صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب نماز کے احکام و مسائل

The book of as-salat (the prayer).

ستونوں کی آڑ میں نماز پڑھنا

(95) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayer) facing a pillar.

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ ، قَالَ : فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا .

Narrated Yazid bin Al `Ubaid: I used to accompany Salama bin Al-Akwa` and he used to pray behind the pillar which was near the place where the Qur'ans were kept. I said, O Abu Muslim! I see you always seeking to pray behind this pillar. He replied, I saw Allah's Apostle always seeking to pray near that pillar.

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، کہا کہ میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( مسجد نبوی میں ) حاضر ہوا کرتا تھا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اے ابومسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور سے اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ ، وَزَادَ شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسٍ ، حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

Narrated Anas: I saw the most famous people amongst the companions of the Prophet hurrying towards the pillars at the Maghrib prayer before the Prophet came for the prayer.

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن عامر سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ مغرب ( کی اذان ) کے وقت ستونوں کی طرف لپکتے۔ اور شعبہ نے عمرو بن عامر سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے ( اس حدیث میں ) یہ زیادتی کی ہے۔ ”یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے باہر تشریف لاتے۔“