TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

(12) CHAPTER. Drinking water by people and watering animals from the rivers. - نہروں میں سے آدمی اور جانور سب پانی پی سکتے ہیں - The book of watering. - Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Chapter 12 of The book of watering. in Sahih Bukhari. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 17 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَطَالَ بِهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ ، وَلَوْ أَنَّهُ انْقَطَعَ طِيَلُهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ ، وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ فَهِيَ لِذَلِكَ أَجْرٌ ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ ، وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الْحُمُرِ ؟ فَقَالَ : مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ { 7 } وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ { 8 } سورة الزلزلة آية 7-8 .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Keeping horses may be a source of reward to some (man), a shelter to another (i.e. means of earning one's living), or a burden to a third. He to whom the horse will be a source of reward is the one who keeps it in Allah's Cause (prepare it for holy battles) and ties it by a long rope in a pasture (or a garden). He will get a reward equal to what its long rope allows it to eat in the pasture or the garden, and if that horse breaks its rope and crosses one or two hills, then all its footsteps and its dung will be counted as good deeds for its owner; and if it passes by a river and drinks from it, then that will also be regarded as a good deed for its owner even if he has had no intention of watering it then. Horses are a shelter from poverty to the second person who keeps horses for earning his living so as not to ask others, and at the same time he gives Allah's right (i.e. rak`at) (from the wealth he earns through using them in trading etc.,) and does not overburden them. He who keeps horses just out of pride and for showing off and as a means of harming the Muslims, his horses will be a source of sins to him. When Allah's Apostle was asked about donkeys, he replied, Nothing particular was revealed to me regarding them except the general unique verse which is applicable to everything: Whoever does goodness equal to the weight of an atom (or small ant) shall see it (its reward) on the Day of Resurrection.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں ابوصالح سمان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گھوڑا ایک شخص کے لیے باعث ثواب ہے، دوسرے کے لیے بچاؤ ہے اور تیسرے کے لیے وبال ہے۔ جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب ہے، وہ وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ کے لیے اس کو پالے، وہ اسے کسی ہریالے میدان میں باندھے ( راوی نے کہا ) یا کسی باغ میں۔ تو جس قدر بھی وہ اس ہریالے میدان میں یا باغ میں چرے گا۔ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اس کی رسی ٹوٹ گئی اور گھوڑا ایک یا دو مرتبہ آگے کے پاؤں اٹھا کر کودا تو اس کے آثار قدم اور لید بھی مالک کی نیکیوں میں لکھے جائیں گے اور اگر وہ گھوڑا کسی ندی سے گزرے اور اس کا پانی پئے خواہ مالک نے اسے پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ تو اس نیت سے پالا جانے ولا گھوڑا انہیں وجوہ سے باعث ثواب ہے دوسرا شخص وہ ہے جو لوگوں سے بےنیاز رہنے اور ان کے سامنے دست سوال بڑھانے سے بچنے کے لیے گھوڑا پالے، پھر اس کی گردن اور اس کی پیٹھ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے حق کو بھی فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اپنے مالک کے لیے پردہ ہے۔ تیسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور مسلمانوں کی دشمنی میں پالے۔ تو یہ گھوڑا اس کے لیے وبال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی حکم وحی سے معلوم نہیں ہوا۔ سوا اس جامع آیت کے «من يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔“
2371
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، عَنِ اللُّقَطَةِ ؟ فَقَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، قَالَ : فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا .
Narrated Zaid bin Khalid: A man came to Allah's Apostle and asked about Al-Luqata (a fallen thing). The Prophet said, Recognize its container and its tying material and then make a public announcement about it for one year and if its owner shows up, give it to him; otherwise use it as you like. The man said, What about a lost sheep? The Prophet said, It is for you, your brother or the wolf. The man said What about a lost camel? The Prophet said, Why should you take it as it has got its water-container (its stomach) and its hooves and it can reach the places of water and can eat the trees till its owner finds it?
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے منبعت کے غلام یزید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور آپ سے لقطہ ( راستے میں کسی کی گم ہوئی چیز جو پا گئی ہو ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کی خوب جانچ کر لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اس عرصے میں اگر اس کا مالک آ جائے ( تو اسے دے دو ) ورنہ پھر وہ چیز تمہاری ہے۔ سائل نے پوچھا، اور گمشدہ بکری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑئیے کی ہے۔ سائل نے پوچھا اور گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اسے سیراب رکھنے والی چیز ہے اور اس کا گھر ہے، پانی پر بھی وہ جا سکتا ہے اور درخت ( کے پتے ) بھی کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا جائے۔
2372
Sahih

Chapters

17
01
(1b) CHAPTER. Whoever things that giving water in charity, or as a gift or by way of a testament is permissible, whether it is divided or not.
پانی کی تقسیم
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. Whoever said, The owner of the water has the right to drink till he is satisfied, as a Prophet said, Superfluous water should not be withheld from others.
اس کے بارے میں جس نے کہا کہ پانی کا مالک پانی کا زیادہ حقدار ہے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. If one digs a well in his own land and somebody falls in it and dies, and owner is not reponsible.
جس نے اپنی ملک میں کوئی کنواں کھودا ، اس میں کوئی گر کر مر جائے تو اس پر تاوان نہ ہوگا
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. Disputes and controversies about wells and the settlement of such disputes and contraversies.
کنویں کے بارے میں جھگڑنا اور اس کا فیصلہ
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. The sin of him who withholds water from wayfarer and travellers.
اس شخص کا گناہ جس نے کسی مسافر کو پانی سے روک دیا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The dams of rivers.
نہر کا پانی روکنا
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The land near the source of water has the right to be irrigated before the one that is farther.
جس کا کھیت بلندی پر ہو پہلے وہ اپنے کھیتوں کو پانی پلائے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The land nearer to the source of water has the right to be covered with water up to the ankles.
بلند کھیت والا ٹخنوں تک پانی بھر لے
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The superiority of providing water (to those who need it) .
پانی پلانے کے ثواب کا بیان
3 Hadith
10
(10) CHAPTER. Whoever thinks that the owner of a tank, or a leather water-containe has a more.
جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حقدار ہے
4 Hadith
11
(11) CHAPTER. No Hima (private pasture) except according to what Allah and His Messenger did.
اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی اور چراگاہ محفوظ نہیں کرسکتا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Drinking water by people and watering animals from the rivers.
نہروں میں سے آدمی اور جانور سب پانی پی سکتے ہیں
2 Hadith
13
(13) CHAPTER. The selling of wood and grass.
لکڑی اور گھاس بیچنا
3 Hadith
14
(14) CHAPTER. The uncultivated pieces of land (granted by the ruler to some individuals).
قطعات اراضی بطور جاگیر دینے کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. Documentation of the land grants.
قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. Milking she-camels at water places.
اونٹنی کو پانی کے پاس دوہنا
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. One may have the right to pass through a garden or to have a share in date-palms.
باغ میں سے گزرنے کا حق یا کھجور کے درختوں میں پانی پلانے کا حصہ
6 Hadith
No chapter matched that.