صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں

The book of adhan.

اگر امام کو تکبیر ہو چکنے کے بعد کوئی ضرورت پیش آئے تو کیا کرے ؟

(27) CHAPTER. If the Imam is confronted with a problem after the Iqama.

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ .

Narrated Anas: Once the Iqama was pronounced and the Prophet was talking to a man (in a low voice) in a corner of the mosque and he did not lead the prayer till (some of) the people had slept (dozed in a sitting posture) .

ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نماز کے لیے تکبیر ہو چکی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے مسجد کے ایک گوشے میں چپکے چپکے کان میں باتیں کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے جب تشریف لائے تو لوگ سو رہے تھے۔