشراف: ۵۳۰۰)، مسند احمد ۴/۳۹، ۴۰، ۴۱ (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: گھر سے مراد حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے جس میں آپ کی قبر شریف ہے، طبرانی کی روایت میں «ما بين المنبر وبيت عائشة» ہے، اور بزار کی روایت (کشف الاستار۲/۵۶)میں «ما بين قبري ومنبري» ہے۔ ۲؎: اس کی تاویل میں کئی اقوال وارد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اتنی جگہ اٹھ کر جنت کی ایک کیاری بن جائے گی، دوسرا قول یہ ہے جو شخص یہاں عبادت کرے گا جنت میں داخل ہو گا، اور جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری پائے گا، تیسرا قول یہ ہے کہ یہ حصہ جنت ہی سے آیا ہوا ہے، چوتھا قول یہ ہے کہ اس میں حرف تشبیہ محذوف ہے «ای کروضۃ فی نزول الرحمۃ والسعادۃ بما یحصل من ملازمۃ حلق الذکر لا سیما فی عہدہ صلی اللہ علیہ وسلم»  یعنی رحمت و سعادت کے نازل ہونے میں روضہ کی طرح ہے، ذکر کے حلقات کی پابندی سے ۔