TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The virtues and merits of the companions of the prophet. - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت - Book 63 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 63 of Sahih Bukhari, with 30 chapters and 127 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

127 Hadith · 30 Chapters
(10) CHAPTER. The merits of Jafar bin Abi Talib Al-Hashimi.
حضرت جعفر بنابیطالب ہاشمی رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ .
Narrated Ash-Shu`bi: Whenever Ibn `Umar greeted Ibn Jafar, he used to say: As-salamu-'Alaika (i.e. Peace be on you) O son of Dhu-l-Janahain (son of the two-winged person).
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، انہیں شعبی نے خبر دی کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جعفر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سلام کرتے تو یوں کہا کرتے «السلام عليك يا ابن ذي الجناحين‏.‏» اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے تم پر سلام ہو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں جو «جناحين‏.‏» کا لفظ ہے اس سے مراد دو گوشے ( کونے ) ہیں۔
3709
Sahih
(11) CHAPTER. The mention of Al-Abbas bin Abdul-Muttalib.
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا , وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ .
Narrated Anas: Whenever there was drought, `Umar bin Al-Khattab used to ask Allah for rain through Al-`Abbas bin `Abdul Muttalib, saying, O Allah! We used to request our Prophet to ask You for rain, and You would give us. Now we request the uncle of our Prophet to ask You for rain, so give us rain. And they would be given rain.
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، ان سے ابوعبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی۔
3710
Sahih
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ , وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ .
Narrated 'Aisha: Fatima sent somebody to Abu Bakr asking him to give her her inheritance from the Prophet from what Allah had given to His Apostle through Fai (i.e. booty gained without fighting). She asked for the Sadaqa (i.e. wealth assigned for charitable purposes) of the Prophet at Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus (i.e., one-fifth) of the Khaibar booty.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں اپنا آدمی بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فی کی صورت میں دی تھی۔ یعنی آپ کا مطالبہ مدینہ کی اس جائیداد کے بارے میں تھا جس کی آمدن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصارف خیر میں خرچ کرتے تھے، اور اسی طرح فدک کی جائیداد اور خیبر کے خمس کا بھی مطالبہ کیا۔
3711
Sahih
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ , وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَقَّهُمْ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي .
Abu Bakr said, Allah's Apostle said, 'We (Prophets), our property is not inherited, and whatever we leave is Sadaqa, but Muhammad's Family can eat from this property, i.e. Allah's property, but they have no right to take more than the food they need.' By Allah! I will not bring any change in dealing with the Sadaqa of the Prophet (and will keep them) as they used to be observed in his (i.e. the Prophet's) life-time, and I will dispose with it as Allah's Apostle used to do, Then 'Ali said, I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His Apostle, and added, O Abu Bakr! We acknowledge your superiority. Then he (i.e. 'Ali) mentioned their own relationship to Allah's Apostle and their right. Abu Bakr then spoke saying, By Allah in Whose Hands my life is. I love to do good to the relatives of Allah's Apostle rather than to my own relatives
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما گئے ہیں کہ ہماری میراث نہیں ہوتی۔ ہم ( انبیاء ) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور یہ کہ آل محمد کے اخراجات اسی مال میں سے پورے کئے جائیں مگر انہیں یہ حق نہیں ہو گا کہ کھانے کے علاوہ اور کچھ تصرف کریں اور میں، اللہ کی قسم! آپ کے صدقے میں جو آپ کے زمانے میں ہوا کرتے تھے ان میں کوئی رد و بدل نہیں کروں گا بلکہ وہی نظام جاری رکھوں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم آپ کی فضیلت و مرتبہ کا اقرار کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا اور اپنے حق کا ذکر کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت والوں سے سلوک کرنا مجھ کو اپنی قرابت والوں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
3712
Sahih
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ .
Abu Bakr: Look at Muhammad through his family (i.e. if you are no good to his family you are not good to him).
مجھے عبداللہ بن عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آپ کے اہل بیت میں رکھو۔
3713
Sahih
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي .
Narrated Al-Miswar bin Makhrama: Allah's Apostle said, Fatima is a part of me, and he who makes her angry, makes me angry.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، اس لیے جس نے اسے ناحق ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔
3714
Sahih
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ ، قَالَتْ : فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ .
Narrated `Aisha: The Prophet called his daughter Fatima during his illness in which he died, and told her a secret whereupon she wept. Then he called her again and told her a secret whereupon she laughed. When I asked her about that, she replied,
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
3715
Sahih
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
فَقَالَتْ : سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ .
The Prophet spoke to me in secret and informed me that he would die in the course of the illness during which he died, so I wept. He again spoke to me in secret and informed me that I would be the first of his family to follow him (after his death) and on that I laughed.
تو انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے یہ فرمایا تھا کہ وہ اپنی اسی بیماری میں وفات پا جائیں گے، میں اس پر رونے لگی۔ پھر مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے فرمایا کہ آپ کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں آپ سے جا ملوں گی، اس پر میں ہنسی تھی۔
3716
Sahih
(13) CHAPTER. The merits of Az-Zubair bin Al-Awwam.
حضرت زبیر بن عوام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ : أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَالَ : اسْتَخْلِفْ ، قَالَ : وَقَالُوهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمَنْ فَسَكَتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ ، فَقَالَ : اسْتَخْلِفْ ، فَقَالَ : عُثْمَانُ وَقَالُوا ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ ، قَالَ : فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Marwan bin Al-Hakam: `Uthman bin `Affan was afflicted with severe nose-bleeding in the year when such illness was prevelant and that prevented him from performing Hajj, and (because of it) he made his will. A man from Quraish came to him and said, Appoint your successor. `Uthman asked, Did the people name him? (i.e. the successor) the man said, Yes. `Uthman asked, Who is that? The man remained silent. Another man came to `Uthman and I think it was Al-Harith. He also said, Appoint your successor. `Uthman asked, Did the people name him? The man replied Yes. `Uthman said, Who is that? The man remained silent. `Uthman said, Perhaps they have mentioned Az-Zubair? The man said, Yes. `Uthman said, By Him in Whose Hands my life is, he is the best of them as I know, and the dearest of them to Allah's Apostle .
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور ( زندگی سے مایوس ہو کر ) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔
3717
Sahih
(13) CHAPTER. The merits of Az-Zubair bin Al-Awwam.
حضرت زبیر بن عوام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي , سَمِعْتُ مَرْوَانَ ، كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : اسْتَخْلِفْ ، قَالَ : وَقِيلَ ذَاكَ ، قَالَ : نَعَمْ الزُّبَيْرُ ، قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ ثَلَاثًا .
Narrated Marwan bin Al-Hakam: While I was with `Uthman, a man came to him and said, Appoint your successor. `Uthman said, Has such successor been named? He replied, Yes, Az-Zubair. `Uthman said, thrice, By Allah! Indeed you know that he is the best of you.
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ میں نے مروان سے سنا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے،۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں، زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے، آپ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے، تم کو بھی معلوم ہے کہ وہ تم میں بہتر ہیں، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔
3718
Sahih
(13) CHAPTER. The merits of Az-Zubair bin Al-Awwam.
حضرت زبیر بن عوام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ .
Narrated Jabir: The Prophet said, Every prophet used to have a Hawari (i.e. disciple), and my Hawari is Az-Zubair bin Al-`Awwam.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا جو ابوسلمہ کے صاحبزادے تھے، ان سے محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ( رضی اللہ عنہ ) ہیں۔
3719
Sahih
(13) CHAPTER. The merits of Az-Zubair bin Al-Awwam.
حضرت زبیر بن عوام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كُنْتُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي النِّسَاءِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ عَلَى فَرَسِهِ يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَجَعْتُ ، قُلْتُ : يَا أَبَتِ رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ ، قَالَ : أَوَ هَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ , فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ ، فَقَالَ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair: During the battle of Al-Ahzab, I and `Umar bin Abi-Salama were kept behind with the women. Behold! I saw (my father) Az-Zubair riding his horse, going to and coming from Bani Quraiza twice or thrice. So when I came back I said, O my father! I saw you going to and coming from Bani Quraiza? He said, Did you really see me, O my son? I said, Yes. He said, Allah's Apostle said, 'Who will go to Bani Quraiza and bring me their news?' So I went, and when I came back, Allah's Apostle mentioned for me both his parents saying, Let my father and mother be sacrificed for you. '
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا ( کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے ) میں نے اچانک دیکھا کہ زبیر رضی اللہ عنہ ( آپ کے والد ) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ ( یہودیوں کے ایک قبیلہ کی ) طرف آ جا رہے ہیں۔ دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میں نے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جا کر ان کی ( نقل و حرکت کے متعلق ) اطلاع میرے پاس لا سکے۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں ( خبر لے کر ) واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرط مسرت میں ) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“
3720
Sahih
(13) CHAPTER. The merits of Az-Zubair bin Al-Awwam.
حضرت زبیر بن عوام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ : أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ , فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَكُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ .
Narrated `Urwa: On the day of the battle of Al-Yarmuk, the companions of the Prophet said to Az-Zubair, Will you attack the enemy vigorously so that we may attack them along with you? So Az-Zubair attacked them, and they inflicted two wounds over his shoulder, and in between these two wounds there was an old scar he had received on the day of the battle of Badr When I was a child, I used to insert my fingers into those scars in play.
ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ جنگ یرموک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے ان ( رومیوں ) پر حملہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ( رومیوں نے ) آپ کے دو کاری زخم شانے پر لگائے۔ درمیان میں وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا۔ عروہ نے کہا کہ ( یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اچھے ہو جانے کے بعد ) میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔
3721
Sahih
(14) CHAPTER. (Narrations) about Talha bin Ubaidullah.
حضرت طلحہ بنعبیداللہ کا تذکرہ اور حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ان کے متعلق کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ , وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا .
Narrated Abu `Uthman: During one of the Ghazawat in which Allah's Apostle was fighting, none remained with the Prophet but Talha and Sa`d.
مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، ان سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے ( احد کی جنگ میں ) آپ کے ساتھ طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔
3722
Sahih
(14) CHAPTER. (Narrations) about Talha bin Ubaidullah.
حضرت طلحہ بنعبیداللہ کا تذکرہ اور حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ان کے متعلق کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ , وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا .
Narrated Abu `Uthman: During one of the Ghazawat in which Allah's Apostle was fighting, none remained with the Prophet but Talha and Sa`d.
مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، ان سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے ( احد کی جنگ میں ) آپ کے ساتھ طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا۔
3723
Sahih
(14) CHAPTER. (Narrations) about Talha bin Ubaidullah.
حضرت طلحہ بنعبیداللہ کا تذکرہ اور حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ان کے متعلق کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَلَّتْ .
Narrated Qais bin Abi Hazim: I saw Talha's paralyzed hand with which he had protected the Prophet (from an arrow) .
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( جنگ احد میں ) حفاظت کی تھی وہ بالکل بیکار ہو چکا تھا۔
3724
Sahih
(14) CHAPTER. (Narrations) about Talha bin Ubaidullah.
حضرت طلحہ بنعبیداللہ کا تذکرہ اور حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ان کے متعلق کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ : جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .
Narrated Sa`d: On the day of the battle of Uhud the Prophet mentioned for me both his parents (i.e. saying, Let my parents be sacrificed for you. ).
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے یحییٰ سے سنا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جنگ احد کے موقع پر میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کر کے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
3725
Sahih
(15) CHAPTER. The merits of Sad bin Abi Waqqas Az-Zuhri.
حضرت سعدبنابیوقاص الزہری رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثُلُثُ الْإِسْلَامِ .
Narrated Sa`d: No doubt, (for some time) I stood for one-third of the Muslims.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ مجھے خوب یاد ہے۔ میں نے ایک زمانے میں مسلمانوں کا تیسرا حصہ اپنے آپ کو دیکھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اسلام کے تیسرے حصے سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین مسلمان تھے جن میں تیسرا مسلمان میں تھا۔
3726
Sahih
(15) CHAPTER. The merits of Sad bin Abi Waqqas Az-Zuhri.
حضرت سعدبنابیوقاص الزہری رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ . تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ ,حَدَّثَنَا هَاشِمٌ .
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas: No man embraced Islam before the day on which I embraced Islam, and no doubt, I remained for seven days as one third of the then extant Muslims.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص سے سنا، انہوں نے کہا کہ جس دن میں اسلام لایا، اسی دن دوسرے ( سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والے حضرات صحابہ ) بھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور میں سات دن تک اسی طور پر رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا۔ ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ نے بھی روایت کیا۔
3727
Sahih
(15) CHAPTER. The merits of Sad bin Abi Waqqas Az-Zuhri.
حضرت سعدبنابیوقاص الزہری رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَكُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا يَضَعُ الْبَعِيرُ أَوِ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي , وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَر , قَالُوا : لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي .
Narrated Qais: I heard Sa`d saying, I was the first amongst the 'Arabs who shot an arrow for Allah's Cause. We used to fight along with the Prophets, while we had nothing to eat except the leaves of trees so that one's excrete would look like the excrete balls of camel or a sheep, containing nothing to mix them together. Today Banu Asad tribe blame me for not having understood Islam. I would be a loser if my deeds were in vain. Those people complained about Sa`d to `Umar, claiming that he did not offer his prayers perfectly.
ہم سے ہاشم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عرب میں سب سے پہلے اللہ کے راستے میں، میں نے تیر اندازی کی تھی ( ابتداء اسلام میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کے ساتھ اس طرح غزوات میں شرکت کرتے تھے کہ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا، اس سے ہمیں اونٹ اور بکریوں کی طرح اجابت ہوتی تھی۔ یعنی ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اب بنی اسد کا یہ حال ہے کہ اسلامی احکام پر عمل میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں ( اگر ) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہو گئے۔ ہوا یہ تھا کہ بنی اسد نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی چغلی کھائی تھی۔ یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھتے۔
3728
Sahih

Chapters

30
01
(1) CHAPTER. The virtues of the Companions of the Prophet.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The virtues ot tne emigrants (i.e., Muhajirun) and their merits.
مہاجرین کے مناقب اور فضائل کا بیان
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The saying of the Prophet , “Close the gates (in the Mosque), except the gate of Abu Bakr.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم فرماناکہ حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کے دروازے کو چھوڑ کر ( مسجدنبوی کی طرف کے ) تمام دروازے بند کر دو ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The merits of Abu Bakr as next to those of the Prophet (in excellence).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کی ( دوسرے صحابہ ) پر فضیلت کا بیان
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. The saying of the Prophet : “If I were to take a Khalil... .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا
23 Hadith
06
(6) CHAPTER. The merits of Umar bin Al-Khattab Abi Hafs Al-Qurashi Al-Adawi.
حضرت ابوحفص عمر بنخطاب قرشی عدوی رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
16 Hadith
07
(7) CHAPTER. The virtues of Uthman bin Affan Abi Amr Al-Qurashi.
حضرت ابوعمرو عثمان بنعفان القرشی ( اموی ) رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
5 Hadith
08
(8) CHAPTER. The story of the Bai'a (pledge) (after Umar) and the unanimous election of of Uthman bin Affan as a caliph.
حضرت عثمان رضیاللہعنہ سے بیعت کا قصہ اور آپ کیخلافت پر صحابہ کا اتفاق کرنا اور اس باب میں امیرالمؤمنین حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. The merits of Ali bin Abi Talib Al-Qurashi Al-Hashimi, Abul-Hasan.
حضرت ابوالحسن علی بنابیطالب القرشی الہاشمی کے فضائل کا بیان
7 Hadith
10
(10) CHAPTER. The merits of Jafar bin Abi Talib Al-Hashimi.
حضرت جعفر بنابیطالب ہاشمی رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
11
(11) CHAPTER. The mention of Al-Abbas bin Abdul-Muttalib.
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضیاللہعنہ کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
6 Hadith
13
(13) CHAPTER. The merits of Az-Zubair bin Al-Awwam.
حضرت زبیر بن عوام رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
5 Hadith
14
(14) CHAPTER. (Narrations) about Talha bin Ubaidullah.
حضرت طلحہ بنعبیداللہ کا تذکرہ اور حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ان کے متعلق کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔
4 Hadith
15
(15) CHAPTER. The merits of Sad bin Abi Waqqas Az-Zuhri.
حضرت سعدبنابیوقاص الزہری رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
3 Hadith
16
(16) CHAPTER. Narrations about the sons-in-law of the Prophet and one of them is Abu Al-As bin Ar-Rabi.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامادوں کا بیان ابوالعاص بن ربیع بھی ان ہی میں سے ہیں
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. The virtues of Zaid bin Haritha, the freed slave of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت زیدبنحارثہ کے فضائل کا بیان
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. Narrations about Usama bin Zaid.
حضرت اسامہ بنزید رضیاللہعنہ کا بیان
6 Hadith
19
(19) CHAPTER. The merits of Abdullah bin Umar Al-Khattab.
حضرت عبداللہبنعمر بنخطاب رضیاللہعنہما کے فضائل کا بیان
4 Hadith
20
(20) CHAPTER. The virtues of Ammar (bin Yasir) and Hudhaifa (bin Al-Yaman).
حضرت عمار اور حذیفہ رضی اللہ عنہماکے فضائل کا بیان
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. The virtues of Abu Ubaida bin Al-Jarrah.
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
2 Hadith
22
(22) CHAPTER. The merits of Al- Hasan and Al-Husain.
حضرت حسن اور حسین رضیاللہعنہما کے فضائل کا بیان
8 Hadith
23
(23) CHAPTER. The merits of Bilal bin Rabah, freed slave of Abu Bakr.
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کے مولیٰ حضرت بلال بن رباح رضیاللہعنہ کے فضائل
2 Hadith
24
(24) CHAPTER. Narrations about Ibn Abbas.
حضرت عبداللہبنعباس رضیاللہعنہما کا ذکرخیر
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. The merits of Khalid bin Al-Walid.
حضرت خالدبنولید رضیاللہعنہ کے فضائل
1 Hadith
26
(26) CHAPTER. The merits of Salim, the freed slave of Abu Hudhaifa.
حضرت ابوحذیفہ رضیاللہعنہ کے مولیٰ سالم رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. The merits of Abdullah bin Masud.
حضرت عبداللہبنمسعود رضیاللہعنہما کے فضائل کابیان
5 Hadith
28
(28) CHAPTER. Narration about Muawiya.
حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضیاللہعنہ کا بیان
3 Hadith
29
(29) CHAPTER. The merits of Fatima.
حضرت فاطمہ رضیاللہعنہا کے فضائل کا بیان
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. The superiority of Aishah.
حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.