صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب ہبہ کےمسائل فضیلت اور ترغیب کا بیان

The book of gifts and the superiority of giving gifts and the exhortation for giving gifts.

جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے ( کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ) لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔

(37) CHAPTER. If somebody gives another person a horse (as a gift) then the rule is the same as that concerning the Umra or Sadaqa (i.e., the giver has no right to claim restitution).

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا تَشْتَرِهِ ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ .

Narrated `Umar bin Al-Khattab: Once I gave a horse (for riding) in Allah's Cause. Later I saw it being sold. I asked Allah's Apostle (whether I could buy it). He said, Don't buy it, for you should not get back what you have given in charity.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا کہ میں نے مالک سے سنا، انہوں نے زید بن اسلم سے پوچھا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک شخص کو دے دیا تھا، پھر میں نے دیکھا کہ وہ اسے بیچ رہا ہے۔ اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اسے واپس میں ہی خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس گھوڑے کو نہ خرید۔ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لو۔“