TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of jihad (fighting for allah’s cause). - کتاب جہاد کا بیان - Book 57 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 57 of Sahih Bukhari, with 189 chapters and 309 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

309 Hadith · 189 Chapters
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ الْعَيْزَارِ ذَكَرَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَأَلْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ، قَالَ : ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ، قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَسَكَتُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
Narrated `Abdullah bin Masud: I asked Allah's Apostle, O Allah's Apostle! What is the best deed? He replied, To offer the prayers at their early stated fixed times. I asked, What is next in goodness? He replied, To be good and dutiful to your parents. I further asked, what is next in goodness? He replied, To participate in Jihad in Allah's Cause. I did not ask Allah's Apostle anymore and if I had asked him more, he would have told me more.
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ولید بن عیزار سے سنا ‘ ان سے سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ولید بن عیزار سے سنا ‘ ان سے سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ دین کے کاموں میں کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وقت پر نماز پڑھنا۔“ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات نہیں کئے ‘ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے۔
2782
Sahih
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا .
Narrated Ibn `Abbas: Allah's Apostle said, There is no Hijra (i.e. migration) (from Mecca to Medina) after the Conquest (of Mecca), but Jihad and good intention remain; and if you are called (by the Muslim ruler) for fighting, go forth immediately.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے بیان کیا مجاہد سے ‘ انہوں نے طاؤس سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فتح مکہ کے بعد اب ہجرت ( فرض ) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو۔“
2783
Sahih
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِتُرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاهِدُ ، قَالَ : لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ .
Narrated `Aisha: (That she said), O Allah's Apostle! We consider Jihad as the best deed. Should we not fight in Allah's Cause? He said, The best Jihad (for women) is Hajj-Mabrur (i.e. Hajj which is done according to the Prophet's tradition and is accepted by Allah).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا عائشہ بنت طلحہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) نے کہ انہوں پوچھا یا رسول اللہ! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے پھر ہم ( عورتیں ) بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لیکن سب سے افضل جہاد مقبول حج ہے جس میں گناہ نہ ہوں۔“
2784
Sahih
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو حَصِينٍ أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ ، قَالَ : لَا أَجِدُهُ ، قَالَ : هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ ، وَلَا تَفْتُرَ ، وَتَصُومَ ، وَلَا تُفْطِرَ ، قَالَ : وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ .
Narrated Abu Huraira: A man came to Allah's Apostle and said, Instruct me as to such a deed as equals Jihad (in reward). He replied, I do not find such a deed. Then he added, Can you, while the Muslim fighter is in the battle-field, enter your mosque to perform prayers without cease and fast and never break your fast? The man said, But who can do that? Abu- Huraira added, The Mujahid (i.e. Muslim fighter) is rewarded even for the footsteps of his horse while it wanders bout (for grazing) tied in a long rope.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ہمام نے ‘ کہا ہم سے محمد بن حجادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے ابوحصین نے خبر دی ‘ ان سے ذکوان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب ( نام نامعلوم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد ( جہاد کے لیے ) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور ( نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں ) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین ( پر پاؤں ) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
2785
Sahih
(2) CHAPTER. The best among the people is that believer who strives his utmost in Allah's Cause with both his life and property.
سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، قَالُوا : ثُمَّ مَنْ ، قَالَ : مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: Somebody asked, O Allah's Apostle! Who is the best among the people? Allah's Apostle replied A believer who strives his utmost in Allah's Cause with his life and property. They asked, Who is next? He replied, A believer who stays in one of the mountain paths worshipping Allah and leaving the people secure from his mischief.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاء بن یزید لیثی نے کہا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! کون شخص سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا ”وہ مومن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں رہنا اختیار کرے ‘ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہو اور لوگوں کو چھوڑ کر اپنی برائی سے ان کو محفوظ رکھے۔“
2786
Sahih
(2) CHAPTER. The best among the people is that believer who strives his utmost in Allah's Cause with both his life and property.
سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ ، وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ ، بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يَرْجِعَهُ سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ ، أَوْ غَنِيمَةٍ .
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, The example of a Mujahid in Allah's Cause-- and Allah knows better who really strives in His Cause----is like a person who fasts and prays continuously. Allah guarantees that He will admit the Mujahid in His Cause into Paradise if he is killed, otherwise He will return him to his home safely with rewards and war booty.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو ( خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ) اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔۔۔۔ اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتا رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کیلئے اس کی ذمہ داری لے لی ہے کہ اگر اسے شہادت دے گا تو اسے بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا یا پھر زندہ و سلامت ( گھر ) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔
2787
Sahih
(3) CHAPTER. The invocation of men and women that Allah may let them participate in Jihad and adorn them with martyrdom.
جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْعَمَتْهُ ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ شَكَّ إِسْحَاقُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَقُلْتُ : وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا ، قَالَ : فِي الْأَوَّلِ قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle used to visit Umm Haram bint Milhan, who would offer him meals. Umm Haram was the wife of Ubada bin As-Samit. Allah's Apostle, once visited her and she provided him with food and started looking for lice in his head. Then Allah's Apostle slept, and afterwards woke up smiling. Umm Haram asked, What causes you to smile, O Allah's Apostle? He said. Some of my followers who (in a dream) were presented before me as fighters in Allah's cause (on board a ship) amidst this sea caused me to smile; they were as kings on the thrones (or like kings on the thrones). (Ishaq, a sub-narrator is not sure as to which expression the Prophet used.) Umm Haram said, O Allah's Apostle! Invoke Allah that he makes me one of them. Allah's Apostle invoked Allah for her and slept again and woke up smiling. Once again Umm Haram asked, What makes you smile, O Allah's Apostle? He replied, Some of my followers were presented to me as fighters in Allah's Cause, repeating the same dream. Umm Haram said, O Allah's Apostle! Invoke Allah that He makes me one of them. He said, You are amongst the first ones. It happened that she sailed on the sea during the Caliphate of Mu'awiya bin Abi Sufyan, and after she disembarked, she fell down from her riding animal and died.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا امام مالک سے ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ( یہ انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں ‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لیے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے ‘ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں پہلے کی طرح ‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہو گی ( جو بحری راستے سے جہاد کرے گی ) چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہا نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرا دیا اور اسی حادثہ میں ان کی وفات ہو گئی۔
2788
Sahih
(3) CHAPTER. The invocation of men and women that Allah may let them participate in Jihad and adorn them with martyrdom.
جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْعَمَتْهُ ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، وَهُوَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ شَكَّ إِسْحَاقُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، وَهُوَ يَضْحَكُ ، فَقُلْتُ : وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا ، قَالَ : فِي الْأَوَّلِ قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle used to visit Umm Haram bint Milhan, who would offer him meals. Umm Haram was the wife of Ubada bin As-Samit. Allah's Apostle, once visited her and she provided him with food and started looking for lice in his head. Then Allah's Apostle slept, and afterwards woke up smiling. Umm Haram asked, What causes you to smile, O Allah's Apostle? He said. Some of my followers who (in a dream) were presented before me as fighters in Allah's cause (on board a ship) amidst this sea caused me to smile; they were as kings on the thrones (or like kings on the thrones). (Ishaq, a sub-narrator is not sure as to which expression the Prophet used.) Umm Haram said, O Allah's Apostle! Invoke Allah that he makes me one of them. Allah's Apostle invoked Allah for her and slept again and woke up smiling. Once again Umm Haram asked, What makes you smile, O Allah's Apostle? He replied, Some of my followers were presented to me as fighters in Allah's Cause, repeating the same dream. Umm Haram said, O Allah's Apostle! Invoke Allah that He makes me one of them. He said, You are amongst the first ones. It happened that she sailed on the sea during the Caliphate of Mu'awiya bin Abi Sufyan, and after she disembarked, she fell down from her riding animal and died.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا امام مالک سے ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ( یہ انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں ‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لیے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے ‘ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں پہلے کی طرح ‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہو گی ( جو بحری راستے سے جہاد کرے گی ) چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہا نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرا دیا اور اسی حادثہ میں ان کی وفات ہو گئی۔
2789
Sahih
(4) CHAPTER. The grades of the Mujadhidun (Muslim fighters) in Allah's Cause.
مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ ، قَالَ : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ ، فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ أُرَاهُ فَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Whoever believes in Allah and His Apostle, offer prayer perfectly and fasts the month of Ramadan, will rightfully be granted Paradise by Allah, no matter whether he fights in Allah's Cause or remains in the land where he is born. The people said, O Allah's Apostle ! Shall we acquaint the people with the is good news? He said, Paradise has one-hundred grades which Allah has reserved for the Mujahidin who fight in His Cause, and the distance between each of two grades is like the distance between the Heaven and the Earth. So, when you ask Allah (for something), ask for Al-firdaus which is the best and highest part of Paradise. (i.e. The sub-narrator added, I think the Prophet also said, 'Above it (i.e. Al-Firdaus) is the Throne of Beneficent (i.e. Allah), and from it originate the rivers of Paradise. )
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے ‘ ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ جنت میں داخل کرے گا خواہ اللہ کے راستے میں وہ جہاد کرے یا اسی جگہ پڑا رہے جہاں پیدا ہوا تھا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کئے ہیں ‘ ان کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے۔ یحییٰ بن صالح نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر پروردگار کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ محمد بن فلیح نے اپنے والد سے «وفوقه عرش الرحمن» ہی کی روایت کی ہے۔
2790
Sahih
(4) CHAPTER. The grades of the Mujadhidun (Muslim fighters) in Allah's Cause.
مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا ، قَالَا : أَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ .
Narrated Samura: The Prophet said, Last night two men came to me (in a dream) and made me ascend a tree and then admitted me into a better and superior house, better of which I have never seen. One of them said, 'This house is the house of martyrs.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے ‘ کہا ہم سے ابورجاء نے ‘ ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے رات میں دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے پھر وہ مجھے لے کر ایک درخت پر چڑھے اور اس کے بعد مجھے ایک ایسے مکان میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بڑا پاکیزہ تھا، ایسا خوبصورت مکان میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ یہ گھر شہیدوں کا ہے۔“
2791
Sahih
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, A single endeavor (of fighting) in Allah's Cause in the forenoon or in the afternoon is better than the world and whatever is in it.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہب بن خالد نے (فضل جہاد میں) بیان کیا ‘ کہا ہم سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح یا ایک شام دنیا سے اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بہتر ہے۔“
2792
Sahih
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَقَابُ قَوْسٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ ، وَقَالَ : لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, A place in Paradise as small as a bow is better than all that on which the sun rises and sets (i.e. all the world). He also said, A single endeavor in Allah's Cause in the afternoon or in the forenoon is better than all that on which the sun rises and sets.
سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہلال بن علی سے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک ( کمان ) ہاتھ جگہ دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام چلنا ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“
2793
Sahih
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الرَّوْحَةُ وَالْغَدْوَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
Narrated Sahl bin Sa`d: The Prophet said, A single endeavor in Allah's Cause in the afternoon and in the forenoon is better than the world and whatever is in it.
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا انہوں نے ابوحازم سے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں گزرنے والی ایک صبح و شام دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے بڑھ کر ہے۔“
2794
Sahih
(6) CHAPTER. AI-Hur-ul-Ein (houris fair females) and their qualities.
بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان ‘ ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہوگی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا ، وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدَ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, Nobody who dies and finds good from Allah (in the Hereafter) would wish to come back to this world even if he were given the whole world and whatever is in it, except the martyr who, on seeing the superiority of martyrdom, would like to come back to the world and get killed again (in Allah's Cause).
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی بھی اللہ کا بندہ جو مر جائے اور اللہ کے پاس اس کی کچھ بھی نیکی جمع ہو وہ پھر دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا گو اس کی ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ مل جائے مگر شہید پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے کہ جب وہ ( اللہ تعالیٰ کے ) یہاں شہادت کی فضیلت کو دیکھے گا تو چاہے گا کہ دنیا میں دوبارہ آئے اور پھر قتل ہو ( اللہ تعالیٰ کے راستے میں ) ۔
2795
Sahih
(6) CHAPTER. AI-Hur-ul-Ein (houris fair females) and their qualities.
بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان ‘ ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہوگی
وَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَوْ مَوْضِعُ قِيدٍ يَعْنِي سَوْطَهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلَأَتْهُ رِيحًا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا .
Narrated Anas: The Prophet said, A single endeavor (of fighting) in Allah's Cause in the afternoon or in the forenoon is better than all the world and whatever is in it. A place in Paradise as small as the bow or lash of one of you is better than all the world and whatever is in it. And if a houri from Paradise appeared to the people of the earth, she would fill the space between Heaven and the Earth with light and pleasant scent and her head cover is better than the world and whatever is in it.
اور میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے تھے کہ اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام بھی گزار دینا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سب سے بہتر ہے اور کسی کے لیے جنت میں ایک ہاتھ کے برابر جگہ بھی یا ( راوی کو شبہ ہے ) ایک «قيد» جگہ، «قيد» سے مراد کوڑا ہے، «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے اور اگر جنت کی کوئی عورت زمین کی طرف جھانک بھی لے تو زمین و آسمان اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ منور ہو جائیں اور خوشبو سے معطر ہو جائیں۔ اس کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بڑھ کر ہے۔
2796
Sahih
(7) CHAPTER. The wish for martyrdom.
شہادت کی آرزو کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أُحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, By Him in Whose Hands my life is! Were it not for some men amongst the believers who dislike to be left behind me and whom I cannot provide with means of conveyance, I would certainly never remain behind any Sariya' (army-unit) setting out in Allah's Cause. By Him in Whose Hands my life is! I would love to be martyred in Allah's Cause and then get resurrected and then get martyred, and then get resurrected again and then get martyred and then get resurrected again and then get martyred.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مسلمانوں کے دلوں میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل جاؤں اور مجھے خود اتنی سواریاں میسر نہیں ہیں کہ ان سب کو سوار کر کے اپنے ساتھ لے چلوں تو میں کسی چھوٹے سے چھوٹے ایسے لشکر کے ساتھ جانے سے بھی نہ رکتا جو اللہ کے راستے میں غزوہ کے لیے جا رہا ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری تو آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کر دیا جاؤں۔
2797
Sahih
(7) CHAPTER. The wish for martyrdom.
شہادت کی آرزو کرنا
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ ، وَقَالَ : مَا يَسُرُّنَا أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ، قَالَ : أَيُّوبُ ، أَوْ قَالَ : مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet delivered a sermon and said, Zaid took the flag and was martyred, and then Ja`far took the flag and was martyred, and then `Abdullah bin Rawaha took the flag and was martyred too, and then Khalid bin Al-Walid took the flag though he was not appointed as a commander and Allah made him victorious. The Prophet further added, It would not please us to have them with us. Aiyub, a sub-narrator, added, Or the Prophet, shedding tears, said, 'It would not please them to be with us.'
ہم سے یوسف بن یعقوب صفار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فوج کا جھنڈا اب زید نے اپنے ہاتھ میں لیا اور وہ شہید کر دیئے گئے پھر جعفر نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے پھر عبداللہ بن رواحہ نے لے لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے اور اب کسی ہدایت کا انتظار کئے بغیر خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور ان کے ہاتھ پر اسلامی لشکر کو فتح ہوئی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور ہمیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ یہ لوگ جو شہید ہو گئے ہیں ہمارے پاس زندہ رہتے کیونکہ وہ بہت عیش و آرام میں چلے گئے ہیں۔ ایوب نے بیان کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ”انہیں کوئی اس کی خوشی بھی نہیں تھی کہ ہمارے ساتھ زندہ رہتے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔“
2798
Sahih
(8) CHAPTER. The superiority of him who goes in Allah's Cause and dies on the way, for he will be regarded as one of the martyrs.
اگر کوئی شخص جہاد میں سواری سے گر کر مر جائے تو اس کا شمار بھی مجاہدین میں ہو گا ، اس کی فضیلت
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، قَالَتْ : نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، يَتَبَسَّمُ ، فَقُلْتُ : مَا أَضْحَكَكَ ، قَالَ : أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : مِثْلَ قَوْلِهَا فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّأْمَ ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ .
Narrated Anas bin Malik: Um Haram said, Once the Prophet slept in my house near to me and got up smiling. I said, 'What makes you smile?' He replied, 'Some of my followers who (i.e. in a dream) were presented to me sailing on this green sea like kings on thrones.' I said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah to make me one of them. So the Prophet invoked Allah for her and went to sleep again. He did the same (i.e. got up and told his dream) and Um Haran repeated her question and he gave the same reply. She said, Invoke Allah to make me one of them. He said, You are among the first batch. Later on it happened that she went out in the company of her husband 'Ubada bin As-Samit who went for Jihad and it was the first time the Muslims undertook a naval expedition led by Mu awiya. When the expedition came to an end and they were returning to Sham, a riding animal was presented to her to ride, but the animal let her fall and thus she died.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو غزوہ کرنے کے لیے اس بہتے دریا پر سوار ہو کر جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آپ میرے لیے بھی دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی کیا ( بیدار ہوتے ہوئے مسکرائے ) ام حرام رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی عرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا آپ دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی چنانچہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں غزوہ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو ام حرام رضی اللہ عنہا کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہو جائیں لیکن جانور نے انہیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔
2799
Sahih
(8) CHAPTER. The superiority of him who goes in Allah's Cause and dies on the way, for he will be regarded as one of the martyrs.
اگر کوئی شخص جہاد میں سواری سے گر کر مر جائے تو اس کا شمار بھی مجاہدین میں ہو گا ، اس کی فضیلت
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، قَالَتْ : نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، يَتَبَسَّمُ ، فَقُلْتُ : مَا أَضْحَكَكَ ، قَالَ : أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : مِثْلَ قَوْلِهَا فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّأْمَ ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ .
Narrated Anas bin Malik: Um Haram said, Once the Prophet slept in my house near to me and got up smiling. I said, 'What makes you smile?' He replied, 'Some of my followers who (i.e. in a dream) were presented to me sailing on this green sea like kings on thrones.' I said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah to make me one of them. So the Prophet invoked Allah for her and went to sleep again. He did the same (i.e. got up and told his dream) and Um Haran repeated her question and he gave the same reply. She said, Invoke Allah to make me one of them. He said, You are among the first batch. Later on it happened that she went out in the company of her husband 'Ubada bin As-Samit who went for Jihad and it was the first time the Muslims undertook a naval expedition led by Mu awiya. When the expedition came to an end and they were returning to Sham, a riding animal was presented to her to ride, but the animal let her fall and thus she died.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو غزوہ کرنے کے لیے اس بہتے دریا پر سوار ہو کر جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آپ میرے لیے بھی دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی کیا ( بیدار ہوتے ہوئے مسکرائے ) ام حرام رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی عرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا آپ دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی چنانچہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں غزوہ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو ام حرام رضی اللہ عنہا کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہو جائیں لیکن جانور نے انہیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔
2800
Sahih
(9) CHAPTER. (The reward of) him who is injured or stabbed in Allah's Cause.
جس کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچے ( یعنی اس کے کسی عضو کو صدمہ ہو )
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرُ الْحَوْضِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى بَنِي عَامِرٍ فِي سَبْعِينَ ، فَلَمَّا قَدِمُوا ، قَالَ : لَهُمْ خَالِي أَتَقَدَّمُكُمْ فَإِنْ أَمَّنُونِي حَتَّى أُبَلِّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِلَّا كُنْتُمْ مِنِّي قَرِيبًا فَتَقَدَّمَ فَأَمَّنُوهُ فَبَيْنَمَا يُحَدِّثُهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثُمَّ مَالُوا عَلَى بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ ، فَقَتَلُوهُمْ إِلَّا رَجُلًا أَعْرَجَ صَعِدَ الْجَبَلَ ، قَالَ هَمَّامٌ : فَأُرَاهُ آخَرَ مَعَهُ ، فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ ، فَكُنَّا نَقْرَأُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ، ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ ، وَبَنِي لَحْيَانَ ، وَبَنِي عُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Anas: The Prophet sent seventy men from the tribe of Bani Salim to the tribe of Bani Amir. When they reached there, my maternal uncle said to them, I will go ahead of you, and if they allow me to convey the message of Allah's Apostle (it will be all right); otherwise you will remain close to me. So he went ahead of them and the pagans granted him security But while he was reporting the message of the Prophet , they beckoned to one of their men who stabbed him to death. My maternal uncle said, Allah is Greater! By the Lord of the Ka`ba, I am successful. After that they attached the rest of the party and killed them all except a lame man who went up to the top of the mountain. (Hammam, a sub-narrator said, I think another man was saved along with him). Gabriel informed the Prophet that they (i.e the martyrs) met their Lord, and He was pleased with them and made them pleased. We used to recite, Inform our people that we have met our Lord, He is pleased with us and He has made us pleased Later on this Qur'anic Verse was cancelled. The Prophet invoked Allah for forty days to curse the murderers from the tribe of Ral, Dhakwan, Bani Lihyan and Bam Usaiya who disobeyed Allah and his Apostle.
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے ان سے اسحاق نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ( 70 ) ستر آدمی ( جو قاری تھے ) بنو عامر کے یہاں بھیجے۔ جب یہ سب حضرات ( بئرمعونہ پر ) پہنچے تو میرے ماموں حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا میں ( بنو سلیم کے یہاں ) آگے جاتا ہوں اگر مجھے انہوں نے اس بات کا امن دے دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں ان تک پہنچاؤں تو۔ بہتر ورنہ تم لوگ میرے قریب تو ہو ہی۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں گئے اور انہوں نے امن بھی دے دیا۔ ابھی وہ قبیلہ کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنا ہی رہے تھے کہ قبیلہ والوں نے اپنے ایک آدمی ( عامر بن طفیل ) کو اشارہ کیا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر برچھا پیوست کر دیا جو آرپار ہو گیا۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا اللہ اکبر میں کامیاب ہو گیا کعبہ کے رب کی قسم! اس کے بعد قبیلہ والے حرام رضی اللہ عنہ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف ( جو ستر کی تعداد میں تھے ) بڑھے اور سب کو قتل کر دیا۔ البتہ ایک صاحب جو لنگڑے تھے ‘ پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ہمام ( راوی حدیث ) نے بیان کیا میں سمجھتا ہوں کہ ایک اور ان کے ساتھ ( پہاڑ پر چڑھے تھے ) ( عمر بن امیہ ضمری ) اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے جا ملے ہیں پس اللہ خود بھی ان سے خوش ہے اور انہیں بھی خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہم ( قرآن کی دوسری آیتوں کے ساتھ یہ آیت بھی ) پڑھتے تھے ( ترجمہ ) ہماری قوم کے لوگوں کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آ ملے ہیں ‘ پس ہمارا رب خود بھی خوش ہے اور ہمیں بھی خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد یہ آیت منسوخ ہو گئی ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن تک صبح کی نماز میں قبیلہ رعل ‘ ذکوان ‘ بنی لحیان اور بنی عصیہ کے لیے بددعا کی تھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔
2801
Sahih

Chapters

189
01
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
4 Hadith
02
(2) CHAPTER. The best among the people is that believer who strives his utmost in Allah's Cause with both his life and property.
سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The invocation of men and women that Allah may let them participate in Jihad and adorn them with martyrdom.
جہاد اور شہادت کے لئے مرد اور عورت دونوں کا دعاکرنا
2 Hadith
04
(4) CHAPTER. The grades of the Mujadhidun (Muslim fighters) in Allah's Cause.
مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. To proceed in Allah's Cause in the forenoon and in the afternoon. A place in Paradise as small as the bow of one of you (is better than the world and whatever is in it).
اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنتمیں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. AI-Hur-ul-Ein (houris fair females) and their qualities.
بڑی آنکھ والی حوروں کا بیان ‘ ان کی صفات جن کو دیکھ کر آنکھ حیران ہوگی
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The wish for martyrdom.
شہادت کی آرزو کرنا
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. The superiority of him who goes in Allah's Cause and dies on the way, for he will be regarded as one of the martyrs.
اگر کوئی شخص جہاد میں سواری سے گر کر مر جائے تو اس کا شمار بھی مجاہدین میں ہو گا ، اس کی فضیلت
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. (The reward of) him who is injured or stabbed in Allah's Cause.
جس کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچے ( یعنی اس کے کسی عضو کو صدمہ ہو )
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. (The superiority of) him who is wounded in Allah's Cause.
جو اللہ کے راستے میں زخمی ہوا ؟ اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The Statement of Allah: “Say: Do you wait for us (anything) except one of the two best things (martyrdom or victory)? ...” (V.9:52)
فرمان الہیٰ کہ اے پیغمبر ! ان کافروں سے کہہ دو
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah (i.e., that they have gone out for Jihad (holy fighting) and showed not their backs to the disbelievers), of them some have fulfilled their obligations (i.e., have been martyred), and some of them are still waiting, but they have never changed in the least. (V.33:23)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. Practising good deeds before taking part in a (holy) battle.
جنگ سے پہلے کوئی نیک عمل کرنا
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Whoever is struck and killed by an arrow thrown by an unidentified person.
کسی کو اچا نک نامعلوم تیر لگا اور اس تیر نے اسے ماردیا ‘ اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. Whoever fights so that Allah's Word (i.e., Allah's religion of Islamic Monotheism) be superior.
جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے ‘ اس کی فضیلت
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. (The superiority of him) Whose feet get covered with dust in Allah's Cause.
جس کے قدم اللہ کے راستے میں غبارآلود ہوئے اس کا ثواب
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. To remove the dust which falls on one's head (whilst striving) in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. To take a bath after fighting and (after being soild with) dust.
جنگ اور گرد غبار کے بعد غسل کرنا
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. The superiority of (those people for whom) the following Statement of Allah (was revealed): “Think not of those who are killed in the Way of Allah as dead. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision. They rejoice in what Allah has betowed upon them of His Bounty, and rejoice for the sake of those who have not yet joined them, but are left behind (not yet martyred) that on them no fear shall come, nor shall they grieve. They rejoice in aGrace and a Bounty from Allah, and that Allah will not waste the reward of the believers. (V.3:169-171)
ان شہیدوں کی فضیلت جن کے بارے میں ان آیات کا نزول ہوا
2 Hadith
20
(20) CHAPTER. The shade of angels on the martyr.
شہیدوں پر فرشتوں کا سایہ کرنا
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. The wish of the (martyred) Mujahid to return to the world.
شہید کا دوباوہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. Paradise is under the blades of swords (Jihad in Allah's Cause).
جنت کا تلواروں کی چمک کے نیچے ہونا
1 Hadith
23
(23) CHAPTER. (The reward of him) who wishes to beget a son to send for Jihad.
جو جہاد کرنے کے لئے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. Bravery and cowardice in the battle.
جنگ کے موقع پر بہادری اور بزدلی کابیان
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. Seeking refuge with Allah from cowardice.
بزدلی سے خدا کی پناہ مانگنا
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. Whoever described what he has witnessed in the war.
جو شخص اپنی لڑائی کے کارنامے بیان کرے ‘ اس کا بیان
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. The obligation of going out for Jilhad when there is a general call to arms, and what sort of Jihad and intentions are compulsory.
جہا د کے لئے نکل کھڑا ہونا واجب ہے اور جہادکی نیت رکھنے کا واجب ہونا
1 Hadith
28
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے ‘ اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
29
(28) CHAPTER. (What about) a disbeliever who kills a Muslim and later on embraces Islam and starts doing good deeds and gets killed (in Allah's Cause)?
جہاد کو ( نفلی روزوں پر ) مقدم رکھنا
2 Hadith
30
(30) CHAPTER. There are seven martyrs other than those who are killed in Jihad (i.e., eight).
اللہ کی راہ میں مارے جانے کے سواشہادت کی اور بھی سات قسمیں ہیں
2 Hadith
31
(31) CHAPTER. The Statement of Allah: “Not equal are those of the believers who sit (at home), except those who are disabled (by injury or are blind or lame) ..(up to).. Ever Oft-Forgiving, Most Merciful. (V.4:95,96).
باب
3 Hadith
32
(32) CHAPTER. Patience during fighting.
کافروں سے لڑتے وقت صبر کرنا
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. Rousing and exhorting people to fight.
مسلمانوں کو ( محارب ) کافروں سے لڑنے کی رغبت دلانا
1 Hadith
34
(34) CHAPTER. The digging of the Khandaq (trench).
خندق کھودنے کا بیان
3 Hadith
35
(35) CHAPTER. (The rewad of) whoever is held back from Jihad by a legal cause.
جو شخص کسی معقول عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوسکا
2 Hadith
36
(36) CHAPTER. The superiority of observing Saum (fast) in Allah's Cause (to seek His good pleasure).
جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. The superiority of spending in Allah's Cause (i.e., for Jihad).
اللہ کی راہ ( جہاد میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. The superiority of one who prepares a Ghazi (fighter for Jihad) or looks after his dependents in his absence.
جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے ‘ اس کی فضیلت
2 Hadith
39
(39) CHAPTER. To apply Hanut (i.e., a kind os scent) during the battle.
جنگ کے موقع پر خوشبو ملنا
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. The superiority of the reconnoiterer.
دشمنوں کی خبر لانے والے دستہ کی فضیلت
1 Hadith
41
(41) CHAPTER. Can the reconnoitrer be sent alone?
کیا جاسوسی کے لئے کسی ایک شخص کو بھیجا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. The travelling of two persons together.
دو آدمیوں کا مل کر سفر کرنا
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. Good will remain (as a peranent quality) in the forelocks of horses (especially those kept for the purpose of Jihad) till the Day of Resurrection.
قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے
3 Hadith
44
(44) CHAPTER. Jihad is to be carried on whether the Muslim ruler who calls for it is good or bad.
مسلمانوں کا امیر عادل ہو یا ظالم اس کی قیادت میں جہاد ہمیشہ ہوتا رہے گا
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. (The superiority of) the one keeps a horse (for the purpose of Jihad in Allah's Cause), as is indicated by the Statement of Allah: [And make ready against them all you can of power,] including steeds of war (tanks, planes, missiles, artillery etc,)... (V.8:60)
جو شخص جہاد کی نیت سے ( گھوڑا پالے ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( ( و من رباط الخیل ) ) کی تعمیل میں
1 Hadith
46
(46) CHAPTER. To name a horse and a donkey.
گھوڑوں اور گدھوں کا نام رکھنا
4 Hadith
47
(47) CHAPTER. What has been said about the evil omen of a horse.
اس بیان میں کہ بعض گھوڑے منحوس ہوتے ہیں
2 Hadith
48
(48) CHAPTER. Horses (are kept) for three (purposes).
گھوڑے کے رکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں
1 Hadith
49
(49) CHAPTER. Whoever beats somebody else's animal during the battle (intending to help its rider).
جہاد میں دوسرے کے جانورکو مارنا
1 Hadith
50
(50) CHAPTER. Riding on an unmanageable animal or a stallion horse.
سخت سرکش جانور اورنر گھوڑے کی سواری کرنا
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. The share of the horse (from the booty)...
( غنیمت کے مال سے ) گھوڑے کا حصہ کیا ملے گا
1 Hadith
52
(52) CHAPTER. Leading somebody else's animal during the battle.
اگر کوئی لڑائی میں دوسرے کے جانور کو کھینچ کر چلائے
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. The saddle and the stirrup of an animal.
جانور پر رکاب یا غرز لگانا
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. The riding of an unsaddled horse.
گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا
1 Hadith
55
(55) CHAPTER. A slow horse.
سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا
1 Hadith
56
(56) CHAPTER. Horse races.
گھوڑ دوڑ کا بیان
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. Idmar (the preparation) of horses for racing.
گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا
1 Hadith
58
(58) CHAPTER. The extreme limit of the distance of the race of horses that have been made lean.
تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ کی حد کہاں تک ہو
1 Hadith
59
(59) CHAPTER. The she-camel of the Prophet (p.b.u.h).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا بیان
2 Hadith
60
(61) CHAPTER. The white mule of the Prophet (p.b.u.h).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا بیان
2 Hadith
61
(62) CHAPTER. The Jihad of women.
عورتوں کا جہاد کیا ہے
2 Hadith
62
(63) CHAPTER. The participation of a woman in a sea battle.
دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا
2 Hadith
63
(64) CHAPTER. The man's selection of one wive to accompany in holy battles.
آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے ( یہ درست ہے )
1 Hadith
64
(65) CHAPTER. The Jihad of women and their fighting along with men.
عورتوں کا جنگ کرنا اور مردوں کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرنا
1 Hadith
65
(66) CHAPTER. The carrying of water-skins by the women to the people (and giving them water to drink) during holy battles.
جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیزہ اٹھا کر لے جانا
1 Hadith
66
(67) CHAPTER. The treatment of the wounded by the women during holy battles.
جہاد میں عورتیں زخمیوں کی مرہم پٹی کر سکتی ہیں
1 Hadith
67
(68) CHAPTER. The bringing back of the wounded and the killed by the women.
زخمیوں اور شہیدوں کو عورتیں لے کر جا سکتی ہیں
1 Hadith
68
(69) CHAPTER. Removing the arrow from the body.
۔ ( مجاہدین کے ) جسم سے تیر کا کھینچ کر نکالنا
1 Hadith
69
(70) CHAPTER. Vigilance during holy battles in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے ؟
3 Hadith
70
(71) CHAPTER. The service, during holy battles.
جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
71
(71) CHAPTER. The service, during holy battles.
اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اٹھا دیا
3 Hadith
72
(73) CHAPTER. The superiority of guarding (Muslims from infidels) for a day in Allah's Cause.
اللہ کے راستے میں سرحد پر ایک دن پہرہ دینا کتنا بڑا ثواب ہے
1 Hadith
73
(74) CHAPTER. Whoever sets off for a holy battle accompanied by a boy-servant.
اگر کسی بچے کو خدمت کے لیے جہاد میں ساتھ لے جائے
1 Hadith
74
(75) CHAPTER. To go on a sea- voyage.
جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا
2 Hadith
75
(76) CHAPTER. Whoever sought the help of poor and pious men in war.
لڑائی میں کمزور ناتواں ( جیسے عورتیں ، بچے ، اندھے ، معذور اور مساکین ) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا
2 Hadith
76
(77) CHAPTER. Do not say that so-and-so is a martyr.
قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے
1 Hadith
77
(78) CHAPTER. Exhortation to archery (i.e., arrow throwing).
تیراندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں
2 Hadith
78
(79) CHAPTER. To play with spears and other similar arms.
برچھے سے ( مشق کرنے کے لیے ) کھیلنا
1 Hadith
79
(80) CHAPTER. The shield, and shielding oneself with the shield of his companion.
ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان
4 Hadith
80
(81) CHAPTER. The (leather) shield.
ڈھال کے بیان میں
2 Hadith
81
(82) CHAPTER. The straps for suspending swords and the hanging of the sword by the neck.
تلواروں کی حمائل اور تلوار کا گلے میں لٹکانا
1 Hadith
82
(83) CHAPTER. (What has been said regarding) the decoration of swords (with gold and silver etc.).
تلوار کی آرائش کرنا
1 Hadith
83
(84) CHAPTER. Whoever hung his sword on a tree at midday nap.
جس نے سفر میں دوپہر کے آرام کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائی
1 Hadith
84
(85) CHAPTER. The wearing of a helmet.
خود پہننا ( لوہے کا ٹوپ جس سے میدان جنگ میں سر کا بچاو کیا جاتا تھا )
1 Hadith
85
(86) CHAPTER. Whoever dose not consider it logical to break the weapons and to slaughter the animals of the deceased.
کسی کی موت پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں
1 Hadith
86
(87) CHAPTER. The dispersing of the people away from the lmam at midday to rest in the shade of trees.
دوپہر کے وقت درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے فوجی لوگ امام سے جدا ہو کر ( متفرق درختوں کے سائے تلے ) پھیل سکتے ہیں
1 Hadith
87
(88) CHAPTER. What is said regarding spears.
بھالوں ( نیزوں ) کا بیان
1 Hadith
88
(89) CHAPTER. What is said regarding the armour of the Prophet (p.b.u.h) and the coat of mail during the battle.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا
3 Hadith
89
(90) CHAPTER. The (wearing of a) cloak on journeys and in war.
سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان
1 Hadith
90
(91) CHAPTER. The wearing of silk in war.
لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا
4 Hadith
91
(92) CHAPTER. What is said about the knife.
چھری کا استعمال کرنا درست ہے
1 Hadith
92
(93) CHAPTER. What is said about the fighting against Ar-Rum (the Byzantines).
نصاریٰ سے لڑنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
93
(94) CHAPTER. Fighting against the Jews.
یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان
2 Hadith
94
(95) CHAPTER. Fighting against the Turks.
ترکوں سے جنگ کا میدان
2 Hadith
95
(96) CHAPTER. Fighting against people wearing shoes made of hair.
ان لوگوں سے لڑائی کا بیان جو بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے
1 Hadith
96
(97) CHAPTER. Whoever arranged his companions at the time of defeat, and got down from his riding animal and requested Allah for help.
ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا
1 Hadith
97
(98) CHAPTER. To invoke Allah to defeat and shake AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین کے لیے شکست اور زلزلے کی بددعا کرنا
1 Hadith
98
(98) CHAPTER. To invoke Allah to defeat and shake AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مسلمان اہل کتاب کو دین کی بات بتلائے یا ان کو قرآن سکھائے ؟
5 Hadith
99
(100) CHAPTER. To invoke Allah to bestow guidance upon Al- Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans) in order to attract them.
مشرکین کا دل ملانے کے لیے ان کی ہدایت کی دعا کرنا
1 Hadith
100
(101) CHAPTER. What is said regarding the invitation of the Jews and Christians (to Islam), and for what Muslim should declare war against them.
یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے
2 Hadith
101
(102) CHAPTER. The invitation of the Prophet (p.b.u.h) to embrace Islam, and to believe in his Prophethood and not to take each other as Lords instead of Allah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ( غیر مسلموں کو ) اسلام کی طرف دعوت دینا
7 Hadith
102
(103) CHAPTER. Concealing the true destination of a Ghazwa by using an equivocation which indicates apparently that one is going to a different destination; and the preference of Thursday for journeys (by the Prophet (p.b.u.h)).
لڑائی کا مقام چھپانا ( دوسرا مقام بیان کرنا ) اور جمعرات کے دن سفر کرنا
4 Hadith
103
(104) CHAPTER. Setting out after midday.
ظہر کی نماز کے بعد سفر کرنا
1 Hadith
104
(105) CHAPTER. Setting out in the last part of the month.
مہینہ کے آخری دنوں میں سفر کرنا
1 Hadith
105
(106) CHAPTER. Travelling in Ramadan.
رمضان کے مہینے میں سفر کرنا
1 Hadith
106
(107) CHAPTER. Bidding farewell.
سفر شروع کرتے وقت مسافر کو رخصت کرنا
1 Hadith
107
(108) CHAPTER. Listening to and obeying the Imam (i.e., Muslim ruler) (if he abides by Allah's Orders).
امام ( بادشاہ یا حاکم ) کی اطاعت کرنا
1 Hadith
108
(109) CHAPTER. The Imam (i.e., Muslim ruler) should be defended (by the Muslims and he is to be taken as their protector).
امام ( بادشاہ اسلام ) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا ( دشمن کے حملوں سے ) بچاو کرنا
2 Hadith
109
(110) CHAPTER. To give a Bai'a for not to flee during a battle.
لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا
6 Hadith
110
(111) CHAPTER. The Imam should order the people to do only those things that are within their ability.
بادشاہ اسلامی کی اطاعت لوگوں پر واجب ہے جہاں تک وہ طاقت رکھیں
1 Hadith
111
(112) CHAPTER. If the Prophet (p.b.u.h) had not started fighting during the early hours of the day, he would delay it till the sun had declined (i.e., after midday).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے
2 Hadith
112
(113) CHAPTER. Asking the permission of Imam (if one wishes not to participate in a holy battle).
اگر کوئی جہاد میں سے لوٹنا چاہے یا جہاد میں نہ جانا چاہے تو امام سے اجازت لے
1 Hadith
113
(116) CHAPTER. The setting out of the Imam, before the people at the time of fright.
خوف اور دہشت کے وقت ( حالات معلوم کرنے کے لیے ) امام کا آگے بڑھنا
1 Hadith
114
(117) CHAPTER. To be quick and to make the horse gallop at the time of fright.
خوف کے موقع پر جلدی سے گھو ڑے کو ایڑ لگانا
1 Hadith
115
(119) CHAPTER. The wages given to fight on somebody else's behalf, and the riding animals presenyed to be used in Allah's Cause.
کسی کو اجرت دے کر اپنے طرف سے جہاد کرانا اور اللہ کی راہ میں سواری دینا
3 Hadith
116
(120) CHAPTER. The labourer (whose services are hired for the purpose of Jihad).
جو شخص مزدوری لے کر جہاد میں شریک ہو
1 Hadith
117
(121) CHAPTER. What has been said regarding the flag of the Prophet (p.b.u.h) .
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان
3 Hadith
118
(122) CHAPTER. The Statement of the prophet (p.b.u.h) : I have been made victorious for a distance of one month journey with terror (cast in the hearts of the enemy).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب ( کافروں کے دلوں میں ) ڈال کر میری مدد کی ہے
2 Hadith
119
(123) CHAPTER. Providing oneself with food when going on a military expendition.
سفر جہاد میں توشہ ( خرچ وغیرہ ) ساتھ رکھنا
4 Hadith
120
(124) CHAPTER. To carry the journey-food on one's shoulder.
توشہ اپنے کندھوں پر لاد کر خود لے جانا
1 Hadith
121
(125) CHAPTER. The sitting of a woman behind her brother as a compainon-rider.
عورت کا اپنے بھائی کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار ہونا
2 Hadith
122
(126) CHAPTER. The sitting of two men together over a riding animal in military expeditions and in the Hajj.
جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا
1 Hadith
123
(127) CHAPTER. The sitting of two men together on a donkey.
ایک گدھے پر دو آدمیوں کا سوار ہونا
2 Hadith
124
(128) CHAPTER. Holding the riding animal of somebody else (to help him ride).
جو رکاب پکڑ کر کسی کو سواری پر چڑھادے یا کچھ ایسی ہی مدد کرے ، اس کا ثواب
1 Hadith
125
(129) CHAPTER. It is disliked for one to travel to a hostile country carrying copies of the Qur'an.
مصحف یعنی لکھا ہوا قرآن شریف لے کر دشمن کے ملک میں جانا منع ہے
1 Hadith
126
(130) CHAPTER. The recitation of Takbir (Allahu Akbar) in the war.
جنگ کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرنا
1 Hadith
127
(131) CHAPTER. What is disliked as regards raising the voice when saying Takbir (i.e., Allah is the Most Great)
بہت چلا کر تکبیر کہنا منع ہے
1 Hadith
128
(132) CHAPTER. The recitation of Subhan Allah when going down a valley.
کسی نشیب کی جگہ میں اترتے وقت سبحان اللہ کہنا
1 Hadith
129
(133) CHAPTER. To say Takbir (Allahu Akbar Allah is the Most Great) on ascending a high place.
جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر کہنا
2 Hadith
130
(134) CHAPTER. A traveller is granted reward similar to that given for good deeds practised at home, as if he is practising the same while travelling.
مسافر کو اس عبادت کا جو وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ثواب ملنا ( گو وہ سفر میں نہ کر سکے )
1 Hadith
131
(135) CHAPTER. Travelling alone.
اکیلے سفر کرنا
2 Hadith
132
(136) CHAPTER. Hastening in travel.
سفر میں تیز چلنا
3 Hadith
133
(137) CHAPTER. If someone gives his horse to be used for Allah's Cause and then he sees it being sold.
اگر اللہ کی راہ میں سواری کے لیے گھوڑا دے پھر اس کو بکتا پائے ؟
2 Hadith
134
(138) CHAPTER. The participation in Jihad with one's parent's permission.
ماں باپ کی اجازت لے کرجہاد میں جانا
1 Hadith
135
(139) CHAPTER. What is said regarding the hanging of bells and the like, round the necks of camels.
اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
136
(140) CHAPTER. If a man has enlisted himself in the army and then his wife goes out for Hajj, or he has a genuine excuse, can he be given a leave?
ایک شخص اپنا نام مجاہدین میں لکھوا دے
1 Hadith
137
(141) CHAPTER. The spy.
جاسوسی کا بیان
1 Hadith
138
(142) CHAPTER. Providing the prisoners of war with clothes.
قیدیوں کو کپڑے پہنانا
1 Hadith
139
(143) CHAPTER. The superiority of the one through whom a man embraces Islam.
اس شخص کی فضیلت جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام لائے
1 Hadith
140
(144) CHAPTER. The prisoners of war in chains.
قیدیوں کو زنجیروں میں باندھنا
1 Hadith
141
(145) CHAPTER. The superiority of the people of the Scriptures (Jews and Christians) who embrace Islam.
یہود یا نصاری مسلمان ہو جائیں تو ان کے ثواب کا بیان
1 Hadith
142
(146) CHAPTER. (Is it permissible) to attack the enemies wilth the probability of killing the babies and children (unintentionally)?
اگر ( لڑنے والے ) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں ، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر کچھ قباحت نہیں ہے ۔
2 Hadith
143
(147) CHAPTER. Killing the children in the war.
جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
144
(148) CHAPTER. Killing the women in the war.
جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
145
(149) CHAPTER. One should not to punish (anybody) with Allah's punishment.
اللہ کے عذاب ( آگ ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا
2 Hadith
146
(152) CHAPTER. If a Mushrik (polytheist, idolater, pagan) burns a Muslim, should he be burnt (in retaliation)?
اگر کوئی مشرک کسی مسلمان کو آگ سے جلا دے تو کیا اسے بھی بدلہ میں جلایا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
147
(154) CHAPTER. The burning of houses and date-palms.
( حربی کافروں کے ) گھر وں اورباغوں کو جلانا
2 Hadith
148
(155) CHAPTER. Killing a sleeping Mushrik (polytheist, idolater, pagan).
( حربی ) مشرک سورہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
2 Hadith
149
(156) CHAPTER. Do not wish to meet the enemy.
دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزونہ کرنا
3 Hadith
150
(157) CHAPTER. War is deceit.
لڑائی مکروفریب کا نام ہے
4 Hadith
151
(158) CHAPTER. Telling lies in war.
جنگ میں جھوٹ بولنا ( مصلحت کیلئے ) درست ہے
1 Hadith
152
(159) CHAPTER. Killing non-Muslim warriors secretly.
جنگ میں حربی کافر کو اچانک دھوکے سے مار ڈالنا
1 Hadith
153
(160) CHAPTER. What tricks and means of security may be adopted to protect oneself against someone who is excepted to be vicious and mischievous.
اگر کسی سے فساد یا شرارت کا اندیشہ ہو تو اس سے مکروفریب کر سکتے ہیں
1 Hadith
154
(161) CHAPTER. The recitation of poetic verses in the war and raising the voices while digging the trench.
جنگ میں شعر پڑھنا اور کھائی کھودتے وقت آواز بلند کرنا
1 Hadith
155
(162) CHAPTER. Whosoever is unable to sit firm on a horse.
جو گھوڑے پر اچھی طرح نہ جم سکتا ہو ( اس کے لئے دعا کرنا )
2 Hadith
156
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
1 Hadith
157
(164) CHAPTER. What quarrels and mutual differences are hated in the war, and the punishment of the one who disobeys his Imam.
جنگ میں جھگڑ اور اختلاف کرنا مکروہ ہے اور جو سردار لشکر کی نافرمانی کرے‘اس کی سزا کا بیان
2 Hadith
158
(165) CHAPTER. If the people get frightened at night.
اگر رات کے وقت دشمن کا ڈر پیدا ہو ( تو چاہئے کہ حاکم اس کی خبر لے )
1 Hadith
159
(166) CHAPTER. Shouting, “Ya Sabahah!” as loudly as possible on seeing the enemy to let the people hear it.
دشمن کو دیکھ کر بلند آواز سے یا صباحاہ پکارنا تاکہ لوگ سن لیں اور مدد کو آئیں ۔
1 Hadith
160
(167) CHAPTER. Saying: “Take it! I am the son of so-and-so. .
حملہ کرتے وقت یوں کہنا اچھا لے میں فلاں کا بیٹا ہوں ۔
1 Hadith
161
(168) CHAPTER. If the enemy is ready to accept the judgement of a Muslim (his judgement will be valid if the Imam agrees to it).
اگر کافر لوگ ایک مسلمان کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنے قلعے سے اتر آئیں ؟
1 Hadith
162
(169) CHAPTER. The killing of a captive, and the killing of somebody who is in confinement.
قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا
1 Hadith
163
(170) CHAPTER. Can a man present himself to captivity, and whosoever refuses to surrender to captivity? And the performance of a two Rak‘a Salat (prayer) before being put to death.
اپنے تئیں قید کرا دینا اور جو شخص قید نہ کرائے اس کا حکم
1 Hadith
164
(171) CHAPTER. The freeing of a captive.
( مسلمان ) قیدیوں کو آزاد کرانا
2 Hadith
165
(172) CHAPTER. The ransom of AI-Mushrikun (polytheists, idolaters, pagans).
مشرکین سے فدیہ لینا
3 Hadith
166
(173) CHAPTER. If an infidel warrior comes in an Islamic territory without having the assurance of protection (is it permissible to kill him?)
اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے ) تو اس کا مار ڈالنا درست ہے
1 Hadith
167
(174) CHAPTER. One should fight for the protection of the Dhimmi (i.e., free non-Muslim subjects living in a Muslim country) and they should not be enslaved.
ذمی کافروں کو بچانے کے لئے لڑنا ‘ ان کا غلام لونڈی نہ بنانا
1 Hadith
168
(176) CHAPTER. Can one intercede for the Dhimmi or deal with them?
ذمیوں کی سفارش اور ان سے کیسا معاملہ کیا جائے
1 Hadith
169
(177) CHAPTER. Sprucing oneself up before receiving a delegation.
وفود سے ملاقات کے لئے اپنے کو آراستہ کرنا
1 Hadith
170
(178) CHAPTER. How to present Islam to a (non-Muslim) boy.
بچے پر اسلام کس طرح پیش کیا جائے
4 Hadith
171
(180) CHAPTER. If some people in a hostile non-Muslim country embrace Islam and they have possessions and land, then what they have will remain for them.
اگر کچھ لوگ جو دارالحرب میں مقیم ہیں اسلام لے آئیں اور وہ مال وجائداد منقولہ وغیر منقولہ کے مالک ہیں تو وہ ان ہی کی ہو گی
1 Hadith
172
(181) CHAPTER. To write down the names of (i.e., listing) the people by the Imam.
خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا
2 Hadith
173
(182) CHAPTER. Allah may support the religion (Islam) with a Fajir (an evil, disobedient, wicked) man.
اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی مدد ایک فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے
1 Hadith
174
(183) CHAPTER. (It is permissible for) somebody to take over the leadership of the army during a battle with being appointed when there is danger from the enemy.
جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے
1 Hadith
175
(184) CHAPTER. Supporting with reinforcements.
مدد کے لئے فوج روانہ کرنا
1 Hadith
176
(185) CHAPTER. Staying in the (enemy) town for three (days and nights) on having victory over the enemy.
جس نے دشمن پر فتح پائی اور پھر تین دن تک ان کے ملک میں ٹھہرا رہا
1 Hadith
177
(186) CHAPTER. The distribution of the war booty after a Ghazwa and during a journey.
سفر میں اور جہاد میں مال غنیمت کو تقسیم کرنا
1 Hadith
178
(187) CHAPTER. If Al-Mushrikun take the property of a Muslim as war booty and later on the Muslim gets it back (on overcoming them), (does the owner have the right to get it back or should it be included in the war booty gained by the Muslims)?
کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر ) مسلمانوں کے غلبہ کے بعد ( وہ مال اس مسلمان کو مل گیا
3 Hadith
179
(188) CHAPTER. Speaking Persian and speaking (Arabic) with an unfamiliar accent.
فارسی یا اور کسی بھی عجمی زبان میں بولنا
3 Hadith
180
(189) CHAPTER. Al-Ghulul (stealing from the war booty before its distribution).
مال غنیمت میں سے تقسیم سے پہلے کچھ چرا لینا
1 Hadith
181
(190) CHAPTER. A little Ghulul (i.e., a minor theft).
مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کرلینا
1 Hadith
182
(191) CHAPTER. What is hated regarding the slaughtering of the camels and sheep of the booty (before its distribution).
مال غنیمت کے اونٹ بکریوں کو تقسیم سے پہلے ذبح کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
183
(192) CHAPTER. The conveyance of the good tidings of victories.
فتح کی خوشخبری دینا
1 Hadith
184
(194) CHAPTER. There is no emigration (from Makkah) after the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی
4 Hadith
185
(195) CHAPTER. (It is permissible for a man) to look in (or search) the hair of the Dhimmi women (i.e., non-Muslims living under the protection of Muslims) and that of the lady-believers if they disobey Allah, and to compel them to take off their clothes if there is necessity.
ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں
1 Hadith
186
(196) CHAPTER. The reception of Al-Ghuza (i.e., Muslim fighters returning after participating in Jihad).
غازیوں کے استقبال کو جانا ( جب وہ جہاد سے لوٹ کر اء یں )
2 Hadith
187
(197) CHAPTER. What to say on returning from Jihad.
جہاد سے واپس ہوتے ہوء ے کیا کہے
3 Hadith
188
(198) CHAPTER. The performance of Salat (prayer) on returning from a Journey.
سفر سے واپسی پر نفل نماز ( بطور نماز شکرادا کرنا )
2 Hadith
189
(199) CHAPTER. Taking meals on arrival (from a journey).
مسافر جب سفر سے لوٹ کر آے تو لوگوں کو کھانا کھلاء ے ( دعوت کرے )
2 Hadith
No chapter matched that.