صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب لباس کے بیان میں

The book of dress.

بالوں میں الگ سے بناوٹی چٹیا لگانا اوردوسرے بال جوڑنا

(83) CHAPTER. The use of false hair.

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ بِيَدِ حَرَسِيٍّ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ ، وَيَقُولُ : إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ .

Narrated Humaid bin `Abdur-Rahman bin `Auf: that in the year he performed Hajj. he heard Mu'awiya bin Abi Sufyan, who was on the pulpit and was taking a tuft of hair from one of his guards, saying, Where are your religious learned men? I heard Allah's Apostle forbidding this (false hair) and saying, 'The children of Israel were destroyed when their women started using this.'

ہم سے اسماعیل بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔

وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ .

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Allah has cursed the lady who artificially lengthens (her or someone else's) hair and the one who gets her hair lengthened and the One who tattoos (herself or someone else) and the one who gets herself tattooed

اور ابن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے۔“

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ ، وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا ، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهَا ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ، تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ .

Narrated `Aisha: An Ansari girl was married and she became sick and all her hair fell out intending to provide her with false hair. They asked the Prophet who said, Allah has cursed the lady who artificially lengthens (her or someone else's) hair and also the one who gets her hair lengthened.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے حسن بن مسلم بن نیاق سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے، اس کے گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں مصنوعی بال لگا دیں۔ اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی ابان بن صالح سے، انہوں نے حسن بن مسلم سے، انہوں نے صفیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَنْكَحْتُ ابْنَتِي ثُمَّ أَصَابَهَا شَكْوَى فَتَمَرَّقَ رَأْسُهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحِثُّنِي بِهَا ، أَفَأَصِلُ رَأْسَهَا ؟ فَسَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ .

Narrated Asma: (the daughter of Abu' Bakr) A woman came to Allah's Apostle and said, I married my daughter to someone, but she became sick and all her hair fell out, and (because of that) her husband does not like her. May I let her use false hair? On that the Prophet cursed such a lady as artificially lengthening (her or someone else's) hair or got her hair lengthened artificially.

مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میری والدہ صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی ہے اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے اور اس کا شوہر مجھ پر اس کے معاملہ میں زور دیتا ہے۔ کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں کو برا کہا، ان پر لعنت بھیجی۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنِ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ .

Narrated Asma': (the daughter of Abu Bakr) Allah's Apostle has cursed such a lady as artificially lengthening (her or someone else's) hair or gets her hair lengthened.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کی بیوی فاطمہ نے، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَقَالَ نَافِعٌ : الْوَشْمُ فِي اللِّثَةِ .

Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, Allah has cursed such a lady as lengthens (her or someone else's) hair artificially or gets it lengthened, and also a lady who tattoos (herself or someone else) or gets herself tattooed.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو عبیداللہ عمری نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں پر، جڑوانے والیوں پر، گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے۔“ نافع نے کہا کہ گودنا کبھی مسوڑے پر بھی گودا جاتا ہے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا فَخَطَبَنَا ، فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ قَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ ، يَعْنِي الْوَاصِلَةَ فِي الشَّعَرِ .

Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab: Mu'awiya came to Medina for the last time and delivered a sermon. He took out a tuft of hair and said, I thought that none used to do this (i.e. use false hair) except Jews. The Prophet labelled such practice, (i.e. the use of false hair), as cheating.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ آخری مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکال کے کہا کہ یہ یہودیوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «زور‏.‏» یعنی فریبی فرمایا یعنی جو بالوں میں جوڑ لگائے تو ایسا آدمی مرد ہو یا عورت وہ مکار ہے جو اپنے مکر و فریب پر اس طور پر پردہ ڈالتا ہے۔