Aishah narrated: I saw the Messenger of Allah while he was dying. He had a cup with water in it, he put his hand in the cup then wiped his face with the water, then said: 'O Allah! Help me with the throes of death and the agony of death.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» ”اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Aishah narrated: I was not envious of anyone whose death was easy after I saw the severity the death of the Messenger of Allah.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی جو شدت میں نے دیکھی، اس کے بعد میں کسی کی جان آسانی سے نکلنے پر رشک نہیں کرتی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالرحمٰن بن علاء کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: وہ علاء بن اللجلاج ہیں، میں اسے اسی طریق سے جانتا ہوں۔
[Alqamah narrated: I heard Abdullah saying: 'I heard the Messenger of Allah saying: The believer's soul seeps out, and I do not like the death like that of a donkey. They said: And what is the death of a donkey? He said: A sudden death. ]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”مومن کی جان تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتی ہے جیسے جسم سے پسینہ نکلتا ہے اور مجھے گدھے جیسی موت پسند نہیں“۔ عرض کیا گیا: گدھے کی موت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اچانک موت“۔
Anas bin Malik narrated that: The Messenger of Allah said: There is nothing that the two Guardian Angels raise to Allah that they have preserved in a day or night, and Allah finds good in the beginning of the scroll and in the end of the scroll, except that Allah Most High says: 'Bear witness that I have forgiven my servant for what is included in the scroll.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی دونوں لکھنے والے ( فرشتے ) دن و رات کسی کے عمل کو لکھ کر اللہ کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دفتر کے شروع اور اخیر میں خیر ( نیک کام ) لکھا ہوا پاتا ہے تو فرماتا ہے: ”میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے سارے گناہ معاف کر دینے جو اس دفتر کے دونوں کناروں شروع اور اخیر کے درمیان میں ہیں““۔