صحیح بخاری

Sahih Bukhari

کتاب نماز کے احکام و مسائل

The book of as-salat (the prayer).

اس شخص کی دلیل جس نے یہ کہا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی

(105) CHAPTER. Whoever said: “Nothing annuls As-Salat (the prayer) (i.e. nothing of what others do, not the praying person himself).”

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ، فَقَالَتْ : شَبَّهْتُمُونَا بِالْحُمُرِ وَالْكِلَابِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مُضْطَجِعَةً ، فَتَبْدُو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فَأُوذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْدِ رِجْلَيْهِ .

Narrated `Aisha: The things which annual prayer were mentioned before me (and those were): a dog, a donkey and a woman. I said, You have compared us (women) to donkeys and dogs. By Allah! I saw the Prophet praying while I used to lie in (my) bed between him and the Qibla. Whenever I was in need of something, I disliked to sit and trouble the Prophet. So, I would slip away by the side of his feet.

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا، کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم نے اسود کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (دوسری سند) اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے مسلم بن صبیح نے مسروق کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کے سامنے ان چیزوں کا ذکر ہوا۔ جو نماز کو توڑ دیتی ہیں یعنی کتا، گدھا اور عورت۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کر دیا۔ حالانکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی۔ مجھے کوئی ضرورت پیش آئی اور چونکہ یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوں ) بیٹھوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو۔ اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَمَّهُ عَنِ الصَّلَاةِ يَقْطَعُهَا شَيْءٌ ، فَقَالَ : لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ .

Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) Allah's Apostle used to get up at night and pray while I used to lie across between him and the Qibla on his family's bed.

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ کیا نماز کو کوئی چیز توڑ دیتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں، اسے کوئی چیز نہیں توڑتی۔ کیونکہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان عرض میں بستر پر لیٹی رہتی تھی۔