TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 48 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
(37)Chapter: [What Has Been Related] About The Wudu Of he Prophet: How Was It Performed?
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟​
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ وَقُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً،‏‏‏‏ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّبَيِّعِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ
Abu Hayyah narrated: I saw Ali performing Wudu. He washed his hands until he cleaned them, then he rinsed out his mouth three times, sniffed water into his nose and blew it out three times, washed his face three times, and his forearms three times. He wiped his head once, then he washed his feet up to the ankles. Then he stood up, taking what was left over from his purification (water) and drank it while he was standing. Then he said, 'I wanted to show you how Allah's Messenger purified himself.'
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا پھر ‌تین ‌دفعہ ‌بازو ‌دھوئے اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا ۱؎، پھر کہا: میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا وضو کیسے ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
48
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 48 In-book reference : Book 1, Hadith 48 English translation : Vol. 1, Book 1, Hadith 48
صحيح، صحيح أبي داود (101 - 105) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 48
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم: ۴۴
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : صحیح بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کہا : لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو جائز نہیں سمجھتے، حالانکہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا جیسا کہ میں نے کیا ہے، اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ۱- کھڑے ہو کر کبھی کبھی پانی پینا جائز ہے، ۲- وضو سے بچے ہوئے پانی میں برکت ہوتی ہے اس لیے آپ نے اسے پیا اور کھڑے ہو کر پیا تاکہ لوگ یہ عمل دیکھ لیں، نہ یہ کہ وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر ہی پینا چاہیئے۔

Related Chapters

2,298
1
CHAPTER: The Manner of The Prophet’s Wudu’..
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: What Has Been Related About The Prophet While Performed Tawaf Mudtabi'an
باب: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
3
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: How The Prophet Performed Voluntary Prayers During The Day
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دن میں نفل نماز کیسی ہوتی تھی؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Haj
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے حج کئے؟
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Umrah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Saying: If You Knew What I Know Then You Would Laugh Little
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence of the Prophet (s.a.w) And His Family
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
13
(11) CHAPTER. The dislike of the Prophet that Al-Madina should be vacated.
مدینہ کا ویران کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار تھا
Sahih Bukhari
14
(19) CHAPTER. The death of the Prophet (p.b.u.h).
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان ۔
Sahih Bukhari
15
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
Sahih Muslim
16
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
Sahih Muslim
17
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
Sahih Muslim
18
Chapter: Another description of wudu’
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کاوضو
Sahih Muslim
19
Chapter: Gifts are permissible for the Prophet (saws) and Banu Hashim and Banu Al-Muttalib, even if the giver acquired it by way of charity. When the receipient takes possession of Charity, it is no longer described as charity, and it is permissible for anyone for whom charity is otherwise unlawful
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ‘بنو ہاشم ‘اور بنو مطلب کے لیے تحفہ قبول کرنے کا جواز
Sahih Muslim
20
Chapter: The prophet (saws) accepted gifts but refused Charity
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ہدیہ قبول فرماتے اور صدقہ رد کر دیتے
Sahih Muslim
21
Chapter: The meaning of the Prophet's words: The two months of 'Id cannot both be incomplete
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے فرمان :’’عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے‘‘کا مفہوم
Sahih Muslim
22
Chapter: The Prophet's Fasts at times other than Ramadan; and it is recommended to ensure that no month is free of fasting
رمضان کے علاوہ (دوسرے مہینوں میں )نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے روزے ‘یہ مستحب ہے کہ کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ رہے
Sahih Muslim
23
Chapter: The number of Umrahs performed by the prophet (saws) and when he performed them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے جو عمرے کیے ‘ان کی تعداد اوران کا زمانہ
Sahih Muslim
24
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
Sahih Muslim
25
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) and his steadfastness in the face of the hypocrites' persecution
منافقوں کی اذیت رسانی پر نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا صبر
Sahih Muslim
26
Chapter: The number of campaigns of the Prophet (saws)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے غزوات کی تعداد
Sahih Muslim
27
Chapter: The Miracles Of The Prophet (SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس ہدایت اور علم کے سا تھ مبعوث کیا گیا اس کی مثال کا بیان:۔
Sahih Muslim
28
Chapter: The Prophet (SAW) Sweated When It Was Cold, And When The Revelation Came To Him
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مبارکہ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھا:۔
Sahih Muslim
29
Chapter: The Virtues Of The Household Of The Prophet (SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے فضائل:۔
Sahih Muslim
30
CHAPTER: The Times Of The Prophet’s (saws) Prayers And How He Used To Pray Them.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقات نماز کا بیان اور آپ نماز کیسے پڑھتے تھے ؟
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Sending Salat Upon The Prophet (saws) After The Tashah-hud.
باب: تشہد کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: The Time That The Prophet (saws) Would Pray At Night.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: The Description Of The Prophet’s (saws) Hajj.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا طریقہ ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CCHAPTER: How The Prophet (saws) Would Fast.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کی کیفیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: How The Prophet (saws) Swore An Oath.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی ؟
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: The ruling regarding one who reviles the prophet (pbuh).
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Regarding the woman of Juhainah whom the prophet (pbuh) ordered to be stoned.
باب: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding forbearance and the character of the Prophet(pbuh).
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور تحمل و بردباری کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
Chapter: Combining the name and the kunyah of the Prophet(SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
40
Chapter: What Has Been Related About Prescribed Times for Salat From The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول اوقات نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related That The Prophet (saws) Would Not Raise His Hands Except For The First Time
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Description of As-Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About the Prophet Going To The Eid By One Route, And Returning By Another
باب: عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What has been mentioned about the Prophet (saws) performing Mas-h after the revelation of (Surat) Al-Ma'idah
باب: سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Prophet, His Household, and His Mawali To Accept Charity
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Which Location The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کس جگہ سے احرام باندھا؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About When The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے احرام کب باندھا؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

21
Sunnan Nisai
96
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَيَّةَ وَهُوَ ابْنُ قَيْسٍ قال:‏‏‏‏ رَأَيْتُ عَلِيًّارَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ . ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ طُهُورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
It was narrated that Abu Hayyah - Ibn Qais - said: I saw 'Ali perform Wudu'. He washed his hands until they looked clean, then he rinsed his mouth three times and his nose three times, and he washed each forearm three times. Then he wiped his head, then he washed his feet up to the ankles. Then he stood up, took the left over water for his Wudu' and drank from it while standing. Then he said: 'I wanted to show you how the Prophet (ﷺ) performed Wudu'.'
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں  ( خوب )  صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے، اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پی لیا، پھر کہنے لگے کہ میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کو دکھلاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۔
Sahih Muslim
555
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيِّ، - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: قِيلَ لَهُ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَأَكْفَأَ مِنْهَا عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Abdullah b. Zaid b. 'Asim al-Ansari, who was a Companion (of the Holy Prophet), reported: It was said to him (by people): Perform for us the ablution (as it was performed) by the Messenger of Allah (way peace be upon him). He ('Abdullah b. Zaid) called for a vessel (of water), and poured water from it on his hands and washed them three times. Then he inserted his hand (in the vessel) and brought it (water) out, rinsed his mouth and snuffed up water from the palm of one hand doing that three times, He again inserted his hand and brought it out and washed his face three times, then inserted his hand and brought it out and washed each arm up to the elbow twice, then inserted his hand and brought it out and wiped his head both front and back with his hands. He then washed his feet up to the ankles, and then said: This is how God's Messenger (peace be upon him) performed ablution.
خالد بن عبد اللہ نےعمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے ، انہوں نے اپنےوالد ( یحییٰ بن عمارہ ) سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( انہیں شرف صحبت حاصل تھا ) ، ( یحییٰ بن عمارہ نے ) کہا : حضرت عبد اللہ بن زید سے کہا گیا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کا ( سا ) وضو کر کے دکھائیں ۔ اس پر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا ، اسے جھکا کر اس میں سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا اور انہیں تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی کھینچا ، یہ تین بار کیا ، پھر اپنا ہاتھ ، پھر اپناہاتھ ڈال کر پانی نکالا اوراپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے بازو کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ، ( تاکہ امت کو معلوم ہو جائے کہ کسی عضو کو دوبار دھونا بھی جائز ہے ) پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے سر کا مسح کیا اور ( آپ ) اپنے دونوں ہاتھ ( سرپر ) آگے سے پیچھے کواور پیچھے سے آگے کو لائے ، ( ایک طرف مسح کرنا اور اسی ہاتھ کودوبارہ واپس لانامستحب ہے ( پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھرکہا : رسو اللہ ﷺ کا وضو اسی طرح تھا ۔
Sunnan Abu Dawood
116
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو تَوْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ وُضُوءَهُ كُلَّهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Abu Hayyah said: I saw Ali perform ablution. He (Abu Hayyah) then described that Ali went through every part of the ablution three times, i. e. he performed each detail of his ablution three times. He then wiped his head, then washed his feet up to the ankles. He then said: I wanted to show you how the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم performed ablution.
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ابوحیہ نے آپ کے پورے ( اعضاء ) وضو کے تین تین بار دھونے کا ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے، پھر کہا: میری خواہش ہوئی کہ میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلاؤں ( کہ آپ کس طرح وضو کرتے تھے ) ۔
Jam e Tirmazi
44
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّبَيِّعِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوُضُوءَ يُجْزِئُ مَرَّةً مَرَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَمَرَّتَيْنِ أَفْضَلُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْضَلُهُ ثَلَاثٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ بَعْدَهُ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ لَا آمَنُ إِذَا زَادَ فِي الْوُضُوءِ عَلَى الثَّلَاثِ أَنْ يَأْثَمَ،‏‏‏‏ وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يَزِيدُ عَلَى الثَّلَاثِ إِلَّا رَجُلٌ مُبْتَلًى.
Ali narrated that: The Prophet performed Wudu three times (for each limb).
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۳- اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں، ابن مبارک کہتے ہیں: جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو ( دیوانگی اور وسوسہ ) میں مبتلا ہو گا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
833
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْحَرَمِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْخِفَافَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
Ibn Umar narrated: A man stood and said 'O Messenger of Allah! What clothing do you command us to wear in Al-Haram?' The Messenger of Allah said: 'Do not wear shirts, nor pants, nor burnooses, nor turbans, nor Khuff - unless one does not have any sandals, then let him wear Khuff, but let him cut them below the ankles. And do not wear any cloth that has been touched by saffron or Wars. And the woman in Ihram is not to cover her face, nor wear gloves.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑ ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کون کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ موزے، الا یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ خف ( چمڑے کے موزے ) پہنے اور اسے کاٹ کر ٹخنے سے نیچے کر لے ۱؎ اور نہ ایسا کوئی کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو ۲؎، اور محرم عورت نقاب نہ لگائے اور نہ دستانے پہنے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم اسی پر عمل ہے۔
Sahih Muslim
2791
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ»
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported that a person asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) what a Muhrim should put on as dress. Thereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do not put on a shirt or a turban, or trousers or a cap, or leather stockings except one who does not find shoes; he may put on stockings but he should trim them below the ankles. And do not wear clothes to which saffron or wars is applied.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ احرام باندھنے والا کیسے کپڑے پہنے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : " نہ قمیص پہنو نہ عمامہ ، نہ شلوار ، نہ کوٹ ( ٹوپی جڑا لبادہ ) اور نہ موزے پہنو ، سوائے اس کے جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے پہن لے ، اور انھیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے ۔ اور ایسا کپڑا نہ پہنو جسے کچھ بھی زعفران یا ورس ( زرد چولہ ) لگا ہو ۔ "
Sunnan Abu Dawood
858
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏بِمَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقْرَأَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ فَيُمَكِّنَ وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هَمَّامٌ:‏‏‏‏ وَرُبَّمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ . فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ، ‏‏‏‏‏‏لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ.
Narrated Rifaah ibn Rafi: This version (of Hadith No 856) adds: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: The prayer of any of you is not complete until he performs ablution perfectly, as Allah, the Exalted, has ordered you. He should wash his face and hands up to the elbows, and wipe his head and (wash) his feet up to the ankles. Then he should exalt Allah and praise Him. Then he should recite the Quran as much as it is convenient for him. (Narrator then narrated the tradition like Hammad's, No. 856). He said: He then utter the takbir and prostration himself so that his face is at rest. Hammam (sub-narrator) said: Sometimes he reported: So that his forehead is at rest on the ground, and his joints return to their places and are loosened. Then he should say the takbir and then sit right on his hips and erect his back. He described the nature of prayer in this way by offering four rak'ahs until he finished it. The prayer of any of you is not complete unless he does so.
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری ( مکمل ) نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اچھی طرح وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، ( یعنی ) وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر «الله اكبر» کہے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر قرآن میں سے جو آسان ہو اسے پڑھے ، پھر راوی نے حماد کی حدیث کے مانند ذکر کیا اور کہا: پھر وہ «الله اكبر»کہے اور سجدہ کرے تو اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ۔ ہمام کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ نے کبھی یوں کہا: اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام پا لیں اور ڈھیلے ہو جائیں، پھر «الله اكبر» کہے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی ( پھر فرمایا ) : تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے ۔
Sunnan Abu Dawood
3639
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ:‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السَّيْلِ الْمَهْزُورِ أَنْ يُمْسَكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُرْسِلُ الْأَعْلَى عَلَى الْأَسْفَلِ .
Amr bin Shuaib on his father's authority said that his grandfather told that the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم decided regarding the stream al-Mahzur that its water should be held back till it reached the ankles, and that the upper waters should then be allowed to flow to the lower.
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی اس وقت تک روکا جائے جب تک کہ ٹخنے کے برابر نہ پہنچ جائے، پھر اوپر والا نیچے والے کے لیے چھوڑ دے۔
Sunnan Abu Dawood
4084
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي غِفَارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِي وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، ‏‏‏‏‏‏قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ اعْهَدْ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، ‏‏‏‏‏‏وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ .
Narrated Abu Jurayy Jabir ibn Salim al-Hujaymi: I saw a man whose opinion was accepted by the people, and whatever he said they submitted to it. I asked: Who is he? They said: This is the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. I said: On you be peace, Messenger of Allah, twice. He said: Do not say On you be peace, for On you be peace is a greeting for the dead, but say Peace be upon you . I asked: You are the Messenger of Allah (may peace be upon you)? He said: I am the Messenger of Allah Whom you call when a calamity befalls you and He removes it; when you suffer from drought and you call Him, He grows food for you; and when you are in a desolate land or in a desert and your she-camel strays and you call Him, He returns it to you. I said: Give me some advice. He said: Do not abuse anyone. He said that he did not abuse a freeman, or a slave, or a camel or a sheep thenceforth. He said: Do not look down upon any good work, and when you speak to your brother, show him a cheerful face. This is a good work. Have your lower garment halfway down your shin; if you cannot do it, have it up to the ankles. Beware of trailing the lower garment, for it is conceit and Allah does not like conceit. And if a man abuses and shames you for something which he finds in you, then do not shame him for something which you find in him; he will bear the evil consequences for it.
ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے دو مرتبہ کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك السلام»نہ کہو، یہ مردوں کا سلام ہے اس کے بجائے «السلام عليك» کہو۔ میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضرر لاحق ہو تو پکارو وہ تم سے اس ضرر کو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو یا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم اس اللہ سے دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: کسی کو بھی گالی نہ دو ۔ اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بند نصف «ساق» ( پنڈلی ) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرور و تکبر کی بات ہے، اور اللہ غرور پسند نہیں کرتا، اور اگر تمہیں کوئی گالی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا ۔