حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا .
Ubayy bin Ka'b narrated:
Water is for water,' was only permitted in the beginning of Islam. Then it was prohibited.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صرف منی ( نکلنے ) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطہارة ۸۴ (۲۱۴)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۱۱۱ (۹۰۶)، (تحفة الأشراف : ۲۷)، مسند احمد (۵/۱۱۵، ۱۱۶)، سنن الدارمی/الطہارة ۷۳ (۷۸۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اور حکم دیا گیا کہ منی خواہ نکلے یا نہ نکلے اگر ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہو جائے گا۔
110
Sahih