TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-adahi. - کتاب قربانی کے مسائل کا بیان - Book 74 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 74 of Sahih Bukhari, with 16 chapters and 30 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

30 Hadith · 16 Chapters
(1) CHAPTER. The legal way of Al-Udhiya.
قربانی کرنا سنت ہے اور حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے کہا کہ یہ سنت ہے اور یہ امرمشہور ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ ، فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ ، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً ، فَقَالَ : اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ، قَالَ مُطَرِّفٌ : ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ تَمَّ نُسُكُهُ ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ .
Narrated Al-Bara: The Prophet said (on the day of Idal-Adha), The first thing we will do on this day of ours, is to offer the (`Id) prayer and then return to slaughter the sacrifice. Whoever does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered (the sacrifice) before the prayer, what he offered was just meat he presented to his family, and that will not be considered as Nusak (sacrifice). (On hearing that) Abu Burda bin Niyar got up, for he had slaughtered the sacrifice before the prayer, and said, I have got a six month old ram. The Prophet said, 'Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be sufficient for any-one else (as a sacrifice after you). Al-Bara' added: The Prophet said, Whoever slaughtered (the sacrifice) after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید ایامی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج ( عید الاضحی کے دن ) کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص ( نماز عید سے ) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ( نماز عید سے پہلے ہی ) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے ( کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا۔
5545
Sahih
(1) CHAPTER. The legal way of Al-Udhiya.
قربانی کرنا سنت ہے اور حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے کہا کہ یہ سنت ہے اور یہ امرمشہور ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, Whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, he just slaughtered it for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز عید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔
5546
Sahih
(2) CHAPTER. The distribution of the animals (for sacrifice by Imam) among the people.
امام کا قربانی کے جانور لوگوں میں تقسیم کرنا ۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا ، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ ، قَالَ : ضَحِّ بِهَا .
Narrated `Uqba bin 'Amir Al-Juhani: that the Prophet distributed among his companions some animals for sacrifice (to be slaughtered on `Id-al-Adha). `Uqba's share was a Jadha'a (a six month old goat). `Uqba said, O Allah's Apostle! I get in my share of Jadha'a (a six month old ram). The Prophet said, Slaughter it as a sacrifice.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے بعجہ الجہنی نے اور ان سے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی کر لو۔
5547
Sahih
(3) CHAPTER. Sacrifices (slaughtered) on behalf of traveller and women.
مسافروں اور عورتوں کی طرف سے قربانی ہونا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ ، وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ ، قَالُوا : ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ .
Narrated `Aisha: that the Prophet entered upon her when she had her menses at Sarif before entering Mecca, and she was weeping (because she was afraid that she would not be able to perform the Hajj). The Prophet said, What is wrong with you? Have you got your period? She said, Yes. He said, This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform all the ceremonies of Hajj like the others, but do not perform the Tawaf around the Ka`ba. `Aisha added: When we were at Mina, beef was brought to me and I asked, What is this? They (the people) said, Allah's Apostle has slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔
5548
Sahih
(4) CHAPTER. Meat is desired on the day of Nahr.
قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ : مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَلْيُعِدْ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ، وَذَكَرَ جِيرَانَهُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ ، أَمْ لَا ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ ، فَذَبَحَهُمَا ، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا ، أَوْ قَالَ : فَتَجَزَّعُوهَا .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said on the day of Nahr, Whoever has slaughtered his sacrifice before the prayer, should repeat it (slaughter another sacrifice). A man got up and said, O Allah's Apostle! This is a day on which meat is desired. He then mentioned his neighbors saying, I have a six month old ram which is to me better than the meat of two sheep. The Prophet allowed him to slaughter it as a sacrifice, but I do not know whether this permission was valid for other than that man or not. The Prophet then went towards two rams and slaughtered them, and then the people went towards some sheep and distributed them among themselves.
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کہا کہ ) میرے پاس ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے ( ذبح کیا ) ۔
5549
Sahih
(5) CHAPTER. Whoever said that sacrifices (should be offered) on the day of Nahr.
جس نے کہا کہ قربانی صرف دسویں تاریخ تک ہی درست ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا ، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ، ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ، ذُو الْقَعْدَةِ ، وَذُو الْحِجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ ، وَرَجَبُ ، مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ ، أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ! قُلْنَا بَلَى ، قَالَ : أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ! ، قُلْنَا بَلَى ، قَالَ : فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ ، قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، فَسَكَتَ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ! قُلْنَا بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَأَعْرَاضَكُمْ ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ ، أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ وَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ ، قَالَ : صَدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ .
Narrated Abu Bakra: The Prophet said, Time has come back to its original state which it had on the day Allah created the Heavens and the Earth. The year is twelve months, four of which are sacred, three of them are in succession, namely Dhul-Qa'da, Dhul Hijja and Muharram, (the fourth being) Rajab Mudar which is between Juma'da (ath-thamj and Sha'ban. The Prophet then asked, Which month is this? We said, Allah and his Apostle know better. He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, Isn't it the month of Dhul-Hijja? We said, Yes. He said, Which town is this? We said, Allah and His Apostle know better. He kept silent so long that we thought that he would call it t,y a name other than its real name. He said, isn't it the town (of Mecca)? We replied, Yes. He said, What day is today? We replied, Allah and His Apostle know better. He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, Isn't it the day of Nahr? We replied, Yes. He then said, Your blood, properties and honor are as sacred to one another as this day of yours in this town of yours in this month of yours. You will meet your Lord, and He will ask you about your deeds. Beware! Do not go astray after me by cutting the necks of each other. It is incumbent upon those who are present to convey this message to those who are absent, for some of those to whom it is conveyed may comprehend it better than some of those who have heard it directly. (Muhammad, the sub-narrator, on mentioning this used to say: The Prophet then said, No doubt! Haven't I delivered (Allah's) Message (to you)? Haven't I delivered Allah's message (to you)?
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ابن ابی بکرہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے۔ سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں، تین پے در پے ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ) یہ کون سا مہینہ ہے، ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ ہی ہے۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بلدہ ( مکہ مکرمہ ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس تمہارا خون، تمہارے اموال۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ( ابن ابی بکرہ نے ) یہ بھی کہا کہ اور تمہاری عزت تم پر ( ایک کی دوسرے پر ) اس طرح باحرمت ہیں جس طرح اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں ہے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاہ ہو جاؤ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے۔ ہاں جو یہاں موجود ہیں وہ ( میرا یہ پیغام ) غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں۔ ممکن ہے کہ بعض وہ جنہیں یہ پیغام پہنچایا جائے بعض ان سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے ہوں جو اسے سن رہے ہیں۔ اس پر محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے ( اس کا پیغام تم کو ) پہنچا دیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟
5550
Sahih
(6) CHAPTER. AI-Adha and the slaughtering of sacrifices at the Musalla (the place of offering Eid prayer).
عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Nafi': 'Abdullah (bin 'Umar) used to slaughter his sacrifice at the slaughtering place (i.e the slaughtering place of the Prophet ) .
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں نحر کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے۔
5551
Sahih
(6) CHAPTER. AI-Adha and the slaughtering of sacrifices at the Musalla (the place of offering Eid prayer).
عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، عَنْ نَافِعٍ : ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ ، وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى .
Ibn 'Umar said, Allah's Apostle used to slaughter (camels and sheep, etc.,) as sacrifices at the Musalla.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے کثیر بن فرقد نے، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قربانی ) ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے۔
5552
Sahih
(7) CHAPTER. The Prophet slaughtered two horned rams which, it is mentioned, were fat ones.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو مینڈھوں کی قربانی کی ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ ، وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet used to offer two rams as sacrifices, and I also used to offer two rams.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا۔
5553
Sahih
(7) CHAPTER. The Prophet slaughtered two horned rams which, it is mentioned, were fat ones.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو مینڈھوں کی قربانی کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ ، ، تَابَعَهُ وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ ، وَحَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسٍ .
Narrated Anas: Allah's Apostle came towards two horned rams having black and white colors and slaughtered them with his own hands.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ اس کی متابعت وہیب نے کی، ان سے ایوب نے اور اسماعیل اور حاکم بن وردان نے بیان کیا کہ ان سے ایوب نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
5554
Sahih
(7) CHAPTER. The Prophet slaughtered two horned rams which, it is mentioned, were fat ones.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو مینڈھوں کی قربانی کی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ ضَحَايَا ، فَبَقِيَ عَتُودٌ ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ضَحِّ أَنْتَ بِهِ
Narrated `Uqba bin 'Amir: that the Prophet gave him some sheep to distribute among his companions to slaughter as sacrifices (`Id--al--Adha). A kid was left and he told the Prophet of that whereupon he said to him, Slaughter it as a sacrifice (on your behalf).
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں تقسیم کرنے کے لیے آپ کو کچھ قربانی کی بکریاں دیں انہوں نے انہیں تقسیم کیا پھر ایک سال سے کم کا ایک بچہ بچ گیا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کر لو۔
5555
Sahih
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet to Abu Burda: “Slaughter a kid as a sacrifice (of Eid-ul-Adha), but it will not be sufficient for anybody else after you.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضیاللہعنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کمعمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : ضَحَّى خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ : أَبُو بُرْدَةَ ، قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شَاتُكَ شَاةُ لَحْمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنَ الْمَعَزِ ، قَالَ : اذْبَحْهَا وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِكَ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ، تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ ، وَتَابَعَهُ ، وَكِيعٌ ، عَنْ حُرَيْثٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، وَقَالَ عَاصِمٌ ، وَدَاوُدُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ : عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ ، وَقَالَ زُبَيْدٌ ، وَفِرَاسٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ : عِنْدِي جَذَعَةٌ ، وَقَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنَاقٌ جَذَعَةٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ : عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ .
Narrated Al-Bara' bin `Azib: An uncle of mine called Abu Burda, slaughtered his sacrifice before the `Id prayer. So Allah's Apostle said to him, Your (slaughtered) sheep was just mutton (not a sacrifice). Abu Burda said, O Allah's Apostle! I have got a domestic kid. The Prophet said, Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be permissible for anybody other than you The Prophet added, Whoever slaughtered his sacrifice before the (`Id) prayer, he only slaughtered for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he offered his sacrifice properly and followed the tradition of the Muslims.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مطرف نے بیان کیا، ان سے عامر نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میرے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری بکری صرف گوشت کی بکری ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے ہی ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد ( اس کی قربانی ) کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی پھر فرمایا جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے وہ صرف اپنے کھانے کو جانور ذبح کرتا ہے اور جو عید کی نماز کے بعد قربانی کرے اس کی قربانی پوری ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کی سنت کو پا لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم نے کی اور اس کی متابعت وکیع نے کی، ان سے حریث نے اور ان سے شعبی نے ( بیان کیا ) اور عاصم اور داؤد نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“ اور زبید اور فراس نے شعبی سے بیان کیا کہ ”میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بچہ ہے۔“ اور ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم کی پٹھیا۔“ اور ابن العون نے بیان کیا کہ ”ایک سال سے کم عمر کی دودھ پیتی پٹھیا ہے۔“
5556
Sahih
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet to Abu Burda: “Slaughter a kid as a sacrifice (of Eid-ul-Adha), but it will not be sufficient for anybody else after you.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضیاللہعنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کمعمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْدِلْهَا ، قَالَ : لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ ، قَالَ شُعْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، قَالَ : اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ، وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ : عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : عَنَاقٌ جَذَعَةٌ .
Narrated Al-Bara': Abu Burda slaughtered (the sacrifice) before the (`Id) prayer whereupon the Prophet said to him, Slaughter another sacrifice instead of that. Abu Burda said, I have nothing except a Jadha'a. (Shu`ba said: Perhaps Abu Burda also said that Jadha'a was better than an old sheep in his opinion.) The Prophet said, (Never mind), slaughter it to make up for the other one, but it will not be sufficient for anyone else after you.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ نے، ان سے ابوجحیفہ نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے میں دوسری قربانی کر لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کے بچے کے سوا اور کوئی جانور نہیں۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بھی عمدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسی کی اس کے بدلے میں قربانی کر دو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر حدیث تک ( اس روایت میں یہ لفظ ہیں ) کہ ”ایک سال سے کم عمر کی بچی ہے۔“
5557
Sahih
(9) CHAPTER. Whoever slaughtered his sacrifice with his own hands.
اس بارے میں جس نے قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ، يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ ، فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ .
Narrated Anas: The Prophet slaughtered two rams, black and white in color (as sacrifices), and I saw him putting his foot on their sides and mentioning Allah's Name and Takbir (Allahu Akbar). Then he slaughtered them with his own hands.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
5558
Sahih
(10) CHAPTER. Whoever slaughtered the sacrifices on behalf of others.
جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی ۔ ایک صاحب نے حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی حضرت ابوموسیٰاشعری رضیاللہعنہ نے اپنی لڑکیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، اقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle entered upon me at Sarif while I was weeping (because I was afraid that I would not be able to perform the ,Hajj). He said, What is wrong with you? Have you got your period? I replied, Yes. He said, This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform the ceremonies of the Hajj as the pilgrims do, but do not perform the Tawaf around the Ka`ba. Allah's Apostle slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مقام سرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اس لیے حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج انجام دو صرف کعبہ کا طواب نہ کرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
5559
Sahih
(11) CHAPTER. To slaughter the sacrifice after the (Eid) Salat (prayer).
قربانی کا جانور نماز عیدالاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ هَذَا فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا ، وَمَنْ نَحَرَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ ، فَقَالَ : اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ أَوْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ .
Narrated Al-Bara': I heard the Prophet delivering a sermon, and he said (on the Day of `Id-Allah. a), The first thing we will do on this day of ours is that we will offer the `Id prayer, then we will return and slaughter our sacrifices; and whoever does so, then indeed he has followed our tradition, and whoever slaughtered his sacrifice (before the prayer), what he offered was just meat that he presented to his family, and that was not a sacrifice. Abu Burda got up and said, O Allah's Apostle! I slaughtered the sacrifice before the prayer and I have got a Jadha'a which is better than an old sheep. The Prophet said, Slaughter it to make up for that, but it will not be sufficient for anybody else after you.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے زبید نے خبر دی، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو شخص اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کو پا لے گا لیکن جس نے ( عید کی نماز سے پہلے ) جانور ذبح کر لیا تو وہ ایسا گوشت ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے تیار کیا ہے وہ قربانی کسی درجہ میں بھی نہیں۔ ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو عید کی نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے البتہ میرے پاس ابھی ایک سال سے کم عمر کا ایک بکری کا بچہ ہے اور سال بھر کی بکری سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کی قربانی اس کے بدلہ میں کرو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہ ہو گا۔
5560
Sahih
(12) CHAPTER. Whoever slaughters his sacrifice before the Eid prayer should repeat it (slaughter another sacrifice).
اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ، وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَذَرَهُ ، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ ، فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَا أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ ، أَمْ لَا ، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ يَعْنِي فَذَبَحَهُمَا ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَذَبَحُوهَا .
Narrated Anas: The Prophet said, Whoever slaughtered the sacrifice before the `Id prayer, should repeat it (slaughter another one). A man said This is the day on which meat is desired. Then he mentioned the need of his neighbors (for meat) and the Prophet seemed to accept his excuse. The man said, I have a Jadha'a which is to me better than two sheep. The Prophet allowed him (to slaughter it as a sacrifice). But I do not know whether this permission was general for all Muslims or not. The Prophet then went towards two rams and slaughtered them, and the people went towards their sheep and slaughtered them.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ دوبارہ قربانی کرے۔ اس پر ایک صحابی اٹھے اور عرض کیا: ( یا رسول اللہ! ) اس دن گوشت کی لوگوں کو خواہش زیادہ ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا ذکر کیا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول کر لیا ہو ( انہوں نے یہ بھی کہا کہ ) میرے پاس ایک سال کا ایک بچہ ہے اور بکریوں سے بھی اچھا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے قربانی کی اجازت دے دی لیکن مجھے اس کا علم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی تھی یا نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا۔
5561
Sahih
(12) CHAPTER. Whoever slaughters his sacrifice before the Eid prayer should repeat it (slaughter another sacrifice).
اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا ۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ ، قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ .
Narrated Jundab bin Sufyan Al-Bajali: I witnessed the Prophet on the Day of Nahr. He said, Whoever slaughtered the sacrifice before offering the `Id prayer, should slaughter another sacrifice in its place; and whoever has not slaughtered their sacrifice yet, should slaughter now.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسود بن قیس نے بیان کیا، کہا میں نے جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ قربانی کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ کرے اور جس نے قربانی ابھی نہ کی ہو وہ کرے۔
5562
Sahih
(12) CHAPTER. Whoever slaughters his sacrifice before the Eid prayer should repeat it (slaughter another sacrifice).
اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا ، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يَنْصَرِفَ ، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلْتُ ، فَقَالَ : هُوَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ ، قَالَ : فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ آذْبَحُهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ لَا تَجْزِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ، قَالَ عَامِرٌ : هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْهِ .
Narrated Al-Bara': One day Allah's Apostle offered the `Id prayer and said, Whoever offers our prayer and faces our Qibla should not slaughter the sacrifice till he finishes the `Id prayer. Abu Burda bin Niyar got up and said, O Allah's Apostle! I have already done it. The Prophet said, That is something you have done before its due time. Abu Burda said, I have a Jadha'a which is better than two old sheep; shall I slaughter it? The Prophet said, Yes, but it will not be sufficient for anyone after you.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے فراس نے، ان سے عامر نے، ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز عید پڑھی اور فرمایا کہ جو ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور ہمارے قبلہ کو قبلہ بناتا ہو وہ نماز عید سے فارغ ہونے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو قربانی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ ایک ایسی چیز ہوئی جسے تم نے وقت سے پہلے ہی کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا ایک بچہ ہے جو ایک سال کی دو بکریوں سے عمدہ ہے کیا میں اسے ذبح کر لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ عامر نے بیان کیا کہ یہ ان کی بہترین قربانی تھی۔
5563
Sahih
(13) CHAPTER. To put one's foot on the side of the animal at the time of slaughtering.
ذبح کئے جانے والے جانور کی گردن پر پاؤں رکھنا جائز ہے ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ .
Narrated Anas: The Prophet used to offer as sacrifices, two horned rams, black and white in color, and used to put his foot on their sides and slaughter them with his own hands.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کی گردنوں کے اوپر رکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔
5564
Sahih

Chapters

16
01
(1) CHAPTER. The legal way of Al-Udhiya.
قربانی کرنا سنت ہے اور حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے کہا کہ یہ سنت ہے اور یہ امرمشہور ہے ۔
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. The distribution of the animals (for sacrifice by Imam) among the people.
امام کا قربانی کے جانور لوگوں میں تقسیم کرنا ۔
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. Sacrifices (slaughtered) on behalf of traveller and women.
مسافروں اور عورتوں کی طرف سے قربانی ہونا جائز ہے ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. Meat is desired on the day of Nahr.
قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے ۔
1 Hadith
05
(5) CHAPTER. Whoever said that sacrifices (should be offered) on the day of Nahr.
جس نے کہا کہ قربانی صرف دسویں تاریخ تک ہی درست ہے ۔
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. AI-Adha and the slaughtering of sacrifices at the Musalla (the place of offering Eid prayer).
عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان ۔
2 Hadith
07
(7) CHAPTER. The Prophet slaughtered two horned rams which, it is mentioned, were fat ones.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو مینڈھوں کی قربانی کی ۔
3 Hadith
08
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet to Abu Burda: “Slaughter a kid as a sacrifice (of Eid-ul-Adha), but it will not be sufficient for anybody else after you.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابوبردہ رضیاللہعنہ کے لیے کہ بکری کے ایک سال سے کمعمر کے بچے ہی کی قربانی کر لے لیکن تمہارے بعد اس کی قربانی کسی اور کے لیے جائز نہیں ہو گی ۔
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. Whoever slaughtered his sacrifice with his own hands.
اس بارے میں جس نے قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ۔
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. Whoever slaughtered the sacrifices on behalf of others.
جس نے دوسرے کی قربانی ذبح کی ۔ ایک صاحب نے حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما کی ان کے اونٹ کی قربانی میں مدد کی حضرت ابوموسیٰاشعری رضیاللہعنہ نے اپنی لڑکیوں سے کہا کہ اپنی قربانی وہ اپنے ہاتھ ہی سے ذبح کریں ۔
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. To slaughter the sacrifice after the (Eid) Salat (prayer).
قربانی کا جانور نماز عیدالاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے ۔
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whoever slaughters his sacrifice before the Eid prayer should repeat it (slaughter another sacrifice).
اس کے متعلق جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اور پھر اسے لوٹایا ۔
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. To put one's foot on the side of the animal at the time of slaughtering.
ذبح کئے جانے والے جانور کی گردن پر پاؤں رکھنا جائز ہے ۔
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. To say Takbir (Allahu Akbar) while slaughtering (a sacrifice).
ذبح کرنے کے وقت اللہ اکبر کہنا ۔
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. If someone sends his Hady to be slaughtered then nothing lawful is rendered unlawful for him.
اگر کوئی شخص اپنی قربانی کاجانور حرم میں کسی کے سا تھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی ۔
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. What may be eaten of the meat of sacrifices and what may be taken as journey food.
قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اورکتناجمع کر کے رکھا جائے ۔
8 Hadith
No chapter matched that.