صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب جزیہ وغیرہ کے بیان میں

The book of al-jizya and the stoppage of war.

کسی ذمی کافر کو ناحق مار ڈالنا کیسا گناہ ہے ؟

(5) CHAPTER. The sin of one who kills an innocent person having a treaty with the Muslims.

حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عنه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا .

Narrated `Abdullah bin `Amr: The Prophet said, Whoever killed a person having a treaty with the Muslims, shall not smell the smell of Paradise though its smell is perceived from a distance of forty years.

ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسن بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی ذمی کو ( ناحق ) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“