Narrated Ibn 'Umar (ra) : We were accompanying the Prophet (saws) on a journey and I was riding an unmanageable camel belonging to 'Umar (ra), and I could not bring it under my control. So, it used to go ahead of the party and 'Umar would check it and force it to retreat, and again it went ahead and again 'Umar forced it to retreat. The Prophet (saws) asked 'Umar to sell that camel to him. 'Umar replied, It is for you O Allah's Messenger ! Allah's Messenger (saws) told 'Umar to sell that camel to him (not to give it as gift). So, 'Umar sold it to Allah's Messenger (saws). Then the Prophet (saws) said to 'Abdullah bin 'Umar This camel is for you O 'Abdullah (as a present) and you could do with it whatever you like.
حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک نئے اور سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ اکثر وہ مجھے مغلوب کر کے سب سے آگے نکل جاتا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹ کر پیچھے واپس کر دیتے۔ وہ پھر آگے بڑھ جاتا۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ ڈال۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو آپ ہی کا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے یہ اونٹ دیدے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اونٹ بیچ ڈالا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ بن عمر! اب یہ اونٹ تیرا ہو گیا جس طرح تو چاہے اسے استعمال کر۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar (ra): I bartered my property in Khaibar to 'Uthman (chief of the faithful believers) for his property in Al-Wadi. When we finished the deal, I left immediately and got out of his house lest he should cancel the deal, for the tradition was that they buyer and the seller had the option of canceling the bargain unless they separated. When out deal was completed, I came to know that I have been unfair to 'Uthman, for by selling him my land I caused him to be in a land of Thamud, at a distance of three days journey from Al-Madina, while he made me neared to Al-Madina, at a distance of three days journey from my former land.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ میں نے امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی وادی قریٰ کی زمین، ان کی خیبر کی زمین کے بدلے میں بیچی تھی۔ پھر جب ہم نے بیع کر لی تو میں الٹے پاؤں ان کے گھر سے اس خیال سے باہر نکل گیا کہ کہیں وہ بیع فسخ نہ کر دیں۔ کیونکہ شریعت کا قاعدہ یہ تھا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو ( بیع توڑنے کا ) اختیار اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہماری خرید و فروخت پوری ہو گئی اور میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ ( اس تبادلہ کے نتیجے میں، میں نے ان کی پہلی زمین سے ) انہیں تین دن کے سفر کی دوری پر ثمود کی زمین کی طرف دھکیل دیا تھا اور انہوں نے مجھے ( میری مسافت کم کر کے ) مدینہ سے صرف تین دن کے سفر کی دوری پر لا چھوڑا تھا۔