TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

CHAPTER: Refutation Of The Murji’ah. - باب: ارجاء کی تردید کا بیان ۔ - Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation

Chapter 15 of Model behavior of the prophet (kitab al-sunnah) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 32 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْعَظْمِ عَنِ الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: Faith has over seventy branches, the most excellent of which is the declaration that there is no god but Allah, and the humblest of which is the removal of a bone from the road. And modesty is a branch of faith.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل لا إله إلا الله کہنا، اور سب سے کم تر راستے سے ہڈی ہٹانا ہے ۲؎، اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۳؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان ۳ (۹)، صحیح مسلم/الإیمان ۱۲ (۳۵)، سنن الترمذی/الإیمان ۶ (۲۶۱۴)، سنن النسائی/الإیمان ۱۶ (۵۰۰۷، ۵۰۰۸، ۵۰۰۹)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۹ (۵۷) ، (تحفة الأشراف: ۱۲۸۱۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۱۴، ۴۴۲، ۴۴۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «ارجاء» کے معنی تاخیر کے ہیں اسی سے فرقہ مرجئہ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی معصیت نقصان دہ نہیں، اور کفر کے ساتھ کوئی نیکی نفع بخش نہیں، یہ قدیم گمراہ فرقوں میں سے ایک ہے، اس کی تردید میں محدثین کرام نے مستقل کتابیں لکھی ہیں، اس کتاب میں بھی ان کا رد و ابطال مقصود ہے، ان کے نزدیک اعمال ایمان کا جزء نہیں، بلکہ ایمان محض تصدیق اور اقرار کا نام ہے، جب کہ اہل سنت و اہل حدیث کے یہاں ایمان کے ارکان تین ہیں ، دل سے تصدیق، زبان سے اقرار، اور اعضاء و جوارح سے عملی ثبوت فراہم کرنا۔ ۲؎ : بعض نسخوں میں «عظم» کے بجائے «اذی» کا لفظ ہے گویا کوئی بھی تکلیف دہ چیز۔ ۳؎ : حدیث سے ظاہر ہے کہ اعمال صالحہ سے مومن کو فائدہ اور اعمال بد سے نقصان اور ضرر ہوتا ہے، جب کہ مرجئہ کہتے ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل نہیں۔
4676
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَوْمُ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ .
Ibn Abbas said: When the deputation of Abd al-Qais came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, he commanded them to believe in Allah. He asked: Do you know what faith in Allah is? They replied: Allah and his Messenger know best. He said: It includes the testimony that there is no god but Allah, and that Muhammad is Allah’s Messenger, the observance of the prayer, the payment of zakat, the fasts of Ramadan, and your giving a fifth of the booty.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے؟ وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان ۴۰ (۵۳)، العلم ۲۵ (۸۷)، المواقیت ۲ (۵۲۳)، الزکاة ۱ (۱۳۹۸)، فرض الخمس ۲ (۳۰۹۵)، المناقب ۵ (۳۵۱۰)، المغازي ۶۹ (۴۳۶۸)، الأدب ۹۸ (۶۱۷۶)، خبر الواحد ۵ (۷۲۶۶)، التوحید ۵۶ (۷۵۵۶)، صحیح مسلم/الإیمان ۶ (۱۷)، الأشربة ۶ (۱۹۹۵)، سنن الترمذی/السیر ۳۹ (۱۵۹۹)، الإیمان ۵ (۲۶۱۱)، سنن النسائی/الإیمان ۲۵ (۵۰۳۶)، (تحفة الأشراف: ۶۵۲۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱ /۱۲۸، ۲۷۴، ۲۹۱، ۳۰۴، ۳۳۴، ۳۴۰، ۳۵۲، ۳۶۱)، وقد مضی ہذا الحدیث برقم : (۳۶۹۲)
4677
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ .
Jabir reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: Between a servant and unbelief there is the abandonment of prayer.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا ترک کرنا ہے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الإیمان ۹ (۲۶۲۰)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۷۷ (۱۰۷۸)، مسند احمد (۳/۳۷۰، ۳۸۹)، (تحفة الأشراف: ۲۷۴۶)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ۳۵ (۸۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی کفر اور بندے میں نماز حد فاصل ہے، اگر نماز ادا کرتا ہے تو صاحب ایمان ہے، نہیں ادا کرتا ہے تو کافر ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی عمل کے ترک کو کفر نہیں خیال کرتے تھے سوائے نماز کے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’نماز کا ترک کرنا کفر ہے‘‘، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جو نماز چھوڑ دے، امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: تارک نماز مرتد ہے اگرچہ دین سے خارج نہیں ہوتا، اصحاب الرای کا مذہب ہے کہ اس کو قید کیا جائے تاوقتیکہ نماز پڑھنے لگے، امام احمد بن حنبل، اور امام اسحاق بن راہویہ، اور ائمہ کی ایک بڑی جماعت تارک نماز کو کافر کہتی ہے، اس لئے ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے نماز کا سخت اہتمام کرنا چاہئے، اور عام لوگوں میں اس عظیم عبادت، اور اسلامی رکن کی اہمیت کی تبلیغ کرنی چاہئے۔
4678
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَلَا دِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ:‏‏‏‏ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ شَهَادَةُ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا نُقْصَانُ الدِّينِ:‏‏‏‏ فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ وَتُقِيمُ أَيَّامًا لَا تُصَلِّي .
Abdullah bin Umar reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: I did not see more defective in respect of reason and religion than the wise of you (women). A woman asked: What is the defect of reason and religion ? He replied: The defect of reason is the testimony of two women for one man, and the defect of faith is that one of you does not fast during Ramadan (when one is menstruating), and keep away from prayer for some days.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا ( ایک عورت ) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور دین کا نقص یہ ہے کہ ( حیض و نفاس میں ) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان ۳۴ (۷۹)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۱۹ (۴۰۰۳)، (تحفة الأشراف: ۷۲۶۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۶۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : چونکہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اس مدت میں نماز و روزے کے ترک سے ایمان میں نقص ثابت ہوا۔
4679
Sahih

Chapters

32
01
CHAPTER: Explanation of the Sunnah.
باب: سنت و عقائد کی شرح و تفسیر ۔
2 Hadith
02
CHAPTER: Prohibition Of Controversy And Of Following The Allergorical Verses In the Qur’an.
باب: قرآن میں جھگڑنا اور متشابہ آیات کے چکر میں پڑنا منع ہے ۔
1 Hadith
03
CHAPTER: Keeping Away From Heretics And Hating Them.
باب: بدعتیوں اور ہوا پرستوں کی صحبت سے بچنے اور ان سے بغض و نفرت رکھنے کا بیان ۔
2 Hadith
04
CHAPTER: The Abandonment Of Saluting The Heretics.
باب: اہل بدعت کو سلام نہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
05
CHAPTER: Prohibition Of Controversy About The Qur’an.
باب: قرآن کے بارے میں جھگڑنے کی ممانعت کا بیان ۔
1 Hadith
06
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت کی پیروی ضروری ہے ۔
5 Hadith
07
CHAPTER: Adherence To The Sunnah.
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان ۔
18 Hadith
08
CHAPTER: Order Of The Companions In Respect Of Merit.
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب افضل کون ہے پھر اس کے بعد کون ہے ؟
5 Hadith
09
CHAPTER: The Caliphs.
باب: خلفاء کا بیان ۔
25 Hadith
10
CHAPTER: Excellence Of The Companions Of The Prophet (saws).
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا بیان ۔
1 Hadith
11
CHAPTER: Prohibition Of Abusing The Companions Of The Apostle of Allah (saws).
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنا منع ہے ۔
2 Hadith
12
CHAPTER: Proof Of Abu Bakr’s Caliphate.
باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان ۔
2 Hadith
13
CHAPTER: Instructions Regarding Refraining From Speech During The Period Of Turmoil.
باب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان ۔
6 Hadith
14
CHAPTER: Making Distinction Between The Prophets.
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے ؟
8 Hadith
15
CHAPTER: Refutation Of The Murji’ah.
باب: ارجاء کی تردید کا بیان ۔
4 Hadith
16
CHAPTER: Proof Of Increase And Decrease Of Faith.
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان ۔
11 Hadith
17
CHAPTER: Belief In Divine Decree.
باب: تقدیر ( قضاء و قدر ) کا بیان ۔
20 Hadith
18
CHAPTER: The Offspring Of Polytheists.
باب: کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان ۔
10 Hadith
19
CHAPTER: The Jahmiyyah.
باب: جہمیہ کا بیان ۔
8 Hadith
20
CHAPTER: The Vision Of Allah.
باب: رویت باری تعالیٰ کا بیان ۔
3 Hadith
21
CHAPTER: Refutation Of The Jahmiyyah.
باب: جہمیہ کے رد کا بیان ۔
2 Hadith
22
CHAPTER: The Qur’an, The Word Of Allah.
باب: قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بیان ۔
5 Hadith
23
CHAPTER: Intercession.
باب: شفاعت کا بیان ۔
3 Hadith
24
CHAPTER: The Creation Of Paradise And Hell.
باب: قیامت اور صور کا بیان ۔
2 Hadith
25
CHAPTER: The Pond.
باب: جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان ۔
1 Hadith
26
CHAPTER: Questioning And Punishment In The Grave.
باب: حوض کوثر کا بیان ۔
5 Hadith
27
CHAPTER: The Scale.
باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان ۔
5 Hadith
28
CHAPTER: The Antichrist (Dajjal).
باب: ترازو کا بیان ۔
1 Hadith
29
CHAPTER: On The Killing Of The Khawarij.
باب: دجال کا بیان ۔
2 Hadith
30
CHAPTER: Fighting Against The Khawarij.
باب: خوارج کے قتل کا بیان ۔
5 Hadith
31
CHAPTER: Fighting With The Thieves.
باب: خوارج سے قتال کا بیان ۔
8 Hadith
32
CHAPTER
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
No chapter matched that.