Ibn Abbas narrated that : the Messenger of Allah said: Two Qiblahs in one land are of no benefit, and there is no Jizyah upon the Muslims.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے“ ۲؎۔
Ibn Abbas narrated: (A similar narration as no. 633.)
اس سند سے بھی قابوس سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث قابوس بن ابی ظبیان سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۲- اس باب میں سعید بن زید اور حرب بن عبیداللہ ثقفی کے دادا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ نصرانی جب اسلام قبول کر لے تو اس کی اپنی گردن کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ليس على المسلمين عشور» ”مسلمانوں پر عشر نہیں ہے“ کا مطلب بھی گردن کا جزیہ ہے، اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت کر دی گئی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا: ”عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے، مسلمانوں پر کوئی عشر نہیں“ ۱؎۔