TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-maharbeen. - کتاب ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں - Book 88 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 88 of Sahih Bukhari, with 32 chapters and 59 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

59 Hadith · 32 Chapters
(15) CHAPTER. The Chapter of (the punishement for) those who wage war (against Allah and His Messenger) from the people who are disbelievers and from those who have turned renegades (converted from Islam). And the Statement of Allah: The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger, and do mischief in the land is only that they shall be killed or crucified, or their hands and their feet be cut off on the opppsite sides, or be exiled from the land... (V.5:33)
اور اللہ نے ( سورۃ المائدہ : 33 ) میں فرمایا کہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَفَعَلُوا ، فَصَحُّوا ، فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ ، وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا .
Narrated Anas: Some people from the tribe of `Ukl came to the Prophet and embraced Islam. The climate of Medina did not suit them, so the Prophet ordered them to go to the (herd of milch) camels of charity and to drink, their milk and urine (as a medicine). They did so, and after they had recovered from their ailment (became healthy) they turned renegades (reverted from Islam) and killed the shepherd of the camels and took the camels away. The Prophet sent (some people) in their pursuit and so they were (caught and) brought, and the Prophets ordered that their hands and legs should be cut off and that their eyes should be branded with heated pieces of iron, and that their cut hands and legs should not be cauterized, till they die.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی ( ان کے پیٹ پھول گئے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں ( کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا ) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
6802
Sahih
(16) CHAPTER. The Prophet did not cauterize (the amputated limbs of) those who fought (against Allah and His Messenger) and of those who were renegades (reverted from Islam) (therefore they bled) till they died.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرتد ڈاکوؤں کے ( زخموں پر ) داغ نہیں لگوایا ، یہاں تک کہ وہ مرگئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَطَعَ الْعُرَنِيِّينَ ، وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا .
Narrated Anas: The Prophet cut off the hands and feet of the men belonging to the tribe of `Uraina and did not cauterise (their bleeding limbs) till they died.
ہم سے ابویعلیٰ محمد بن صلت نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے ( ہاتھ پاؤں ) کٹوا دئیے لیکن ان پر داغ نہیں لگوایا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
6803
Sahih
(17) CHAPTER. No water was given to drink to those who turned renegades and fought (against Allah and His Messenger), till they died.
مرتد لڑنے والوں کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مرجائیں
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُكْلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي الصُّفَّةِ ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْغِنَا رِسْلًا ، فَقَالَ : مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقُوا بِإِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ ، فَأَتَوْهَا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ، حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا ، وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّرِيخُ ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ ، فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ ، فَكَحَلَهُمْ وَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ ، وَأَرْجُلَهُمْ وَمَا حَسَمَهُمْ ، ثُمَّ أُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ ، فَمَا سُقُوا حَتَّى مَاتُوا قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Narrated Anas: A group of people from `Ukl (tribe) came to the Prophet and they were living with the people of As- Suffa, but they became ill as the climate of Medina did not suit them, so they said, O Allah's Apostle! Provide us with milk. The Prophet said, I see no other way for you than to use the camels of Allah's Apostle. So they went and drank the milk and urine of the camels, (as medicine) and became healthy and fat. Then they killed the shepherd and took the camels away. When a help-seeker came to Allah's Apostle, he sent some men in their pursuit, and they were captured and brought before mid day. The Prophet ordered for some iron pieces to be made red hot, and their eyes were branded with them and their hands and feet were cut off and were not cauterized. Then they were put at a place called Al- Harra, and when they asked for water to drink they were not given till they died. (Abu Qilaba said, Those people committed theft and murder and fought against Allah and His Apostle. )
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنہ ۶ ھ میں آئے اور یہ لوگ مسجد کے سائبان میں ٹھہرے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے دودھ کہیں سے مہیا کرا دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ تم لوگ ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ آئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو کر موٹے تازے ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فریادی پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ انہیں پکڑ کر لایا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سلائیاں گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کے ( زخم سے خون کو روکنے کے لیے ) انہیں داغا بھی نہیں گیا۔ اس کے بعد وہ حرہ ( مدینہ کی پتھریلی زمین ) میں ڈال دئیے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ اس وجہ سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔
6804
Sahih
(18) CHAPTER. The Prophet branded the eyes of those who fought (against Allah and His Messenger ).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتدین لڑنے والوں کی آنکھوں میں سلائی پھروانا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ عُكْلٍ ، قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَشَرِبُوا حَتَّى إِذَا بَرِئُوا ، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : هَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Narrated Anas bin Malik: A group of people from `Ukl (or `Uraina) tribe ----but I think he said that they were from `Ukl came to Medina and (they became ill, so) the Prophet ordered them to go to the herd of (Milch) she-camels and told them to go out and drink the camels' urine and milk (as a medicine). So they went and drank it, and when they became healthy, they killed the shepherd and drove away the camels. This news reached the Prophet early in the morning, so he sent (some) men in their pursuit and they were captured and brought to the Prophet before midday. He ordered to cut off their hands and legs and their eyes to be branded with heated iron pieces and they were thrown at Al-Harra, and when they asked for water to drink, they were not given water. (Abu Qilaba said, Those were the people who committed theft and murder and reverted to disbelief after being believers (Muslims), and fought against Allah and His Apostle ).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔
6805
Sahih
(19) CHAPTER. The superiority of the person who leaves Al-Fawahish (all kinds of illegal sexual acts and evil deeds).
جس نے فواحش ( زناکاری اغلام بازی وغیرہ ) کو چھوڑ دیا اس کی فضیلت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا ، قَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ، فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, Seven (people) will be shaded by Allah by His Shade on the Day of Resurrection when there will be no shade except His Shade. (They will be), a just ruler, a young man who has been brought up in the worship of Allah, a man who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man whose heart is attached to mosques (offers his compulsory congregational prayers in the mosque), two men who love each other for Allah's Sake, a man who is called by a charming lady of noble birth to commit illegal sexual intercourse with her, and he says, 'I am afraid of Allah,' and (finally), a man who gives in charity so secretly that his left hand does not know what his right hand has given.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“
6806
Sahih
(19) CHAPTER. The superiority of the person who leaves Al-Fawahish (all kinds of illegal sexual acts and evil deeds).
جس نے فواحش ( زناکاری اغلام بازی وغیرہ ) کو چھوڑ دیا اس کی فضیلت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ .
Narrated Sahl bin Sa`d: The Prophet said, Whoever guarantees me (the chastity of) what is between his legs (i.e. his private parts), and what is between his jaws (i.e., his tongue), I guarantee him Paradise.
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے خلیفہ بن حیاط نے بیان کیا، ان سے عمر بن علی نے، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان یعنی ( شرمگاہ ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان ( یعنی زبان ) کی ضمانت دے دی تو میں اسے جنت میں جانے کا بھروسہ دلاتا ہوں۔“
6807
Sahih
(20) CHAPTER. The sin of illegal sexual intercourse.
زنا کے گناہ کا بیان
أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ وَإِمَّا قَالَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً ، الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ .
Narrated Anas: I will narrate to you a narration which nobody will narrate to you after me. I heard that form the Prophet. I heard the Prophet saying, The Hour sill not be established or said: From among the portents of the Hour is that the religious knowledge will betaken away (by the death of religious Scholars) and general ignorance (of religion) will appear; and the drinking of alcoholic drinks will be very common, and (open) illegal sexual intercourse will prevail, and men will decrease in number while women will increase so much so that, for fifty women there will only be one man to look after them.
ہمیں داؤد بن شبیب نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم کو انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا۔ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہو گی۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک ہی خبر لینے والا مرد رہ جائے گا۔
6808
Sahih
(20) CHAPTER. The sin of illegal sexual intercourse.
زنا کے گناہ کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزْنِي الْعَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، قَالَ عِكْرِمَةُ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ ؟ قَالَ : هَكَذَا : وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا ، فَإِنْ تَابَ ، عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا : وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .
Narrated 'Ikrima from Ibn 'Abbas: Allah's Apostles said, When a slave (of Allah) commits illegal sexual intercourse, he is not a believer at the time of committing it; and if he steals, he is not a believer at the time of stealing; and if he drinks an alcoholic drink, when he is not a believer at the time of drinking it; and he is not a believer when he commits a murder, 'Ikrima said: I asked Ibn Abbas, How is faith taken away from him? He said, Like this, by clasping his hands and then separating them, and added, But if he repents, faith returns to him like this, by clasping his hands again.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن یوسف نے خبر دی، کہا ہم کو فضیل بن غزوان نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ بندہ جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور جب وہ قتل ناحق کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایمان اس سے کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس طرح اور اس وقت آپ ان نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر الگ کر لیا پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔
6809
Sahih
(20) CHAPTER. The sin of illegal sexual intercourse.
زنا کے گناہ کا بیان
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The one who commits an illegal sexual intercourse is not a believer at the time of committing illegal sexual intercourse and a thief is not a believer at the time of committing theft and a drinker of alcoholic drink is not a believer at the time of drinking. Yet, (the gate of) repentance is open thereafter.
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ذکوان نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“
6810
Sahih
(20) CHAPTER. The sin of illegal sexual intercourse.
زنا کے گناہ کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا ، وَهُوَ خَلَقَكَ . قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ ، مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ، قَالَ يَحْيَى : وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : مِثْلَهُ . قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُهُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ حَدَّثَنَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ، وَوَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، قَالَ : دَعْهُ دَعْهُ .
Narrated `Abdullah bin Mas`ud: I said, O Allah's Apostle! Which is the biggest sin? He said, To set up rivals to Allah by worshipping others though He alone has created you. I asked, What is next? He said, To kill your child lest it should share your food. I asked, What is next? He said, To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک بناؤ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خطرے سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ عمرو نے کہا کہ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن مہدی سے کیا اور انہوں نے ہم سے یہ حدیث سفیان ثوری سے بیان کی، ان سے اعمش، منصور اور واصل نے، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابومیسرہ نے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا کہ تم اس سند کو جانے بھی دو۔
6811
Sahih
(21) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married person who commits illegal sexual intercourse.
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ رَجَمَ الْمَرْأَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَقَالَ : قَدْ رَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ash-Shu`bi: from `Ali when the latter stoned a lady to death on a Friday. `Ali said, I have stoned her according to the tradition of Allah's Apostle.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب انہوں نے جمعہ کے دن عورت کو رجم کیا تو کہا کہ میں نے اس کا رجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کیا ہے۔
6812
Sahih
(21) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married person who commits illegal sexual intercourse.
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : قَبْلَ سُورَةِ النُّورِ أَمْ بَعْدُ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .
Narrated Ash Shaibani: I asked `Abdullah bin Abi `Aufa, 'Did Allah's Apostle carry out the Rajam penalty ( i.e., stoning to death)?' He said, Yes. I said, Before the revelation of Surat-an-Nur or after it? He replied, I don't Know.
مجھ سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے پوچھا: سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں ( امر نامعلوم کے لیے اظہار لاعلمی کر دینا بھی امر محمود ہے ) ۔
6813
Sahih
(21) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married person who commits illegal sexual intercourse.
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ قَدْ زَنَى ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ ، وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ .
Narrated Jabir bin `Abdullah Al-Ansari: A man from the tribe of Bani Aslam came to Allah's Apostle and Informed him that he had committed illegal sexual intercourse and bore witness four times against himself. Allah's Apostle ordered him to be stoned to death as he was a married Person.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے زنا کیا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے زنا کا چار مرتبہ اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا اور انہیں رجم کیا گیا، وہ شادی شدہ تھے۔
6814
Sahih
(22) CHAPTER. An insane male or female should not be stoned to death.
پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنِّي زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، حَتَّى رَدَّدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ أَحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ ؟
Narrated Abu Huraira: A man came to Allah's Apostle while he was in the mosque, and he called him, saying, O Allah's Apostle! I have committed illegal sexual intercourse.' The Prophet turned his face to the other side, but that man repeated his statement four times, and after he bore witness against himself four times, the Prophet called him, saying, Are you mad? The man said, No. The Prophet said, Are you married? The man said, Yes. Then the Prophet said, 'Take him away and stone him to death.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ انہوں نے یہ بات چار دفعہ دہرائی جب چار دفعہ انہوں نے اس گناہ کی اپنے اوپر شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور دریافت فرمایا کیا تم دیوانے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔
6815
Sahih
(22) CHAPTER. An insane male or female should not be stoned to death.
پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ ، فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ ، فَرَجَمْنَاهُ .
Jabir bin `Abdullah said: I was among the ones who participated in stoning him and we stoned him at the Musalla. When the stones troubled him, he fled, but we over took him at Al-Harra and stoned him to death.
ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر مجھے انہوں نے خبر دی، جنہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ رجم کرنے والوں میں، میں بھی تھا ہم نے انہیں آبادی سے باہر عیدگاہ کے پاس رجم کیا تھا جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن ہم نے انہیں حرہ کے پاس پکڑا اور رجم کر دیا۔
6816
Sahih
(23) CHAPTER. The stone is for a person who committed illegal sexual intercourse.
زنا کرنے والے کے لیے پتھروں کی سزا
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : اخْتَصَمَ سَعْدٌ ، وَابْنُ زَمْعَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ، زَادَ لَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ اللَّيْثِ : وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .
Narrated `Aisha: Sa`d bin Abi Waqqas and `Abd bin Zam`a quarrelled with each other (regarding a child). The Prophet said, The boy is for you, O `Abd bin Zam`a, for the boy is for (the owner) of the bed. O Sauda ! Screen yourself from the boy. The sub-narrator, Al-Laith added (that the Prophet also said), And the stone is for the person who commits an illegal sexual intercourse.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں ( ایک بچے عبدالرحمٰن نامی میں ) اختلاف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبد بن زمعہ! بچہ تو لے لے بچہ اسی کو ملے گا جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے وہ پیدا ہوا اور سودہ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قتیبہ نے لیث سے اس زیادہ کے ساتھ بیان کیا کہ زانی کے حصہ میں پتھر کی سزا ہے۔
6817
Sahih
(23) CHAPTER. The stone is for a person who committed illegal sexual intercourse.
بلاط میں رجم کرنا
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The boy is for (the owner of) the bed and the stone is for the person who commits illegal sexual intercourse.'
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑکا اسی کو ملتا ہے جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے ہوا ہو اور حرام کار کے لیے صرف پتھر ہیں۔“
6818
Sahih
(23) CHAPTER. The stone is for a person who committed illegal sexual intercourse.
بلاط میں رجم کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ ، قَدْ أَحْدَثَا جَمِيعًا ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ ، قَالُوا : إِنَّ أَحْبَارَنَا أَحْدَثُوا تَحْمِيمَ الْوَجْهِ وَالتَّجْبِيهَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : ادْعُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالتَّوْرَاةِ ، فَأُتِيَ بِهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ لَهُابْنُ سَلَامٍ : ارْفَعْ يَدَكَ فَإِذَا آيَةُ الرَّجْمِ تَحْتَ يَدِهِ : فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا . قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَرُجِمَا عِنْدَ الْبَلَاطِ ، فَرَأَيْتُ الْيَهُودِيَّ أَجْنَأَ عَلَيْهَا .
Narrated Ibn `Umar: A Jew and a Jewess were brought to Allah's Apostle on a charge of committing an illegal sexual intercourse. The Prophet asked them. What is the legal punishment (for this sin) in your Book (Torah)? They replied, Our priests have innovated the punishment of blackening the faces with charcoal and Tajbiya. `Abdullah bin Salam said, O Allah's Apostle, tell them to bring the Torah. The Torah was brought, and then one of the Jews put his hand over the Divine Verse of the Rajam (stoning to death) and started reading what preceded and what followed it. On that, Ibn Salam said to the Jew, Lift up your hand. Behold! The Divine Verse of the Rajam was under his hand. So Allah's Apostle ordered that the two (sinners) be stoned to death, and so they were stoned. Ibn `Umar added: So both of them were stoned at the Balat and I saw the Jew sheltering the Jewess.
ہم سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے ( اس کی سزا ) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ ( اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو ) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط ( مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ ) میں رجم کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔
6819
Sahih
(25) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) at the Musalla (the open place where Eid prayer take place).
عیدگاہ میں رجم کرنا ( عیدگاہ کے پاس یا خود عیدگاہ میں )
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ ، جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أُحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ ، فَرَّ ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرًا وَصَلَّى عَلَيْهِ لَمْ يَقُلْ يُونُسُ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ : فَصَلَّى عَلَيْهِ . سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : فَصَلَّى عَلَيْهِ يَصِحُّ . قَالَ : رَوَاهُ مَعْمَرٌ ، قِيلَ لَهُ رَوَاهُ غَيْرُ مَعْمَرٍ ، قَالَ : لَا .
Narrated Jabir: A man from the tribe of Aslam came to the Prophet and confessed that he had committed an illegal sexual intercourse. The Prophet turned his face away from him till the man bore witness against himself four times. The Prophet said to him, Are you mad? He said No. He said, Are you married? He said, Yes. Then the Prophet ordered that he be stoned to death, and he was stoned to death at the Musalla. When the stones troubled him, he fled, but he was caught and was stoned till he died. The Prophet spoke well of him and offered his funeral prayer.
مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ( ماعز بن مالک ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا۔ پھر جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم دیوانے ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انہیں عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور ان کا جنازہ ادا کیا اور ان کی تعریف کی جس کے وہ مستحق تھے۔
6820
Sahih
(26) CHAPTER. If somebody commits a sin which is less than what deserve the legal punishment; and then informs the ruler, no punishment is to be inflicted on him after his repentance to Allah if he comes to the ruler with the intention of asking for a verdict about his sin.
جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں ( مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا )
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : هَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ .
Narrated Abu Huraira: A person had sexual relation with his wife in the month of Ramadan (while he was fasting), and he came to Allah's Apostle seeking his verdict concerning that action. The Prophet said (to him), Can you afford to manumit a slave? The man said, No. The Prophet said, Can you fast for two successive months? He said, No. The Prophet said, Then feed sixty poor persons.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا دو مہینے روزے رکھنے کی تم میں طاقت نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا کہ پھر ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلاؤ۔
6821
Sahih

Chapters

32
01
(15) CHAPTER. The Chapter of (the punishement for) those who wage war (against Allah and His Messenger) from the people who are disbelievers and from those who have turned renegades (converted from Islam). And the Statement of Allah: The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger, and do mischief in the land is only that they shall be killed or crucified, or their hands and their feet be cut off on the opppsite sides, or be exiled from the land... (V.5:33)
اور اللہ نے ( سورۃ المائدہ : 33 ) میں فرمایا کہ
1 Hadith
02
(16) CHAPTER. The Prophet did not cauterize (the amputated limbs of) those who fought (against Allah and His Messenger) and of those who were renegades (reverted from Islam) (therefore they bled) till they died.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مرتد ڈاکوؤں کے ( زخموں پر ) داغ نہیں لگوایا ، یہاں تک کہ وہ مرگئے
1 Hadith
03
(17) CHAPTER. No water was given to drink to those who turned renegades and fought (against Allah and His Messenger), till they died.
مرتد لڑنے والوں کو پانی بھی نہ دینا یہاں تک کہ پیاس سے وہ مرجائیں
1 Hadith
04
(18) CHAPTER. The Prophet branded the eyes of those who fought (against Allah and His Messenger ).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتدین لڑنے والوں کی آنکھوں میں سلائی پھروانا
1 Hadith
05
(19) CHAPTER. The superiority of the person who leaves Al-Fawahish (all kinds of illegal sexual acts and evil deeds).
جس نے فواحش ( زناکاری اغلام بازی وغیرہ ) کو چھوڑ دیا اس کی فضیلت
2 Hadith
06
(20) CHAPTER. The sin of illegal sexual intercourse.
زنا کے گناہ کا بیان
4 Hadith
07
(21) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married person who commits illegal sexual intercourse.
محصن ( شادیشدہ کو زنا کی علت میں ) سنگسار کرنا
3 Hadith
08
(22) CHAPTER. An insane male or female should not be stoned to death.
پاگل مرد یا عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا
2 Hadith
09
(23) CHAPTER. The stone is for a person who committed illegal sexual intercourse.
زنا کرنے والے کے لیے پتھروں کی سزا
1 Hadith
10
(23) CHAPTER. The stone is for a person who committed illegal sexual intercourse.
بلاط میں رجم کرنا
2 Hadith
11
(25) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) at the Musalla (the open place where Eid prayer take place).
عیدگاہ میں رجم کرنا ( عیدگاہ کے پاس یا خود عیدگاہ میں )
1 Hadith
12
(26) CHAPTER. If somebody commits a sin which is less than what deserve the legal punishment; and then informs the ruler, no punishment is to be inflicted on him after his repentance to Allah if he comes to the ruler with the intention of asking for a verdict about his sin.
جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں ( مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا )
2 Hadith
13
(27) CHAPTER. If a person confesses that he has committed a sin that is punishement with one of the legal punishement but does not specify what sin it has been, can the ruler screen it for him?
جب کوئی شخص حد ( والے گناہ ) کا اقرار غیرواضح طور پر کرے تو کیا امام کو اس کی پردہپوشی کرنی چاہئے
1 Hadith
14
(28) CHAPTER. Can a ruler say to the one who confesses his crime of adultery, “Can't be that you have only touched the lady or winked at her?
کیا امام ( زنا کا ) اقرار کرنے والے سے یہ کہے کہ شایدتو نے چھوا ہو یا آنکھ سے اشارہ کیا ہو
1 Hadith
15
(29) CHAPTER. The question of the ruler to the confessing person, “Are you married?
زنا کا اقرار کرنے والے سے امام کا پوچھنا کہ کیا تم شادیشدہ ہو ؟
3 Hadith
16
(30) CHAPTER. To confess being guilty of an illegal sexual intercourse.
زنا کا اقرار کرنا
2 Hadith
17
(31) CHAPTER. The Rajm (stoning to death) of a married lady who has become pregnant through illegal sexual intercourse.
زنا سے حاملہ ہونے والی عورت کو رجم کرنے کا بیان جب کہ وہ شادیشدہ ہو
1 Hadith
18
(32) CHAPTER. Unmarried males and females (committing illegal sexual intercourse) should be flogged and exiled.
غیرشادیشدہ مرد و عورت کو کوڑے مارے جائیں اور ملک بدر کیا جائے
3 Hadith
19
(33) CHAPTER. Exiling the sinners and effeminate men [those men who assume the similitude (manners) of women].
بدکاروں اور مخنثوں کا شہر بدر کرنا
1 Hadith
20
(34) CHAPTER. Whoever ordered somebody other than the ruler to carry out the legal punishment in the absence of the ruler.
جو شخص حاکم اسلام کے پاس نہ ہو ( کہیں اور ہو ) لیکن اس کو حد لگانے کے لیے حکم دیا جائے
2 Hadith
21
(35b) CHAPTER. If a lady-slave commits illegal sexual intercourse (then what is her legal punishement?)
جب کوئی کنیز زنا کرائے
3 Hadith
22
(37) CHAPTER. The legal regulation for non-Muslims under the protection of a Muslim state. The fact that a non-Muslim is married, is to be taken into consideration when he commits illegal sexual intercourse and is brought to the Iman (Muslim ruler).
لونڈی کو شرعی سزا دینے کے بعد پھر ملامت نہ کرے نہ لونڈی جلاوطن کی جائے
1 Hadith
23
(37) CHAPTER. The legal regulation for non-Muslims under the protection of a Muslim state. The fact that a non-Muslim is married, is to be taken into consideration when he commits illegal sexual intercourse and is brought to the Iman (Muslim ruler).
ذمیوں کے احکام اور اگر شادی کے بعد انہوں نے زنا کیا اور امام کے سامنے پیش ہوئے تو اس کے احکام کا بیان
1 Hadith
24
(38) CHAPTER. If someone accuses his wife or another person's wife of committing illegal sexual intercourse in the presence of the ruler and the people,should the ruler send for the lady and ask her about what she has been accused of?
اگر حاکم کے سامنے کوئی شخص اپنی عورت کو یا کسی دوسرے کی عورت کو زنا کی تہمت لگائے تو کیا حاکم کو یہ لازم ہے کہ کسی شخص کو عورت کے پاس بھیج کر اس تہمت کا حال دریافت کرائے
2 Hadith
25
(39) CHAPTER. Whoever teaches manners to (or inflicts punishement on) his family or others without taking the ruler's permission.
حاکم کی اجازت کے بغیر اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں یا کسی اور کو تنبیہ کرے
2 Hadith
26
(40) CHAPTER. Whoever saw his wife with (committing illegal sexual intercourse) with another man and killed him.
اس مرد کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھا اور اسے قتل کر دیا ۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
1 Hadith
27
(41) CHAPTER. What is said regarding At-Tarid (i.e., roundabout way of saying something).
اشارے کنائے کے طور پر کوئی بات کہنا اس کو تعریض کہتے ہیں ۔
1 Hadith
28
(42) CHAPTER. What Punishment may be inflicted on the person so that he may not commit the same sin again, or so that he may learn good manners.
تنبیہ اور تعزیر یعنی حد سے کم سزا کتنی ہونی چاہئے
2 Hadith
29
(42) CHAPTER. What Punishment may be inflicted on the person so that he may not commit the same sin again, or so that he may learn good manners.
اگر کسی شخص کی بےحیائی اور بے شرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرائن سے یہ امر کھل جائے
7 Hadith
30
(44) CHAPTER. To accuse the chaste women.
پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا گناہ ہے
1 Hadith
31
(45) CHAPTER. Slandering the slaves (accusing them for committing illegal sexual intercourse).
غلاموں پر ناحق تہمت لگانا بڑا گناہ ہے
1 Hadith
32
(46) CHAPTER. Can a ruler order somebody to inflict the legal punishment on someone without himself being present? Umar did so (during his caliphate).
اگر امام کسی شخص کو حکم کرے کہ جا فلاں شخص کو حد لگا جو غائب ہو ( یعنی امام کے پاس موجود نہ ہو ) حضرت عمر رضیاللہعنہ نے ایسا کیا ہے ۔
2 Hadith
No chapter matched that.