صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان

The book of gifts and the superiority of giving gifts and the exhortation for giving gifts.

اپنے کسی دوست کو خاص اس دن تحفہ بھیجنا جب وہ اپنی ایک خاص بیوی کے پاس ہو

(8) CHAPTER. Whosoever gave a gift to his friend and chose (the time) when he was at the home of some of his wives and did not give it to him, while he was in the homes of his other wives.


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمِي . وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : إِنَّ صَوَاحِبِي اجْتَمَعْنَ ، فَذَكَرَتْ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهَا .

Narrated `Aisha: The people used to send gifts to the Prophet on the day of my turn. Um Salama said: My companions (the wives of the Prophet Other than Aisha) gathered and they complained about it. So I informed the Prophet about it on their behalf, but he remained silent.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ہشام سے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگ تحائف بھیجنے کے لیے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میری سوکنیں ( امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن ) جمع تھیں اس وقت انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بطور شکایت لوگوں کی اس روش کا ) ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح