Ali [may Allah be pleased with him] said: “Fatimah complained to me about her hands blistering from grinding flour. So I said: ‘If you were to approach your father and ask him for a servant?’ So he (the Prophet) said: ‘Should I not direct the two of you, to that which is better for you than a servant? When the two of you lay down to sleep, say thirty-three, thirty-three, thirty-four, of At-Taḥmīd, At-Tasbīḥ, and At-Takbīr.”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، ( وہ گئیں تو ) آپ نے ( جواب میں ) فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ۳۳ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے علی رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
Ali [may Allah be pleased with him] said: “Fatimah went to the Prophet complaining of her hands blistering, so he ordered her to say At-Tasbīḥ, At-Takbīr, and At-Taḥmīd.”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( آپ کی بیٹی ) فاطمہ رضی الله عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح ( سبحان اللہ ) تکبیر ( اللہ اکبر ) اور تحمید ( الحمدللہ ) پڑھنے کا حکم دیا۔