صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب غلاموں کی آزادی کے بیان میں

The book of manumission (of slaves).

اگر کسی مسلمان کا مشرک بھائی یا چچا قید ہو کر آئے تو کیا ( ان کو چھڑانے کے لیے ) اس کی طرف سے فدیہ دیا جا سکتا ہے ؟

(11) CHAPTER. If the brother or the uncle of somebody was taken as a war prisoner, then can he ransom him if he is a Mushrik?

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رِجَالًا مِنْ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ائْذَنْ لَنَا ، فَلْنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَاءَهُ ، فَقَالَ : لَا تَدَعُونَ مِنْهُ دِرْهَمًا .

Narrated Anas: Some men of the Ansar asked for the permission of Allah's Apostle and said, Allow us to give up the ransom from our nephew Al-`Abbas. The Prophet said (to them), Do not leave (even) a Dirham (of his ransom).

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اجازت چاہی اور آ کر عرض کیا کہ آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیجئیے کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ معاف کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ایک درہم بھی نہ چھوڑو۔