Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair: that Az-Zubair said: On the Day of (the battle of) Uhud, the Messenger of Allah (ﷺ) wore two coats of mail. He tried to get up on a boulder, but was not able to, so Talhah squatted under him, lifting the Prophet (ﷺ) upon it, such that he could sit on the boulder. So he said: 'It (Paradise) is obligatory for Talhah.'
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”طلحہ نے اپنے لیے ( جنت ) واجب کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever would be pleased to look at a martyr walking upon the face of the earth, then let him look at Talhah bin 'Ubaidullah.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو ( دنیا ہی میں ) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Narrated 'Ali bin abi Talib: My ear heard from the mouth of the Messenger of Allah (ﷺ), while he was saying: 'Talhah and Az-Zubair are my neighbors in Paradise.'
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کر چکے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Musa bin Talhah: I entered upon Mu'awiyah and he said: 'Shall I not give you some good news?' I said: 'Of course!' He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Talhah is among those fulfilled their vow (referring to 33:23).'
عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Musa and 'Eisa, the sons of Talhah: from their father: The Companions of the Prophet (ﷺ) said, to an unknowing Bedouin man: 'Ask him who it is that has fulfilled his vow.' They were not in the habit of asking questions out of their respect and reverence for him. So the Bedouin asked him, but he turned away from him. Then he asked him again, but he turned away from him. Then again he asked him, but he turned away from him. Then I stood looking from the door of the Masjid, while I was wearing a green garment, and I saw the Prophet (ﷺ), he said: 'Where is the one who was asking about the one who fulfilled his vow?' The Bedouin said: 'Here I am O Messenger of Allah!' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This is one who has fulfilled his vow.'
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چنانچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیر لیا، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ” «من قضى نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟“ اعرابی بولا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ۲- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ۳- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب ”کتاب الفوائد“ میں رکھا ہے۔