صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں

The book of adhan.

اس آدمی کے بارے میں جو اپنے گھر کے کام کاج میں مصروف تھا کہ تکبیر ہوئی اور نماز کے لیے نکل کھڑا ہوا

(44) CHAPTER. If somebody was busy with his domestic work and Iqama was pronounced and then he came out [for offering the Salat (prayer)].

حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَة ، مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ ؟ قَالَتْ : كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ .

Narrated Al-Aswad: That he asked `Aisha What did the Prophet use to do in his house? She replied, He used to keep himself busy serving his family and when it was the time for prayer he would go for it.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حکم بن عتبہ نے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج یعنی اپنے گھر والیوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو فوراً ( کام کاج چھوڑ کر ) نماز کے لیے چلے جاتے تھے۔