TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of virtues. - کتاب فضیلتوں کے بیان میں - Book 62 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 62 of Sahih Bukhari, with 25 chapters and 160 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

160 Hadith · 25 Chapters
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الْحَسَنَ فَصَعِدَ بِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
Narrated Abu Bakra: Once the Prophet brought out Al-Hasan and took him up the pulpit along with him and said, This son of mine is a Saiyid (i.e. chief) and I hope that Allah will help him bring about reconciliation between two Muslim groups.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے ابوموسیٰ نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن رضی اللہ عنہ کو ایک دن ساتھ لے کر باہر تشریف لائے اور منبر پر ان کو لے کر چڑھ گئے پھر فرمایا ”میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں ملاپ کرا دے گا۔“
3629
Sahih
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet had informed us of the death of Ja`far and Zaid before the news of their death reached us, and his eyes were shedding tears.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر پہلے ہی صحابہ کو سنا دی تھی، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
3630
Sahih
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكُمْ مِنْ أَنْمَاطٍ ؟ ، قُلْتُ : وَأَنَّى يَكُونُ لَنَا الْأَنْمَاطُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فَأَنَا أَقُولُ لَهَا يَعْنِي امْرَأَتَهُ أَخِّرِي عَنِّي أَنْمَاطَكِ ، فَتَقُولُ : أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمُ الْأَنْمَاطُ فَأَدَعُهَا .
Narrated Jabir: (Once) the Prophet said, Have you got carpets? I replied, Whence can we get carpets? He said, But you shall soon have carpets. I used to say to my wife, Remove your carpets from my sight, but she would say, Didn't the Prophet tell you that you would soon have carpets? So I would give up my request.
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ان کی شادی کے موقع پر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے عرض کیا، ہمارے پاس قالین کہاں؟ ( ہم غریب لوگ ہیں ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یاد رکھو ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔“ اب جب میں اس سے ( اپنی بیوی سے ) کہتا ہوں کہ اپنے قالین ہٹا لے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ چنانچہ میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں ( اور چپ ہو جاتا ہوں ) ۔
3631
Sahih
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا ، قَالَ : فَنَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ أَبِي صَفْوَانَ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّأْمِ فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ ، فَقَالَ : أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ انْتَظِرْ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتُ فَطُفْتُ فَبَيْنَا سَعْدٌ يَطُوفُ إِذَا أَبُو جَهْلٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا الَّذِي يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ؟ ، فَقَالَ سَعْدٌ : أَنَا سَعْدٌ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : نَعَمْ فَتَلَاحَيَا بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ : أُمَيَّةُ لسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي ، ثُمّ قَالَ : سَعْدٌ وَاللَّهِ لَئِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَأَقْطَعَنَّ مَتْجَرَكَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَجَعَلَ أُمَيَّةُ ، يَقُولُ لِسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ وَجَعَلَ يُمْسِكُهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ ، فَقَالَ : دَعْنَا عَنْكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ ، قَالَ : إِيَّايَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ إِذَا حَدَّثَ فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ : أَمَا تَعْلَمِينَ مَا قَالَ لِي : أَخِي الْيَثْرِبِيُّ ، قَالَتْ : وَمَا قَالَ : قَالَ : زَعَمَ أَنَّه سَمِعَ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلِي ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الصَّرِيخُ ، قَالَتْ : لَهُ امْرَأَتُهُ أَمَا ذَكَرْتَ مَا قَالَ : لَكَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ ، قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ لَا يَخْرُجَ ، فَقَالَ : لَهُ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِي فَسِرْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَسَارَ مَعَهُمْ فَقَتَلَهُ اللَّهُ .
Narrated `Abdullah bin Mas`ud: Sa`d bin Mu`adh came to Mecca with the intention of performing `Umra, and stayed at the house of Umaiya bin Khalaf Abi Safwan, for Umaiya himself used to stay at Sa`d's house when he passed by Medina on his way to Sham. Umaiya said to Sa`d, Will you wait till midday when the people are (at their homes), then you may go and perform the Tawaf round the Ka`ba? So, while Sa`d was going around the Ka`ba, Abu Jahl came and asked, Who is that who is performing Tawaf? Sa`d replied, I am Sa`d. Abu Jahl said, Are you circumambulating the Ka`ba safely although you have given refuge to Muhammad and his companions? Sa`d said, Yes, and they started quarreling. Umaiya said to Sa`d, Don't shout at Abi-l-Hakam (i.e. Abu Jahl), for he is chief of the valley (of Mecca). Sa`d then said (to Abu Jahl). 'By Allah, if you prevent me from performing the Tawaf of the Ka`ba, I will spoil your trade with Sham. Umaiya kept on saying to Sa`d, Don't raise your voice. and kept on taking hold of him. Sa`d became furious and said, (to Umaiya), Be away from me, for I have heard Muhammad saying that he will kill you. Umaiiya said, Will he kill me? Sa`d said, Yes,. Umaiya said, By Allah! When Muhammad says a thing, he never tells a lie. Umaiya went to his wife and said to her, Do you know what my brother from Yathrib (i.e. Medina) has said to me? She said, What has he said? He said, He claims that he has heard Muhammad claiming that he will kill me. She said, By Allah! Muhammad never tells a lie. So when the infidels started to proceed for Badr (Battle) and declared war (against the Muslims), his wife said to him, Don't you remember what your brother from Yathrib told you? Umaiya decided not to go but Abu Jahl said to him, You are from the nobles of the valley (of Mecca), so you should accompany us for a day or two. He went with them and thus Allah got him killed.
ہم سے احمد بن اسحٰق نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے ( مکہ ) آئے اور ابوصفوان امیہ بن خلف کے یہاں اترے۔ امیہ بھی شام جاتے ہوئے ( تجارت وغیرہ کے لیے ) جب مدینہ سے گزرتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا کرتا تھا۔ امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابھی ٹھہرو، جب دوپہر کا وقت ہو جائے اور لوگ غافل ہو جائیں ( تب طواف کرنا کیونکہ مکہ کے مشرک مسلمانوں کے دشمن تھے ) سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، چنانچہ میں نے جا کر طواف شروع کر دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ ابھی طواف کر ہی رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا اور کہنے لگا، یہ کعبہ کا طواف کون کر رہا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ میں سعد ہوں۔ ابوجہل بولا: تم کعبہ کا طواف خوب امن سے کر رہے ہو حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ اس طرح دونوں میں بات بڑھ گئی۔ پھر امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوالحکم ( ابوجہل ) کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولو۔ وہ اس وادی ( مکہ ) کا سردار ہے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے بیت اللہ کے طواف سے روکا تو میں بھی تمہاری شام کی تجارت خاک میں ملا دوں گا ( کیونکہ شام جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو مدینہ سے جاتا ہے ) بیان کیا کہ امیہ برابر سعد رضی اللہ عنہ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور انہیں ( مقابلہ سے ) روکتا رہا۔ آخر سعد رضی اللہ عنہ کو اس پر غصہ آ گیا اور انہوں نے امیہ سے کہا۔ چل پرے ہٹ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تیرے متعلق سنا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تجھ کو ابوجہل ہی قتل کرائے گا۔ امیہ نے پوچھا: مجھے؟ سعد رضی اللہ عنہ کہا: ہاں تجھ کو۔ تب تو امیہ کہنے لگا۔ اللہ کی قسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کوئی بات کہتے ہیں تو وہ غلط نہیں ہوتی پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا تمہیں معلوم نہیں، میرے یثربی بھائی نے مجھے کیا بات بتائی ہے؟ اس نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا؟ امیہ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ چکے ہیں کہ ابوجہل مجھ کو قتل کرائے گا۔ وہ کہنے لگی۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم غلط بات زبان سے نہیں نکالتے۔ پھر ایسا ہوا کہ اہل مکہ بدر کی لڑائی کے لیے روانہ ہونے لگے اور امیہ کو بھی بلانے والا آیا تو امیہ سے اس کی بیوی نے کہا، تمہیں یاد نہیں رہا تمہارا یثربی بھائی تمہیں کیا خبر دے گیا تھا۔ بیان کیا کہ اس یاددہانی پر امیہ نے چاہا کہ اس جنگ میں شرکت نہ کرے۔ لیکن ابوجہل نے کہا: تم وادی مکہ کے رئیس ہو۔ اس لیے کم از کم ایک یا دو دن کے لیے ہی تمہیں چلنا پڑے گا۔ اس طرح وہ ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لیے نکلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کرا دیا۔
3632
Sahih
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قَالَ : أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ كَمَا ، قَالَ : قَالَ : قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ جِبْرِيلَ أَوْ كَمَا ، قَالَ : قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ، قَالَ : مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .
Narrated Abu `Uthman: I got the news that Gabriel came to the Prophet while Um Salama was present. Gabriel started talking (to the Prophet and then left. The Prophet said to Um Salama, (Do you know) who it was? (or a similar question). She said, It was Dihya (a handsome person amongst the companions of the Prophet ). Later on Um Salama said, By Allah! I thought he was none but Dihya, till I heard the Prophet talking about Gabriel in his sermon. (The Sub-narrator asked Abu `Uthman, From where have you heard this narration? He replied, From Usama bin Zaid. )
ہم سے عباس بن ولید نرسی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا: معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ جبرائیل علیہ السلام ( کی آمد ) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے۔
3633
Sahih
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ فِي صَعِيدٍ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي بَعْضِ نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ بِيَدِهِ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا فِي النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ، وَقَالَ هَمَّامٌ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَ أَبُو بَكْرٍ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ .
Narrated `Abdullah: Allah's Apostle said, I saw (in a dream) the people assembled in a gathering, and then Abu Bakr got up and drew one or two buckets of water (from a well) but there was weakness in his drawing. May Allah forgive him. Then `Umar took the bucket and in his hands it turned into a very large bucket. I had never seen anyone amongst: the people who could draw the water as strongly as `Umar till all the people drank their fill and watered their camels that knelt down there.
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ایک کنویں سے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی بھر کر نکالا، پانی نکالنے میں ان میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی تھی اور اللہ ان کو بخشے۔ پھر وہ ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ ایک بڑا ڈول ہو گیا میں نے لوگوں میں ان جیسا شہ زور پہلوان اور بہادر انسان ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا ( انہوں نے اتنے ڈول کھینچے ) کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا پلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔ اور ہمام نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بیان کر رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو ڈول کھینچے۔
3634
Sahih
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا ، فَقَالَ : لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ ، فَقَالُوا : نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَالُوا : صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: The Jews came to Allah's Apostle and told him that a man and a woman from amongst them had committed illegal sexual intercourse. Allah's Apostle said to them, What do you find in the Torah (old Testament) about the legal punishment of Ar-Rajm (stoning)? They replied, (But) we announce their crime and lash them. `Abdullah bin Salam said, You are telling a lie; Torah contains the order of Rajm. They brought and opened the Torah and one of them solaced his hand on the Verse of Rajm and read the verses preceding and following it. `Abdullah bin Salam said to him, Lift your hand. When he lifted his hand, the Verse of Rajm was written there. They said, Muhammad has told the truth; the Torah has the Verse of Rajm. The Prophet then gave the order that both of them should be stoned to death. (`Abdullah bin `Umar said, I saw the man leaning over the woman to shelter her from the stones.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے یہ کہ ہم انہیں رسوا کریں اور انہیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ تورات لاؤ۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق جو آیت تھی اسے ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ اے محمد! عبداللہ بن سلام نے سچ کہا۔ بیشک تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رجم کے وقت دیکھا۔ یہودی مرد اس عورت پر جھکا پڑتا تھا۔ اس کو پتھروں کی مار سے بچاتا تھا۔
3635
Sahih
(27) CHAPTER. The demand of Al-Mushrikun to the Prophet (p.b.u.h) to show them a miracle. The Prophet (p.b.u.h) showed them the splitting of the moon.
مشرکین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا ۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْهَدُوا .
Narrated `Abdullah bin Masud: During the lifetime of the Prophet the moon was split into two parts and on that the Prophet said, Bear witness (to thus).
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے، انہیں مجاہد نے، انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو اس پر گواہ رہنا۔
3636
Sahih
(27) CHAPTER. The demand of Al-Mushrikun to the Prophet (p.b.u.h) to show them a miracle. The Prophet (p.b.u.h) showed them the splitting of the moon.
مشرکین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ : أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ .
Narrated Anas: That the Meccan people requested Allah's Apostle to show them a miracle, and so he showed them the splitting of the moon.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا۔
3637
Sahih
(27) CHAPTER. The demand of Al-Mushrikun to the Prophet (p.b.u.h) to show them a miracle. The Prophet (p.b.u.h) showed them the splitting of the moon.
مشرکین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا ۔
حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ibn `Abbas: The moon was split into two parts during the lifetime of the Prophet.
مجھ سے خلف بن خالد قرشی نے بیان کیا، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عراق بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔
3638
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
بَاب حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ وَمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ يُضِيئَانِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا ، فَلَمَّا افْتَرَقَا صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاحِدٌ حَتَّى أَتَى أَهْلَهُ .
Narrated Anas: Once two men from the companions of Allah's Apostle went out of the house of the Prophet on a very dark night. They were accompanied by two things that resembled two lamps lighting the way in front of them, and when they parted, each of them was accompanied by one of those two things (lamps) till they reached their homes.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو صحابی ( اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما ) اٹھ کر ( اپنے گھر ) واپس ہوئے۔ رات اندھیری تھی لیکن دو چراغ کی طرح کی کوئی چیز ان کے آگے روشنی کرتی جاتی تھیں۔ پھر جب یہ دونوں ( راستے میں، اپنے اپنے گھر کی طرف جانے کے لیے ) جدا ہوئے تو وہ چیز دونوں کے ساتھ الگ الگ ہو گئی اور اس طرح وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔
3639
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ .
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba: The Prophet said, Some of my followers will remain victorious (and on the right path) till the Last Day comes, and they will still be victorious.
مجھ سے عبداللہ بن ابوالاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت یا موت آئے گی اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔“
3640
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ ، وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ ، قَالَ : عُمَيْرٌ ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُيُ خَامِرَ : قَالَ مُعَاذٌ وَهُمْ بِالشَّأْمِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا ، يَقُولُ : وَهُمْ بِالشَّأْمِ .
Narrated Muawiya: I heard the Prophet saying, A group of people amongst my followers will remain obedient to Allah's orders and they will not be harmed by anyone who will not help them or who will oppose them, till Allah's Order (the Last Day) comes upon them while they are still on the right path.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن جابر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر ہیں گے۔ عمیر نے بیان کیا کہ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں یہ لوگ شام میں ہیں۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھو یہ مالک بن یخامر یہاں موجود ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں۔
3641
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَيَّ يُحَدِّثُونَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي لَهُ بِهِ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ وَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعَهُ شَبِيبٌ مِنْ عُرْوَةَ فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : شَبِيبٌ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ .
Narrated `Urwa: That the Prophet gave him one Dinar so as to buy a sheep for him. `Urwa bought two sheep for him with the money. Then he sold one of the sheep for one Dinar, and brought one Dinar and a sheep to the Prophet. On that, the Prophet invoked Allah to bless him in his deals. So `Urwa used to gain (from any deal) even if he bought dust.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم سے شبیب بن غرقدہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے سنا تھا، وہ لوگ عروہ سے نقل کرتے تھے ( جو ابوالجعد کے بیٹے اور صحابی تھے ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دیا کہ وہ اس کی ایک بکری خرید کر لے آئیں۔ انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری کو ایک دینار میں بیچ کر دینار بھی واپس کر دیا۔ اور بکری بھی پیش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔ پھر تو ان کا یہ حال ہوا کہ اگر مٹی بھی خریدتے تو اس میں انہیں نفع ہو جاتا۔ سفیان نے کہا کہ حسن بن عمارہ نے ہمیں یہ حدیث پہنچائی تھی شبیب بن غرقدہ سے۔ حسن بن عمارہ نے کہا کہ شبیب نے یہ حدیث خود عروہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔ چنانچہ میں شبیب کی خدمت میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ حدیث خود عروہ سے نہیں سنی تھی۔ البتہ میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو ان کے حوالے سے بیان کرتے سنا تھا۔
3642
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : وَقَدْ رَأَيْتُ فِي دَارِهِ سَبْعِينَ فَرَسًا ، قَالَ سُفْيَانُ : يَشْتَرِي لَهُ شَاةً كَأَنَّهَا أُضْحِيَّةٌ .
(In another narration) `Urwa said, I heard Allah's Apostle saying, There is always goodness in horses till the Day of Resurrection. (The subnarrator added, I saw 70 horses in `Urwa's house.') (Sufyan said, The Prophet asked `Urwa to buy a sheep for him as a sacrifice. )
البتہ یہ دوسری حدیث خود میں نے عروہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر اور بھلائی گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ قیامت تک کے لیے بندھی ہوئی ہے۔ شبیب نے کہا کہ میں نے عروہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ستر گھوڑے دیکھے۔ سفیان نے کہا کہ عروہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری خریدی تھی۔ شاید وہ قربانی کے لیے ہو گی۔
3643
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, There is always goodness in horses till the Day of Resurrection.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت قیامت تک کے لیے باندھ دی گئی ہے۔“
3644
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا بْنَ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ .
Narrated Anas: The Prophet said, There is always goodness in horses.
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ برکت باندھ دی گئی ہے۔
3645
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ وَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ أَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ حَسَنَاتٍ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَسِتْرًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَظُهُورِهَا فَهِيَ لَهُ كَذَلِكَ سِتْرٌ ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ وِزْرٌ ، وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ ، فَقَالَ : مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ { 7 } وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ { 8 } سورة الزلزلة آية 7-8 .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, A horse may be kept for one of three purposes: for a man it may be a source of reward; for another it may be a means of living; and for a third it may be a burden (a source of committing sins). As for the one for whom it is a source of reward, he is the one who keeps his horse for the sake of Jihad in Allah's Cause; he ties it with a long rope on a pasture or in a garden. So whatever its rope allows it to eat, will be regarded as good rewardable deeds (for its owner). And if it breaks off its rope and jumps over one or two hillocks, even its dung will be considered amongst his good deeds. And if it passes by a river and drinks water from it, that will be considered as good deeds for his benefit) even if he has had no intention of watering it. A horse is a shelter for the one who keeps it so that he may earn his living honestly and takes it as a refuge to keep him from following illegal ways (of gaining money), and does not forget the rights of Allah (i.e. paying the Zakat and allowing others to use it for Allah's Sake). But a horse is a burden (and a source of committing sins for him who keeps it out of pride and pretense and with the intention of harming the Muslims. The Prophet was asked about donkeys. He replied, Nothing has been revealed to be concerning them except this comprehensive Verse (which covers everything) :--'Then whosoever has done good equal to the weight of an atom (or a small ant), Shall see it (its reward) And whosoever has done evil equal to the weight of an atom (or a small ) ant), Shall see it (Its punishment). (99.7-8)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے تین آدمیوں کے لیے ہیں۔ ایک کے لیے تو وہ باعث ثواب ہیں اور ایک کے لیے وہ معاف یعنی مباح ہیں اور ایک کے لیے وہ وبال ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا باعث ثواب ہے یہ وہ شخص ہے جو جہاد کے لیے اسے پالے اور چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی کو ( جس سے وہ بندھا ہوتا ہے ) خوب دراز کر دے تو وہ اپنے اس طول و عرض میں جو کچھ بھی چرتا ہے وہ سب اس کے مالک کے لیے نیکیاں بن جاتی ہیں اور اگر کبھی وہ اپنی رسی تڑا کر دو چار قدم دوڑ لے تو اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث ثواب بن جاتی ہے اور کبھی اگر وہ کسی نہر سے گزرتے ہوئے اس میں سے پانی پی لے اگرچہ مالک کے دل میں اسے پہلے سے پانی پلانے کا خیال بھی نہ تھا، پھر بھی گھوڑے کا پانی پینا اس کے لیے ثواب بن جاتا ہے۔ اور ایک وہ آدمی جو گھوڑے کو لوگوں کے سامنے اپنی حاجت، پردہ پوشی اور سوال سے بچے رہنے کی غرض سے پالے اور اللہ تعالیٰ کا جو حق اس کی گردن اور اس کی پیٹھ میں ہے اسے بھی وہ فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اس کے لیے ایک طرح کا پردہ ہوتا ہے اور ایک شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر اور دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں پالے تو وہ اس کے لیے وبال جان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس جامع آیت کے سوا مجھ پر گدھوں کے بارے میں کچھ نازل نہیں ہوا «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره‏» ”جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا تو اس کا بھی وہ بدلہ پائے گا اور جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی برائی کرے گا تو وہ اس کا بھی بدلہ پائے گا۔“
3646
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ وَأَحَالُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle reached Khaibar in the early morning and the people of Khaibar came out with their spades, and when they saw the Prophet they said, Muhammad and his army! and returned hurriedly to take refuge in the fort. The Prophet raised his hands and said, Allah is Greater! Khaibar is ruined ! If we approach a nation, then miserable is the morning of those who are warned.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں صبح سویرے ہی پہنچ گئے۔ خیبر کے یہودی اس وقت اپنے پھاوڑے لے کر ( کھیتوں میں کام کرنے کے لیے ) جا رہے تھے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور یہ کہتے ہوئے کہ محمد لشکر لے کر آ گئے، وہ قلعہ کی طرف بھاگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا ”اللہ اکبر خیبر تو برباد ہوا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں ( جنگ کے لیے ) اتر جاتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔“
3647
Sahih
(5) CHAPTER.
باب
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ حَدِيثًا كَثِيرًا فَأَنْسَاهُ ، قَالَ : ابْسُطْ رِدَاءَكَ فَبَسَطْتُ فَغَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : ضُمَّهُ فَضَمَمْتُهُ فَمَا نَسِيتُ حَدِيثًا بَعْدُ .
Narrated Abu Huraira: I said, O Allah's Apostle! I hear many narrations from you but I forget them. He said, Spread your covering sheet. I spread my sheet and he moved both his hands as if scooping something and emptied them in the sheet and said, Wrap it. I wrapped it round my body, and since then I have never forgotten.
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
3648
Sahih

Chapters

25
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: 'O Mankind! We have created you from a male and a female. (V.49:13)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد ۔
11 Hadith
02
(2) CHAPTER. Virtues of Quraish.
قریش کی فضیلت کا بیان ۔
6 Hadith
03
(3) CHAPTER. The Quran was revealed in the language of Quraish.
قرآن کا قریش کی زبان میں نازل ہونا ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The descent of the Yemenites from Ismail (Ishmael). Among such Yemenites are the tribes of Aslam bin Afsa bin Haritha bin Amir from Khuzaa.
یمن والوں کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہونا قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر اہل یمن میں سے ہیں ۔
1 Hadith
05
(5) CHAPTER.
باب
15 Hadith
06
(6) CHAPTER. The mention of the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina, Juhaina, and Ashja.
اسلم ، غفار ، مزینہ ، جہینہ اوراشجع قبیلوں کا بیان ۔
5 Hadith
07
(7) CHAPTER. The mention of Qahtan tribe.
ایک مرد قحطانی کا تذکرہ ۔
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. What is forbidden of the Dawah (call, tradition or custom) of the (Pre-Islamic) Period of Ignorance.
جاہلیت کی سی باتیں کرنامنع ہے ۔
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. The story of Khuzaa.
قبیلہ خزاعہ کا بیان ۔
2 Hadith
10
(10) CHAPTER. The story of the conversion of Abu Dhar Al-Ghifari to Islam.
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کیاسلام لانے کا بیان ۔ زمزم کا واقعہ ۔
1 Hadith
11
(12) CHAPTER. The story of Zam- zam and the ignorance of the Arabs.
عرب قوم کی جہالت کا بیان ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. The story of Zam- zam and the ignorance of the Arabs.
اپنے مسلمان یا غیر مسلم باپ دادوں کی طرف اپنی نسبت کرنا ۔
4 Hadith
13
(14) CHAPTER. The son of some peopIe's sister is considered as belonging to the same people; and the freed slave of some people belongs to those people (who have freed him).
کسی قوم کا بھانجا یا آزاد کیا ہوا غلام بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے ۔
1 Hadith
14
(15) CHAPTER. The story of the Ethiopians, and the saying of Prophet (p.b.u.h), O Bani Arfida!
حبشہ کے لوگوں کا بیان اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرماناکہ اے بنی ارفدہ ۔
2 Hadith
15
(16) CHAPTER. Whoever liked that his ancestors should not be abused.
جو شخص یہ چاہے کہ اس کے باپ دادا کو کوئی برانہ کہے ۔
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. What has been said the names of Allah's Messenger (p.b.u.h).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کا بیان ۔
2 Hadith
17
(18) CHAPTER. The last (i.e., the end) of all the Prophets (Muhammad (p.b.u.h)).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ۔
2 Hadith
18
(19) CHAPTER. The death of the Prophet (p.b.u.h).
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان ۔
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The Kunya of the Prophet (p.b.u.h).
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت کا بیان ۔
3 Hadith
20
(22) CHAPTER. The seal of Prophethood.
مہر نبوت کا بیان ( جو آپ کے دونوں کندھوں کے بیچ میں تھی )
1 Hadith
21
(23) CHAPTER. The description of the Prophet (p.b.u.h).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اوراخلاق فاضلہ کا بیان ۔
27 Hadith
22
(24) CHAPTER. The eyes of the Prophet (p.b.u.h) used to sleep, but his heart used not to sleep.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا
2 Hadith
23
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
64 Hadith
24
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “[Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians)] recognise him (Muhammad (p.b.u.h) or the Kabah at Makkah) as they recognise their own sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it - [i.e., the qualities of Muhammad (p.b.u.h) which are written in the Taurat (Torah) and the Injeel (Gospel)]. (V.2:146)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ ارشاد کہ اہل کتاب اس رسول کو اس طرح پہچان رہے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے ایک فریق کے لوگ حق کو جانتے ہیں پھر بھی وہ اسے چھپاتے ہیں ۔
1 Hadith
25
(27) CHAPTER. The demand of Al-Mushrikun to the Prophet (p.b.u.h) to show them a miracle. The Prophet (p.b.u.h) showed them the splitting of the moon.
مشرکین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا ۔
3 Hadith
No chapter matched that.