صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب غلاموں کی آزادی کے بیان میں

The book of manumission (of slaves).

ایک شخص نے آزاد کرنے کی نیت سے اپنے غلام سے کہہ دیا کہ وہ اللہ کے لیے ہے ( تو وہ آزاد ہو گیا ) اور آزادی کے ثبوت کے لیے گواہ ( ضروری ہیں )

(7) CHAPTER. If somebody says to his slave that he is for Allah; and by that he intends to manumit him (the slave is manumitted). And the witness for manumission.

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ لَمَّا أَقْبَلَ يُرِيدُ الْإِسْلَامَ وَمَعَهُ غُلَامُهُ ضَلَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ ، فَأَقْبَلَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَذَا غُلَامُكَ قَدْ أَتَاكَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُ حُرٌّ ، قَالَ : فَهُوَ حِينَ يَقُولُ : يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ .

Narrated Qais: When Abu Huraira accompanied by his slave set out intending to embrace Islam they lost each other on the way. The slave then came while Abu Huraira was sitting with the Prophet. The Prophet said, O Abu Huraira! Your slave has come back. Abu Huraira said, Indeed, I would like you to witness that I have manumitted him. That happened at the time when Abu Huraira recited (the following poetic verse):-- 'What a long tedious tiresome night! Nevertheless, it has delivered us From the land of Kufr (disbelief).

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن بشر نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جب وہ اسلام قبول کرنے کے ارادے سے ( مدینہ کے لیے ) نکلے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا۔ ( راستے میں ) وہ دونوں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ پھر جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( مدینہ پہنچنے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان کا غلام بھی اچانک آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہریرہ! یہ لو تمہارا غلام بھی آ گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ غلام اب آزاد ہے۔ راوی نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ پہنچ کر یہ شعر کہے تھے۔ ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات، پر دلائی اس نے دالکفر سے مجھ کو نجات۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ : يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ ، قَالَ : وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَايَعْتُهُ ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَذَا غُلَامُكَ ؟ فَقُلْتُ : هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ ، فَأَعْتَقْتُهُ . قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : لَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حُرٌّ .

Narrated Abu Huraira: On my way to the Prophet I was reciting:-- 'What a long tedious tiresome night! Nevertheless, it has saved us From the land of Kufr (disbelief).' I had a slave who ran away from me on the way. When I went to the Prophet and gave the pledge of allegiance for embracing Islam, the slave showed up while I was still with the Prophet who remarked, O Abu Huraira! Here is your slave! I said, I manumit him for Allah's Sake, and so I freed him.

ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آتے ہوئے راستے میں یہ شعر کہا تھا: ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات، پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں میرا غلام مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام پر قائم رہنے کے لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ میں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابوہریرہ! یہ دیکھ تیرا غلام بھی آ گیا۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! وہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ پھر میں نے اسے آزاد کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکریب نے ( اپنی روایت میں ) ابواسامہ سے یہ لفظ نہیں روایت کیا کہ وہ آزاد ہے۔

حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَعَهُ غُلَامُهُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْإِسْلَامَ ، فَضَلَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِهَذَا ، وَقَالَ : أَمَا إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُ لِلَّهِ .

Narrated Qais: When Abu Huraira accompanied by his slave came intending to embrace Islam, they lost each other on the way. (When the slave showed up) Abu Huraira said (to the Prophet), I make you witness that the slave is free for Allah's Cause.

ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آ رہے تھے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا، آپ اسلام کے ارادے سے آ رہے تھے۔ اچانک راستے میں وہ غلام بھول کر الگ ہو گیا ( پھر یہی حدیث بیان کی ) اس میں یوں ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کے لیے ہے۔