صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

The book of sales (bargains).

بیع مزابنہ کے بیان میں

(82) CHAPTER. The sale called Al-Muzabana; which is sale of dried dates for fresh ones (that are still on the trees), and dried grapes for fresh grapes and the sale called Al-Araya (i.e., the selling of ripe fresh date, still over the palms, by means of estimation, for dry date)


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ ، اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا ، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں۔

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح