علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل - علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل - The book of the sunnah - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 14 of The book of the sunnah in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated that 'Ali said:
The Unlettered Prophet informed me (saying) that none but a believer would love me and none but a hypocrite would hate me.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا ۔
Sa'd bin Abu Waqqas narrated from his father that:
The Prophet said to 'Ali: Would it not please you to be to me as Harun was to Musa?
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/المناقب ۹ (۳۷۰۶)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۴ (۲۴۰۴)، (تحفة الأشراف: ۳۸۴۰)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب ۲۱ (۳۷۳۱)، مسند احمد (۱/۱۷۰، ۱۷۷، ۳/۳۲)
Explanation
یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے (غزوۂ تبوک کی تفصیلات دیکھئے)، بعض منافقوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بزدلی کا طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ تم کو بزدلی کے سبب مدینہ میں چھوڑ گئے، ان کو تکلیف ہوئی، رسول اللہ ﷺ سے شکوہ کیا، تب آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی ہے، اور اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: «إلا أنه لا نبي بعدي» یعنی اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی جیسے ہارون علیہ السلام نبی تھے، اس حدیث سے نبی اکرم ﷺ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بعد موسیٰ کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے۔
It was narrated that Bara' bin 'Azib said:
We returned with the Messenger of Allah from his Hajj that he had performed, and we stopped at some point on the road. He commanded that prayer should be performed in congregation, then he took the hand of 'Ali and said: 'Am I not dearer to the believers than their own selves?' They said: 'Yes indeed.' He said: 'Am I not dearer to every believer than his own self?' They said: 'Yes indeed.' He said: 'This man is the friend of those whose master I am.' O Allah, take as friends those who take him as a friend, and take as enemies those who take him as an enemy.'
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا:«الصلاة جامعة»، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( علی ) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۷۹۷، ومصباح الزجاجة: ۴۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۸۱)
Explanation
یہ حدیث نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیرخم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل پر استدلال درست نہیں: ۱۔ کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے ۲۔ ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے، ۳۔ امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں، ۴۔ خلفاء ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں، ۵۔ اگر اس سے خلافت بلافصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہرگز اس سے عدول نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے، ۶۔ اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abu laila said:
Abu Laila used to travel with 'Ali, and he used to wear summer clothes in winter and winter clothes in summer. We said: 'Why don't you ask him (about that)?' He said: The Messenger of Allah sent for me and my eyes were sore, on the Day of Khaibar. I said: 'O Messenger of Allah, my eyes are sore.' He put some spittle into my eyes, then he said: 'O Allah, take heat and cold away from him.' I never felt hot or cold again after that day. He (the Prophet) said: 'I will send a man who loves Allah and His Messenger, and whom Allah and His Messenger love, and he is not one who flees from the battlefield.' The people craned their necks to see, and he sent for 'Ali and gave it (the banner) to him.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے ( جواباً ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور ( حاضر خدمت ہو کر ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر دعا فرمائی: اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے آدمی کو ( جہاد کا قائد بنا کر ) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے ۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۱۳، ومصباح الزجاجة: ۴۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۹۹، ۱۳۳)
Explanation
۱ ؎: غزوہ خیبر ۷ ھ میں ہوا، اور خیبر مدینہ سے شمال میں شام کی طرف واقع ہے، یہ حدیث بھی مؤید ہے کہ اوپر والی حدیث میں مولیٰ سے دوستی اور محبت مراد ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے محبت کی تصریح فرمائی ہے۔
It was narrated that Ibn 'Umar said:
The Messenger of Allah said: 'Hasan and Husain will be the leaders of the youth of Paradise, and their father is better than them.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۸۴۳۴، ومصباح الزجاجة: ۵۰)
It was narrated that Hubshi bin Junadah said:
I heard the Messenger of Allah say: ''Ali is part of me and I am part of him, and no one will represent me except 'Ali.'
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/المنا قب ۲۱ (۳۷۱۹)، (تحفة الأشراف: ۳۲۹۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶۴، ۱۶۵)
Explanation
رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے بطور عذر، اور علی رضی اللہ عنہ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر حج تھے، اور سورۃ براءت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کر سکتا تھا، لہذا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، رضی اللہ عنہم۔
It was narrated that 'Abbad bin 'Abdullah said:
'Ali said: 'I am the slave of Allah and the brother of His Messenger. I am the greatest teller of the truth (Siddiq Akbar), and no one will say this after me except a liar. I prayed seven years before the people.
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۱۵۷، ومصباح الزجاجة: ۵۱)
It was narrated that Sa`d bin Waqqas said:
Mu`awiyah came on one of his pilgrimages and Sa`d entered upon him. They mentioned `Ali, and Mu`awiyah criticized him. Sa`d became angry and said: 'Are you saying this of a man of whom I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If I am a person's close friend, `Ali is also his close friend. And I heard him say: You are to me like Harun was to Musa, except that there will be no Prophet after me. And I heard him say: I will give the banner today to a man who loves Allah and His Messenger.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۳۹۰۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۹ (۳۷۰۶)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۴ (۲۴۰۴)، سنن الترمذی/المناقب ۲۱ (۳۷۲۴)، مسند احمد (۱/۸۴، ۱۱۸)
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.