صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب جزیہ وغیرہ کے بیان میں

The book of al-jizya and the stoppage of war.

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی ( اپنے ذمہ میں لیا ) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا

(3) CHAPTER. The advice to take care of non-Muslims who have a covenant of Allah's Messenger (p.b.u.h).

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّمِيمِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْنَا أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : أُوصِيكُمْ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ ، وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ .

Narrated Juwairiya bin Qudama at-Tamimi: We said to `Umar bin Al-Khattab, Jo Chief of the believers! Advise us. He said, I advise you to fulfill Allah's Convention (made with the Dhimmis) as it is the convention of your Prophet and the source of the livelihood of your dependents (i.e. the taxes from the Dhimmis.)

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، ( جب وہ زخمی ہوئے ) آپ سے ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے! تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عہد کی ( جو تم نے ذمیوں سے کیا ہے ) وصیت کرتا ہوں ( کہ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرنا ) کیونکہ وہ تمہارے نبی کا ذمہ ہے اور تمہارے گھر والوں کی روزی ہے ( کہ جزیہ کے روپیہ سے تمہارے بال بچوں کی گزران ہوتی ہے ) ۔