صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

The book of sales (bargains).

اگر بیع کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لینے کے لیے مختار بنایا تو بیع لازم ہوگئی

(45) CHAPTER. If the buyer and the seller give each other the option of cancelling the bargain immediately after the bargain is made (while they are still together), the bargain is rendered final (even if they did not separate).

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، وَكَانَا جَمِيعًا ، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا ، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ .

Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, Both the buyer and the seller have the option of canceling or confirming the bargain, as long as they are still together, and unless they separate or one of them gives the other the option of keeping or re

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دو شخصوں نے خرید و فروخت کی تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں ( بیع کو توڑ دینے کا ) اختیار باقی رہتا ہے۔ یہ اس صورت میں کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں، لیکن اگر ایک نے دوسرے کو پسند کرنے کے لیے کہا اور اس شرط پر بیع ہوئی، اور دونوں نے بیع کا قطعی فیصلہ کر لیا، تو بیع اسی وقت منعقد ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر دونوں فریق بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، اور بیع سے کسی فریق نے بھی انکار نہیں کیا، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔