صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب جہاد کا بیان

The book of jihad (fighting for allah’s cause).

یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے

(101) CHAPTER. What is said regarding the invitation of the Jews and Christians (to Islam), and for what Muslim should declare war against them.

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ : إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَخْتُومًا ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ .

Narrated Anas: When the Prophet intended to write a letter to the ruler of the Byzantines, he was told that those people did not read any letter unless it was stamped with a seal. So, the Prophet got a silver ring-- as if I were just looking at its white glitter on his hand ---- and stamped on it the expression Muhammad, Apostle of Allah .

ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی قتادہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ بیان کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ سربمہر نہ ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ گویا دست مبارک پر اس کی سفیدی میری نظروں کے سامنے ہے۔ اس انگوٹھی پر ”محمد رسول اللہ“ کھدا ہوا تھا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى ، فَلَمَّا قَرَأَهُ كِسْرَى حَرَّقَهُ ، فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ .

Narrated `Abdullah bin `Abbas: Allah's Apostle sent his letter to Khusrau and ordered his messenger to hand it over to the Governor of Bahrain who was to hand it over to Khusrau. So, when Khusrau read the letter he tore it. Sa`id bin Al- Musaiyab said, The Prophet then invoked Allah to disperse them with full dispersion, (destroy them (i.e. Khusrau and his followers) severely) .

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خط کسریٰ کے پاس بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایلچی سے ) یہ فرمایا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کو بحرین کے گورنر کو دے دیں، بحرین کا گورنر اسے کسریٰ کے دربار میں پہنچا دے گا۔ جب کسریٰ نے مکتوب مبارک پڑھا تو اسے اس نے پھاڑ ڈالا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا تھا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بددعا کی تھی کہ وہ بھی پارہ پارہ ہو جائے ( چنانچہ ایسا ہی ہوا ) ۔