TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3374 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
Chapter: Something Else: ‘Remembrance Is The Best Of Your Deeds, And The Purest Of Them With Your Master’
باب: دعا سے متعلق ایک اور باب​
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلَا غَائِبٍ، ‏‏‏‏‏‏هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ:‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى.
Abu Musa Al-Ash`ari (ra) said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a military expedition. When we returned, we overlooked Al-Madinah, and the people were pronouncing the Takbīr, and they raised their voices with it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Verily, your Lord is not deaf nor absent, He is between you and between the heads of your mounts.’ Then he said: ‘O `Abdullah bin Qais, should I not inform you of a treasure from the treasures of Paradise: Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh (There is no might or power except by Allah).’”
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے جب ہم لوٹے اور ہمیں مدینہ دکھائی دینے لگا تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب و غیر حاضر ہے، وہ تمہارے درمیان موجود ہے، وہ تمہارے کجاؤں اور سواریوں کے درمیان ( یعنی بہت قریب ) ہے پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ( جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے اور ابونعامہ سعدی کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے۔
3374
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 3374 In-book reference : Book 48, Hadith 5 English translation : Vol. 6, Book 45, Hadith 3374
سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3374
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ۱۳۱ (۲۹۹۲)، والمغازي ۳۸ (۴۲۰۵)، والدعوات ۵۰ (۶۳۸۴)، ۶۶ (۶۴۰۹)، والقدر ۷ (۶۶۱۰)، والتوحید ۹ (۷۳۸۶)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ۱۳ (۲۷۰۴)، سنن ابی داود/ الصلاة ۳۶۱ (۱۵۲۶)، سنن ابن ماجہ/الأدب ۵۹ (۳۸۲۴) (تحفة الأشراف : ۹۸۷)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : یعنی : جو اس کلمے کا ورد کرے گا وہ جنت کے خزانوں میں ایک خزانے کا مالک ہو جائے گا، کیونکہ اس کلمے کا مطلب برائی سے پھر نے اور نیکی کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ ” جب بندہ اس کا باربار اظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بے انتہا خوش ہوتا ہے، بندے کی طرف سے اس طرح کی عاجزی کا اظہار تو عبادت حاصل ہے۔

Related Chapters

1,292
1
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
2
Chapter: Something Else, The Supplication “O Allah, Knower Of The Unseen And The Seen, Originator Of The Heavens And The Earth”
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
3
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Seek Forgiveness From Allah The One Whom There Is None Worthy Of Worship Except For Him, And He Is The Living, The Sustainer”
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Something Else: The Supplication: “Allah Hears The One Who Praises Him”
باب: رات میں جاگنے پر پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Something Else: The Supplication: “O Allah, I Ask You Of Your Mercy”
باب: تہجد کے لیے اٹھے تو اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else: The Supplication: “May Allah Grant You Taqwa As Your Provision”
باب: مسافر کو الوداع کہتے وقت پڑھی جانے والی دعا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Something else (about the timings of Salat)
باب: اوقات نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Something Else
باب: رکوع اور سجود کے وقت ”اللہ اکبر“ کہنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
Chapter: Something Else About That
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Something Else About That
باب: سجدہ سے اٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Something Else About That
باب: تشہد سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
Chapter: Something Else About That
باب: تشہد میں بیٹھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Something Else About That
باب: سلام پھیرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
Chapter: Something else about that
باب: طریقہ نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something Else About That
باب: امام کی پیروی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: Something Else About That
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
21
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
22
Chapter: Something Else About That
باب: شب قدر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Something Else From That (Umrah Has Been Entered Into Hajj Until the Day of Resurrection)
باب: حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Something Else About That
باب: حج میں شرط لگانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Something Else (Regarding The Sunnah For Visiting The Sick And Attending The Funeral)
باب: جنازہ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
26
Chapter: Something Else (Regarding The Order To Mention Good Things About The Deceased And To Refrain From Mentioning Their Evil)
باب: میت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Something Else (About The Extend Of What Is Acceptable (To Fulfill The Obligation) For Following The Funeral And Carrying It)
باب: جنازے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: Something Else
باب: مہر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Something Else About That
باب: بیع عرایا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Something else about that
باب: معروف و منکر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
31
Chapter: Something Else: There Shall Not Come A Time Except That The One After It Is More Evil Than It
باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی
Jam e Tirmazi
32
Chapter: Something Else: The Happiest Of People Will Be Luka' Bin Luka'
باب: فتنوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
33
Chapter: Something Else Concerning ‘The One Who Remembers Allah Often Is Superior To The Fighter In The Cause of Allah
باب: ذکر الٰہی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
34
Chapter: Something Else: Concerning the Recitation of the Surat: Al-Karifun, As-Sajdah, Al-Mulk, Az-Zumar, Bani Isra’il, and Al-Musabbihat
باب: سوتے وقت قرآن پڑھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Something Else: Regarding The Virtue Of At-Tasbih, At-Tahmud, And At-Takbir At The End Of The Prayers And When Going To Sleep
باب: سوتے وقت ذکرو تسبیح سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
36
Chapter: Some Else (What Has Been Related About Hajj On Behalf Of The Dead)
باب: حج میں نیابت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
37
Chapter: Ordering The Believer To Shroud His Brother With The Best
باب: کفن سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
38
Chapter: The Best Sacrifice Is The Male Sheep
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
39
Chapter: Something Else: The Earth Expelling The Treasures That Are Inside Of It
باب: فتنوں سے متعلق مزید پیش گوئی
Jam e Tirmazi
40
Chapter: The Prohibition Of Talking Too Much Without The Remembrance Of Allah
باب: زبان کی حفاظت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
41
Chapter: From It: Whoever Does Not Ask Allah, He Gets Angry With Him
باب: فضائل دعا سے متعلق ایک اور باب​
Jam e Tirmazi
42
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
43
Chapter: The Talbiyah On Behalf Of Women And Stoning On Behalf Of Boys
باب: بچوں کے حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Hope In Allah And Fear Of Ones Sins In The Presence Of Death
باب: مومن کی موت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Where Are The Prophets To Be Buried?
باب: دفن سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
Chapter: Something Else About The Virtue Of Consoling
باب: تعزیت کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
48
Chapter: The warning about that due to the Shaitan flowing (through the body) like the flow of blood
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
49
Chapter: The Shaitan seeks to tempt the woman when she goes out
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
50
Chapter: The revelation of Allah's saying: Divorce is two times
باب: طلاق سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

40
Jam e Tirmazi
3461
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلَا غَائِبٍ هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ:‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو نَعَامَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ إِنَّمَا يَعْنِي عِلْمَهُ وَقُدْرَتَهُ.
Abu Musa Al-Ash`ari said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a military expedition. When we returned, we overlooked Al-Madinah, and the people were pronouncing the Takbir, and they raised their voices with it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Verily, your Lord is not deaf nor absent, [and] He is between you and between the heads of your mounts.’ Then he said: ‘O `Abdullah bin Qais, should I not inform you of a treasure from the treasures of Paradise: Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh (There is no might or power except by Allah).’”
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب ہم واپس پلٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی، آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے، پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتا دوں؟ وہ: «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے، یعنی حرکت و قوت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ۳- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے، ۴- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «بينكم وبين رءوس رحالكم» سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے۔
Sunnan Abu Dawood
1526
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّأَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا هُوَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ .
Narrated Abu Musa al-Ashari: Once we accompanied the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم on a journey. When we reached near Madina, the people began to say aloud: Allah is most great, and they raised their voice. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: O people, you are not supplicating one who is deaf and absent, but you are supplicating One Who is nearer to you than the neck of your riding beast. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم then said: Abu Musa, should I not point out to you one of the treasures of Paradise? I asked: What is that? He replied: There is no might and there is no power except in Allah
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ۱؎ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ ، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ۔
Jam e Tirmazi
3379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يُجْلِسُكُمْ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يُجْلِسُكُمْ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ لِمَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ لِتُهْمَةٍ لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ.
Abu Sa’eed Al Khudri narrated the: Mu’awiyah came out to the Masjid and said: “What has caused you to gather for this sitting.” They said: “We gathered so that we may remember Allah.” He said, “By Allah, nothing caused you to gather for this sitting except for that?” They said, “By Allah, nothing caused us to gather for this sitting except for that.” He said: “Indeed, I did not ask you out of suspicion, and there was no one in the position I was from the Messenger of Allah who narrates less Ahadith from him than me. Indeed the Messenger of Allah came out upon a circle of his Companions and said: ‘what has caused you to gather for this sitting?’ They said: ‘We have gathered for this sitting to remember Allah, and praise Him for His having guided us to Islam, and having bestowed blessings upon us.’ So he said: ‘By Allah, nothing caused you to gather for this sitting except for that?’ He said: ‘Indeed, I did not ask you out of suspicion, verily Jibra’il came to me and informed me that Allah boasts of you to the angels.’”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے ( وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے ) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم ( ادب و احتیاط کے سبب ) آپ سے حدیثیں بیان کرنے والا نہیں ہے۔ ( پھر بھی میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے وہ سب دائرہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان سے کہا: کس لیے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں، اللہ نے ہمیں اسلام کی طرف جو ہدایت دی ہے، اور مسلمان بنا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے ہم اس پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کی حمد بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی؟ ! قسم ہے تمہیں اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہمیں اسی مقصد نے یہاں بٹھایا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قسم اس لیے نہیں دلائی ہے، میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے، بات یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا اور خبر دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ فرشتوں پر فخر کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3517
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْوُضُوءُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّلَاةُ نُورٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Malik Al-Ash`ari narrated that the Messenger of Allah said: “Al-Wudu is half of faith, and All praise is due to Allah (Al-Ḥamdulillāh) fills the Scale, and Glory is to Allah and all praise is to Allah (Subḥān Allāh wal-Ḥamdulillāh)’ fill” - or - “fills what is between the heavens and the earth, and Salat is light and charity is an evidence, and patience is an illumination, and the Quran is a proof for you or against you. And all people shall come to the morning selling their souls, either setting it free or destroying it.”
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» ( اللہ کی حمد ) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو ( اجر و ثواب سے ) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» دلیل اور کسوٹی ہے ( ایمان کی ) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے چنانچہ یا تو ( اللہ کے یہاں فروخت کر کے ) اس کو ( جہنم سے ) آزاد کرا لیتا ہے، یا ( شیطان کے ہاں فروخت کر کے ) اس کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sunnan Abu Dawood
1415
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا بَعَثْنَا الرَّكْبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ يَعْنِي إِلَى الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْجُدُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَانِي ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَادَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَسْجُدُوا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
Narrated Abu Tamimah al-Hujaymi: When we came to Madina accompanying the caravan, I used to preach after the dawn prayer, and prostrate on account of the recitation of the Quran. Ibn Umar prohibited me three times, but I did not cease doing that. He then repeated (his prohibition) saying: I prayed behind the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, Abu Bakr, Umar and Uthman, they would not prostrate (on account of the recitation of the Quran) till the sun had risen.
ابوتمیمہ طریف بن مجالد ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے تو میں فجر کے بعد وعظ کہا کرتا تھا، اور ( سجدہ کی آیت پڑھنے کے بعد ) سجدہ کرتا تھا تو مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے تین مرتبہ منع کیا، لیکن میں باز نہیں آیا، آپ نے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن کسی نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔
Jam e Tirmazi
232
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ:‏‏‏‏ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ مَعَ الْإِمَامِ يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ.
Ibn Abbas narrated: I prayed with the Prophet one night. I stood at his left, so Allah's Messenger took me by my head, from behind me, to put me on his right (side).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔
Jam e Tirmazi
424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ حَبِيبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَى حَدِيثِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشافعي،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ.
Ali narrated: The Prophet (S) would pray four Rak'ah before Az-Zuhr and two Rak'ah after it.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہما اور ام حبیبہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث ( اعور ) کی حدیث سے افضل ہے، ۴- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات ( دونوں ) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
489
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ الْبَصْرِيُّ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ الْتَمِسُوا السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ يُضَعَّفُ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ هُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ السَّاعَةَ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ أَكْثَرُ الْأَحَادِيثِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِيهَا إِجَابَةُ الدَّعْوَةِ أَنَّهَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَتُرْجَى بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ.
Anas bin Malik narrated that : the Prophet said: Seek out the hour that is hoped for on Friday after Asr until the sun has set.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے روز اس گھڑی کو جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے عصر سے لے کر سورج ڈوبنے تک کے درمیان تلاش کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- یہ حدیث انس رضی الله عنہ سے بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۳- محمد بن ابی حمید ضعیف گردانے جاتے ہیں، بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے ان کی تضعیف کی ہے، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، نیز کہا جاتا ہے کہ یہی ابوابراہیم انصاری ہیں اور یہ منکرالحدیث ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ گھڑی جس میں قبولیت دعا کی امید کی جاتی ہے عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ احمد کہتے ہیں: اس گھڑی کے سلسلے میں جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے زیادہ تر حدیثیں یہی آئی ہیں کہ یہ عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے، نیز سورج ڈھلنے کے بعد بھی اس کے ہونے کی امید کی جاتی ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
816
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ:‏‏‏‏ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمْرَةَ الثَّانِيَةِ مِنْ قَابِلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمْرَةَ الثَّالِثَةِ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّابِعَةِ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ،‏‏‏‏
bn Abbas narrared: The Messenger of Allah performed four Umrah: The Umrah of Al-Hudaibiyah, a second Umrah the following (year), (which was) the Umrah of Al-Qisas during Dhul-Qa'dah, a third Umrah from Al-Ji'irranah, and the fourth which accompanied his Hajj.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا عمرہ اگلے سال یعنی ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ جعرانہ ۱؎ کا، چوتھا عمرہ جو اپنے حج کے ساتھ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں انس، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔