صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان

The book of gifts and the superiority of giving gifts and the exhortation for giving gifts.

اگر کوئی شخص اونٹ پر سوار ہو اور دوسرا شخص وہ اونٹ اس کو ہبہ کر دے تو درست ہے

(26) CHAPTER. If someone gives a camel as a gift to a man riding it, then the deed is valid.

وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : بِعْنِيهِ ، فَابْتَاعَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ .

Narrated Ibn 'Umar (ra): We were in the company of the Prophet (saws) on a journey, and I was riding a troublesome camel. The Prophet (saws) asked 'Umar to sell that camel to him. So, 'Umar sold it to him. The Prophet (saws) then said, O 'Abdullah! The camel is for you.

اور حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور میں ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا اور پھر فرمایا عبداللہ! تو یہ اونٹ لے جا ( میں نے یہ تجھ کو بخش دیا ) ۔